بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیۡکَ یَا رَسُوۡلَ اللّٰہ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصۡحٰبِکَ یَا حَبِیۡبَ اللّٰہ
Admin Login
📚 سب روزہ عقائد کے مسائل معمولات اہلسنت
1
روزہ
روزے کا کفارہ
تاریخ: 17 Apr 2026
سوال
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ روزہ توڑنے کا کفارہ کیا فقط رمضان کے روزے کے ساتھ خاص ہےیا پھر واجب ونفل روزے کو بھی انہی شرائط کے ساتھ توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے؟
جواب
صرف رمضان کاادا روزہ توڑنے کی صورت میں قضاکے ساتھ اس کا کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، جبکہ کفارے کی تمام شرائط پائی جائیں۔اس کے علاوہ کسی بھی فرض (اگر چہ وہ رمضان ہی کی قضا ہو)، واجب یا نفلی روزہ کو توڑنے کی صورت میں صرف اس کی قضا لازم ہو گی، کفارہ لازم نہیں ہو گا، البتہ روزہ فرض ہو یا نفل ، اگر جان بوجھ کر بغیر کسی عذرِ شرعی کے توڑا، تو گناہ ہو گا اور اس سے توبہ کرنی ہو گی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما صيام ‌غير ‌رمضان فلا يتعلق بإفساد شيء منه وجوب الكفارة، لأن وجوب الكفارة بإفساد ‌صوم ‌رمضان عرف بالتوقيف، وأنه ‌صوم شريف في وقت شريف لا يوازيهما غيرهما من الصيام والأوقات في الشرف والحرمة، فلا يلحق به في وجوب الكفارة
ترجمہ: رمضان کے علاوہ کسی روزے کے فاسد کرنے پر کفارہ نہیں،کیونکہ رمضان کا روزہ توڑنے پر کفارے کا واجب ہونا نص سے معلوم ہوا ہے اور یہ کہ یہ معزز روزہ ایک معزز وقت میں ہے کہ کوئی روزہ اور وقت عزت وشرف میں ان کے برابر نہیں، لہذا کسی اور روزے کو کفارے کے واجب ہونے کے لحاظ سے اس کےساتھ شامل نہیں کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصوم ،جلد2،صفحہ102،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
جن صورتوں میں روزہ ٹوٹنے پر کفارہ نہیں ان کا بیان کرتے ہوئے متن تنویر وشرح در میں ہے:
(أو أفسد غير ‌صوم ‌رمضان أداء) لاختصاصها بهتك رمضان
ترجمہ: (یا ادائے رمضان کے علاوہ کوئی روزہ توڑا، تو کفارہ نہیں )کیونکہ کفارہ رمضان کی بے حرمتی کرنے پر ہی خاص ہے۔
اس کے تحت حاشیہ ردالمحتار میں ہے: قولہ:(اداء)وقید بہ لافادۃ نفی الکفارۃ بافساد قضاء رمضان
ترجمہ: اداکی قید لگائی تاکہ اس بات کا فائدہ ہو کہ رمضان کے قضاروزے کو توڑنے پر کفارہ نہیں۔ (تنویر الابصاروالدرالمختاروردالمحتار،کتاب الصوم،جلد3،صفحہ453،مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے : ادائے رمضان کے علاوہ اور کوئی روزہ فاسد کر دیا، اگرچہ وہ رمضان ہی کی قضا ہو۔۔۔ان سب صورتوں میں صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (بھار شریعت ،جلد1،صفحہ989،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
من شرع في ‌الصوم في وقته ونوى الإمساك لله تعالى انعقد فعله صوما شرعيا فيجب عليه الإتمام ويحرم عليه الإفطار سواء كان في صوم الفرض أو في التطوع لأنه إبطال العمل لله تعالى وأنه منهي عنه لقوله تعالى﴿وَ لَا تُبْطِلُوۡۤا اَعْمَالَکُمْ ﴾
ترجمہ:جس نے کسی روزے کو اس کے وقت میں شروع کیا اور اللہ تعالی کے لیے رکنے کی نیت کی، تو اس کا یہ فعل شرعی روزہ ہوکر منعقد ہوگیا، اب اس کو مکمل کرنا اس پر لازم ہے اور اس کو توڑنا حرام ہے ،چاہے وہ فرض روزہ ہو یا نفل کیونکہ یہ اللہ تعالی کے لیے کیے جانے والے عمل کو باطل کرنا ہے ،اور اس عمل سے منع کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔(تحفۃ الفقھاء،جلد1،صفحہ351،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
2
معمولات اہلسنت
کیا اولاد کے اعمال کی خبر فوت شدہ والدین تک پہنچتی ہے؟
تاریخ: 06 May 2026
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کسی شخص کے فوت شدہ والدین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے کیا اچھا اور برا عمل کر رہے؟
جواب
جی ہاں آدمی کے سب اعمال کی خبر اس کےفوت شدہ والدین کو پہنچتی ہے، وہ اپنی اولاد کے نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور برے اعمال سے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ آدمی کے اعمال اس کے ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ الجامع الصغیر میں ہے:

تعرض الأعمال یوم الأثنین و الخمیس علی اللہ و تعرض علی الأنبیاء و علی الآباء و الأمهات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتهم و تزداد وجوههم بیاضاً و إشراقاً فاتقوا اللہ و لاتؤذوا موتاکم

ترجمہ: پیر اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام اور آباء و امہات پر جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ انبیائے کرام امت کے نیک اعمال اور والدین اپنی اولاد کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہرےروشن اور سفید ہوجاتے ہیں، لہٰذا اللہ عز و جل سے ڈرو اور اپنے فوت شدگان کوتکلیف مت دو۔ (الجامع الصغیر فی احادیث البشیر و النذیر، جلد 1، صفحہ 199، رقم الحدیث: 3316، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں والدین کی وفات کے بعد اولاد پر آنے والے والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: سب میں سخت تر و عام تر و مدام تر یہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کر کے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبر ماں باپ کو پہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں، تو خوش ہوتے ہیں اور ان کا چہرہ فرحت سے چمکتا اور دمکتا ہے، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پر صدمہ ہوتا ہے، ماں باپ کا یہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
3
عقائد کے مسائل
شوہر کو مجازی خدا کہنا کیسا ؟
تاریخ: 06 May 2026
سوال
شوہر کو مجازی خدا کہنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
شوہرکومجازی خدا کہنے سے بچناچاہیےلیکن یہ جملہ کفریہ نہیں کہ خداکاایک معنی مالک بھی ہے اورمجازی کے لفظ نے اس کی تعیین کردی کہ یہاں یہ مالک کے معنی میں ہی ہے ۔

فتاوی شارح بخاری میں ہے: اپنے آپ کو کسی کا مجازی خدا کہنے سے بھی بچنا چاہیے اگرچہ یہ جملہ کفر نہیں کہ خدا کے معنی مالک ہیں اور مجازی نے اس کی تعیین کر دی۔ (فتاوی شارح بخاری،جلد 02،صفحہ 620،مطبوعہ دائرۃ البرکات گھوسی ،ضلع مئو)
4
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟
تاریخ: 17 Apr 2026 — از: محمد علی
سوال
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟
جواب
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عرفان کے لغت میں یہ معانی بیان کئے گئے ہیں:"جاننا،معروف،خداشناسی ،پہچان وغیرہ"ان معانی کے لحاظ سے بچے کا نام عرفان رکھنے میں حرج نہیں ہے۔البتہ! بہتریہ ہے کہ اولاًبیٹے کانام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں"محمد"نام رکھنے کی فضیلت اورترغیب ارشادفرمائی گئی ہے اور ظاہریہ ہے کہ یہ فضیلت تنہانام محمدرکھنے کی ہے، پھرپکارنے کے لیے عرفان نام رکھ لیں۔

لسان العرب میں ہے”العرفان: العلم“ترجمہ:عرفان یعنی جاننا۔(لسان العرب،ج 9،ص 236، دارصادر،بیروت)

المنجد میں ہے”العرفان:معروف۔"(المنجد،ص 550،مکتبہ قدسیہ،لاہور)

فیروز اللغات میں ہے”عرفان:شناخت،پہچان،حق تعالی کی معرفت،خدا شناسی۔"(فیروز اللغات،ص 947،فیروز سنز،لاہور)

محمدنام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ترجمہ:جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔(کنز العمال،ج 16،ص 422، مؤسسة الرسالة،بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے” قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن “ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا:جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں،یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،ج 6،ص 417،دار الفکر، بیروت)

کل 4 مسائل