بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیۡکَ یَا رَسُوۡلَ اللّٰہ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصۡحٰبِکَ یَا حَبِیۡبَ اللّٰہ
Admin Login
🗓 EVENTS
26 Jun عید الاضحیٰ مبارک 5 Sep عید میلاد النبی ﷺ 24 April عرسِ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ 29 Apr عید الفطر مبارک 26 Jun عید الاضحیٰ مبارک 5 Sep عید میلاد النبی ﷺ 24 April عرسِ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ 29 Apr عید الفطر مبارک
Muhammad Akhtar Raza Khan Azhari
Muhammad Akhtar Raza Khan Azhari محمد اختر رضا خان ازہری  رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُ

تاریخ اسلام میں ایسے بے شمار نام محفوظ ہیں جن کے کارہائے نمایاں رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے لیکن جب ذکر سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کا آجائے تو تاریخ ڈھونڈتی ہے کہ ان جیسا دوسراکوئی ایک ہی اسے اپنے دامن میں مل جائے ۔ کوئی کسی فن کا امام ہے تو کوئی کسی علم کا ماہر لیکن سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ ہر علم ، ہر فن کے آفتاب و ماہتاب ہیں . جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے۔

جہاں مالک قدیر نے آپ کو ،نامور آباؤ اجداد اور معزز و مقدس قبیلہ میں پیدا فرمایا وہیں آپ کی اولاد اورخاندان میں بھی بے شمار بے مثال ولاجواب افراد پیدا فرمائے ۔ استاد زمن ، حجۃ الاسلام ، مفتئ اعظم ،مفسر اعظم ،حکیم الاسلام، ریحان ملت ، صدر العلماء ، امین شریعت جس کسی کو دیکھ لیجئے ہر ایک اپنی مثال آپ ہے.

انہی میں ایک نام سر سبز وشاداب باغِ رضا کے گل شگفتہ ، روشن روشن فلک رضا کے نیر تاباں قاضی القضاۃ فی الہند ، جانشین مفتئ اعظم ،حضور تاج الشریعہ حضرۃ العلام مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہ علینا کا بھی ہے ۔

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم رضا خاں قادری جیلانی کے لخت جگر ، سرکار مفتئ اعظم ہند علامہ مفتی مصطفی رضاخاں قادری نوری کے سچے جانشین ،حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خاں قادری رضوی کے مظہر اور سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی کی برکات و فیوضات کا منبع اور ان کے علوم و روایتوں کے وراث و امین ہیں۔ان عظیم نسبتوں کا فیضان آپ کی شخصیت میں اوصاف حمیدہ اور اخلاق کریمانہ کی صورت میں جھلک رہا ہے ۔استاذ الفقہأ حضرت علامہ مفتی عبد الرحیم صاحب بستوی دامت برکاتہم القدسیہ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علیناپر ان عظیم ہستیوں کے فیضان کی بارشوں کاتذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:” سب ہی حضرات گرامی کے کمالات علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملا ہے ۔ فہم و ذکا ،قوت حافظہ و تقویٰ سیدی اعلیٰ حضرت سے ،جودت طبع و مہارت تامہ (عربی ادب ) میں حضور حجۃ الاسلام سے ،فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتئ اعظم ہند سے ، قوت خطابت و بیان والد ذی وقار مفسر اعظم ہند سے یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کووارثتہً حاصل ہیںجن کی رہبر شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے ۔ ” [پیش گفتار، شرح حدیث نیت/صفحہ:٤ ]

جانشین رضا شاہ اختر رضا ۔ ۔ ۔ فخر اہل سنن شاہ اختر رضا

ہیں میری زندگی شاہ اختر رضا ۔ ۔ ۔ ان کا سایہ سروں پر رہے دائما

ان کی نورانی صورت پہ لاکھوں سلام ۔ ۔ ۔ مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

ولادت باسعادت:

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی ولادت باسعادت ٢٦/محرم الحرام ١٣٦٢ھ بمطابق ٢/فروری ١٩٤٣ء بروز منگل ہندوستان کے شہر بریلی شریف کے محلہ سوداگران میں ہوئی .

اسم گرامی :

آپ کااسم گرامی ”محمداسماعیل رضا” جبکہ عرفیت ”اختر رضا” ہے ۔ آپ اخترتخلص استعمال فرماتے ہیں۔ آپ کے القابات میں تاج الشریعہ، سلطان الفقہاء، جانشین مفتئ اعظم، شیخ الاسلام و المسلمین زیادہ مشہور ہیں۔ و المسلمین زیادہ مشہور ہیں۔

شجرہ نسب :

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت تک آپ کا شجرہ نصب یوں ہے۔ محمد اختررضا خاں قادری ازہری بن محمد ابرہیم رضا خاں قادری جیلانی بن محمد حامد رضا خاں قادری رضوی بن امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی

آپ ٥/ بھائی اور٣/بہنیں ہیں۔٢/بھائی آپ سے بڑے ہیں ۔ ریحان ملت مولانا ریحان رضا خاں قادری اورتنویر رضا خاں قادری (آپ پچپن ہی سے جذب کی کیفیت میں غرق رہتے تھے بالآ خر مفقود الخبرہوگئے) اور٢/ آپ سے چھوٹے ہیں۔ ڈاکٹر قمر رضا خاں قادری اور مولانا منان رضا خاں قادری

تعلیم و تربیت:

جانشین مفتئ اعظم حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی عمر شریف جب ٤/سال ،٤/ ماہ اور٤/ دن ہوئی توآپ کے والد ماجد مفسر اعظم ہند حضرت ابراہیم رضا خاں جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے تقریب بسم اللہ خوانی منعقد کی ۔اس تقریب سعید میں ”یاد گار اعلی حضرت دارالعلوم منظر الاسلام” کے تمام طلبہ کو دعوت دی گئی۔ رسم بسم اللہ نانا جان تاجدار اہلسنّت سرکار مفتئ اعظم ہند محمد مصطفی رضاخاں نور ی نے ادا کرائی۔ حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے ”ناظرہ قرآن کریم ”اپنی والدہ ماجدہ شہزادیئ مفتی اعظم سے گھر پرہی ختم کیا ،والدماجد سے ابتدائی اردو کتب پڑھیں۔ اس کے بعد والد بزرگوار نے ”دارالعلوم منظرالاسلام” میں داخل کرا دیا ، درس نظامی کی تکمیل آپ نے منظر الاسلام سے کی ۔اس کے بعد١٩٦٣ء میں حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا ”جامعۃ الازہر”قاہرہ ،مصرتشریف لے گئے ۔وہاں آپ نے ”کلیہ اصول الدین” میں داخلہ لیااورمسلسل تین سال تک” جامعہ ازہر، مصر” کے فن تفسیر و حدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتساب علم کیا۔ تاج الشریعہ ١٩٦٦ء /١٣٨٦ھ میںجامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے۔ اپنی جماعت میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر آپ کواس وقت کے مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے ”جامعہ ازہر ایوارڈ” پیش کیا اور ساتھ ہی سند سے بھی نوازے گئے۔ [بحوالہ : مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء /صفحہ :١٥٠/جلد :١]

اساتذہ کرام :

آپ کے اساتذہ کرام میں حضور مفتی اعظم الشاہ مصطفےٰ رضاخاں نوری بریلوی ، بحر العلوم حضرت مفتی سید محمد افضل حسین رضوی مونگیری،مفسر اعظم ہند حضرت مفتی محمد ابراہیم رضا جیلانی رضوی بریلوی،فضیلت الشیخ علامہ محمد سماحی ،شیخ الحدیث و التفسیر جامعہ ازہر قاہرہ، حضرت علامہ مولانا محمود عبدالغفار ،استاذالحدیث جامعہ ازہر قاہرہ، ریحان ملت ،قائداعظم مولانا محمد ریحان رضا رحمانی رضوی بریلوی، استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں رضوی اعظمی کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ [مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء /صفحہ :١٥٠/جلد :١]

درس وتدریس:

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے تدریس کی ابتدادارالعلوم منظر اسلام بریلی سے ١٩٦٧ء میں کی۔ ١٩٧٨ء میں آپ دارالعلوم کے صدر المدرس اور رضوی دارالافتاء کے صدر مفتی کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ درس و تدرےس کا سلسلہ مسلسل بارہ سال جاری رہالیکن حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی کثیر مصروفیات کے سبب یہ سلسلہ مستقل جاری نہیں رہ سکا ۔ لیکن آج بھی آپ مرکزی دارالافتاء بریلی شریف میں ”تخصص فی الفقہ ” کے علمائے کرام کو ”رسم المفتی،اجلی الاعلام” اور ”بخاری شریف ” کا درس دیتے ہیں۔

فتویٰ نویسی :

١٨١٦ء میںروہیلہ حکومت کے خاتمہ ،بریلی شریف پرانگریز وں کے قبضہ اور حضرت مفتی محمد عیوض صاحب کے روہیلکھنڈ(بریلی) ٹونک تشریف لے جانے کے بعد بریلی کی مسند افتاء خالی تھی ۔ایسے نازک اور پر آشوب دور میں امام العلماء علامہ مفتی رضا علی خاں نقشبندی رضی اللہ تعالی عنہ نے بریلی کی مسند افتاء کورونق بخشی ۔ یہیںسے خانوادہ رضویہ میں فتاویٰ نویسی کی عظیم الشان روایت کی ابتداء ہوئی۔ [بحوالہ:مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ حیات اور علمی وادبی کارنامے/ صفحہ ٧٨ ]

لیکن مجموعہ فتاویٰ بریلی شریف میں آپ کی فتویٰ نویسی کی ابتداء ١٨٣١ء لکھی ہے ۔ (غالباً درمیانی عرصہ انگریز قابضوں کی ریشہ دوانیوں کے سبب مسند افتاء خالی ہی رہی) الحمدللہ! ١٨٣١ء سے آج ٢٠٠٩ء تک یہ تابناک سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ یعنی خاندان رضویہ میں فتاویٰ نویسی کی ایمان افروز روایت ١٧٨/ سال سے مسلسل چلی آرہی ہے ۔امام الفقہأ ،حضرت علامہ مفتی محمد رضا علی خاں قادری بریلوی،امام المتکلمین ،حضرت علامہ مولانامحمد نقی علی خاں قادری برکاتی،اعلیٰ حضرت ،مجدد دین وملت ،حضرت علامہ مولانا مفتی محمد احمد رضا خاں قادری برکاتی ،شہزادہئ اعلیٰ حضرت ،حجۃ الالسلام ،جمال الانام حضرت علامہ مولانا مفتی حامد رضا خاں قادری رضوی، شہزادہئ اعلیٰ حضرت تاجدار اہل سنت ،مفتئ اعظم ہند ،علامہ مولانا مفتی محمد مصطفی رضا خاں قادری نوری، نبیرہ اعلیٰ حضرت ،مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں قادری رضوی اوراب ان کے بعد اب قاضی القضاۃ فی الہند ،تاج الشریعہ ،حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہ، علینا١٩٦٧ء سے تادم تحریر٤٢/سال سے اس خدمت کو بحسن و خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ [بحوالہ: فتاویٰ بریلی شریف /صفحہ:٢٢]

آپ خود اپنے فتوی نویسی کی ابتداء سے متعلق فرماتے ہیں:”میں بچپن سے ہی حضرت (مفتی اعظم) سے داخل سلسلہ ہو گیا ہوں، جامعہ ازہر سے واپسی کے بعد میں نے اپنی دلچسپی کی بناء پر فتویٰ کا کام شروع کیا۔ شروع شروع میں مفتی سید افضل حسین صاحب علیہ الرحمتہ اور دوسرے مفتیانِ کرام کی نگرانی میں یہ کام کرتا رہا۔ اور کبھی کبھی حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر فتویٰ دکھایا کرتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس کام میں میری دلچسپی زیادہ بڑھ گئی اور پھر میں مستقل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔ حضرت کی توجہ سے مختصر مدت میں اس کام میں مجھے وہ فیض حاصل ہوا کہ جو کسی کے پاس مدتوں بیٹھنے سے بھی نہ ہوتا ۔” [مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ :١٥٠/جلد :١]

حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے فتاویٰ سارے عالم میں سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ دقیق و پیچیدہ مسائل جو علماء اور مفتیان کرام کے درمیان مختلف فیہ ہوں ان میں حضرت کے قول کو ہی فیصل تسلیم کیا جاتا ہے اور جس فتوے پر آپ کی مہر تصدیق ثبت ہو خواص کے نزدیک بھی وہ انتہائی معتبر ہوتاہے۔ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے فتاویٰ سے متعلق جگرگوشہ صدرالشریعہ ، محدث کبیر حضرت علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ رقم طراز ہیں: ”تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ کی تحریر پڑھ رہے آپ کی تحریرمیںدلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتاہے ۔” [حیات تاج الشریعہ/صفحہ٦٦]

حج وزیات:

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے پہلی مرتبہ حج وزیارت کی سعادت ١٤٠٣ھ/ ١٩٨٣ء میں حاصل کی ۔ دوسری مرتبہ ١٤٠٥ھ/ ١٩٨٥ء اور تیسری مرتبہ ١٤٠٦ھ/١٩٨٦ء میں اس سعادت عظمیٰ سے مشرف ہوئے ۔جبکہ چوتھی مرتبہ ١٤٢٩ھ/٢٠٠٨ء میں آپ نے حج بیت اللہ ادا فرمایا۔ نیز متعدد مرتبہ آپ کو سرکار عالی وقار کی بارگاہ بے کس پناہ سے عمرہ کی سعادت بھی عطا ہوئی ۔

تصانیف :

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا اپنے جد امجد مجدد دین ملت سیدنا اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے مظہر اتم اور پر تو کامل ہیں ۔ اعلیٰ حضرت کی تحریری خدمات اور طرز تحریر محتاج تعارف نہیں ہے۔ حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا میدان تحریر میں بھی اعلیٰ حضرت کا عکس جمیل نظر آتے ہیں۔ آپ کی تصانیف و تحقیقات مختلف علوم و فنون پر مشتمل ہیں۔تحقیقی انداز ،مضبوط طرزا ستدال ، کثرت حوالہ جات، سلاست وروانی آپ کی تحریر کو شاہکار بنا دیتی ہے۔ آپ اپنی تصانیف کی روشنی میں یگانہئ عصر اور فرید الدہر نظر آتے ہیں۔حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ”تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا صکی تحریر پڑھ رہے ہیں، آپ کی تحریر میں دلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتا ہے ۔”[حیات تاج الشریعہ/صفحہ :٦٦]

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا افتاء و قضا، کثیر تبلیغی اسفار اوردیگر بے تحاشہ مصرفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔آپ کی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

اردو

١۔۔۔۔۔۔ ہجرت رسول

٢۔۔۔۔۔۔ آثار قیامت

٣۔۔۔۔۔۔ ٹائی کا مسئلہ

٤۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم کے والد تارخ یا آزر

٥۔۔۔۔۔۔ ٹی وی اور ویڈیوکا آپریشن مع شرعی حکم

٦۔۔۔۔۔۔ شرح حدیث نیت

٧۔۔۔۔۔۔ سنو چپ رہو

٨۔۔۔۔۔۔ دفاع کنز الایمان (2جلد)

٩۔۔۔۔۔۔ الحق المبین

١٠۔۔۔۔۔۔ تین طلاقوں کا شرعی حکم

١١۔۔۔۔۔۔ کیا دین کی مہم پوری ہوچکی ؟

١٢۔۔۔۔۔۔ جشن عید میلاد النبی

١٣۔۔۔۔۔۔ سفینہ بخشش (نعتیہ دیوان )

١٤۔۔۔۔۔۔ فضیلت نسب

١٥۔۔۔۔۔۔ تصویر کا مسئلہ

١٦۔۔۔۔۔۔ اسمائے سورۃ فاتحہ کی وجہ تسمیہ

١٧۔۔۔۔۔۔ القول الفائق بحکم الاقتداء بالفاسق

١٨۔۔۔۔۔۔ سعودی مظالم کی کہانی اختر رضا کی زبانی

١٩۔۔۔۔۔۔ العطایاالرضویہ فی فتاویٰ الازہریہ المعروف ازہرالفتاویٰ (زیر ترتیب 5جلد)

عربی تصانیف

١۔۔۔۔۔۔ الحق المبین

٢۔۔۔۔۔۔ الصحابۃ نجوم الاھتداء

٣۔۔۔۔۔۔ شرح حدیث الاخلاص

٤۔۔۔۔۔۔ نبذۃ حیاۃ الامام احمد رضا

٥۔۔۔۔۔۔ سد المشارع

٦۔۔۔۔۔۔ حاشیہ عصیدۃ الشہدہ شرح القصیدۃ البردہ

٧۔۔۔۔۔۔ تعلیقاتِ زاہرہ علی صحیح البخاری

٨۔۔۔۔۔۔ تحقیق أن أباسیدنا إبراہیم ں (تارح)لا(آزر)

٩۔۔۔۔۔۔ مراۃ النجدیہ بجواب البریلویہ (2جلد)

۱۰۔۔۔۔۔۔ نهاية الزين في التخفيف عن أبي لهب يوم الإثنين

۱۱۔۔۔۔۔۔ الفردۃ فی شرح قصیدۃ البردۃ

تراجم

١۔۔۔۔۔۔ انوار المنان فی توحید القرآن

٢۔۔۔۔۔۔ المعتقد والمنتقد مع المعتمد المستمد

٣۔۔۔۔۔۔ الزلال النقیٰ من بحر سبقۃ الاتقی

تعاریب

١۔۔۔۔۔ ۔برکات الامداد لاہل استمداد

٢۔۔۔۔۔۔ فقہ شہنشاہ

٣۔۔۔۔۔۔ عطایا القدیر فی حکم التصویر

٤۔۔۔۔۔۔ اہلاک الوہابین علی توہین القبور المسلمین

٥۔۔۔۔۔۔ تیسیر الماعون لسکن فی الطاعون

٦۔۔۔۔۔۔ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام

٧۔۔۔۔۔۔ قوارع القھارفی الردالمجسمۃ الفجار

٨۔۔۔۔۔۔ الہاد الکاف فی حکم الضعا

٩۔۔۔۔۔۔ الامن والعلی لناعیتی المصطفی بدافع البلالضعا

۱۰۔۔۔۔۔۔ سبحان السبوح عن عيب كذب المقبوح

۱۱۔۔۔۔۔۔ حاجز البحرين الواقي عن جمع الصلاتين

علاوہ ازیںچند مضامین مفتی اعظم ہند ،علم فن کے بحرذخاراوررویت ہلال کا ثبوت وغیرہ شامل ہیں ۔

کتنا مقام اعلیٰ اختر رضا کا ہے ۔ ۔ ۔ ولیوں میں نام اونچا اختر رضا کا ہے

رضوی چمن کے جیسے رنگیں گلاب کا سا ۔ ۔ ۔ ایسا حسین چہرہ اختر رضا کا ہے

عالم بھی کہہ رہے ہیں اب تو مقام والا ۔ ۔ ۔ سب سے بلند و بالا اختر رضا کا ہے

دل دشمنانِ دین کے لرزاں ہیں اس قدر ۔ ۔ ۔ اعداء پہ رعب ایسا اختر رضا کا ہے

میرے لئے نہیں ہے کچھ آفتاب محشر ۔ ۔ ۔ مجھ پر زمان سایہ اختر رضا کا ہے

(جاری ہے)

Part 2 jald he add kar diya jya ga









← سوانح عمری واپس جائیں