بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیۡکَ یَا رَسُوۡلَ اللّٰہ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصۡحٰبِکَ یَا حَبِیۡبَ اللّٰہ
Admin Login
✕ صاف
📚 سب روزہ عقائد کے مسائل معمولات اہلسنت
1
معمولات اہلسنت
کیا اولاد کے اعمال کی خبر فوت شدہ والدین تک پہنچتی ہے؟
تاریخ: 06 May 2026
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کسی شخص کے فوت شدہ والدین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے کیا اچھا اور برا عمل کر رہے؟
جواب
جی ہاں آدمی کے سب اعمال کی خبر اس کےفوت شدہ والدین کو پہنچتی ہے، وہ اپنی اولاد کے نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور برے اعمال سے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ آدمی کے اعمال اس کے ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ الجامع الصغیر میں ہے:

تعرض الأعمال یوم الأثنین و الخمیس علی اللہ و تعرض علی الأنبیاء و علی الآباء و الأمهات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتهم و تزداد وجوههم بیاضاً و إشراقاً فاتقوا اللہ و لاتؤذوا موتاکم

ترجمہ: پیر اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام اور آباء و امہات پر جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ انبیائے کرام امت کے نیک اعمال اور والدین اپنی اولاد کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہرےروشن اور سفید ہوجاتے ہیں، لہٰذا اللہ عز و جل سے ڈرو اور اپنے فوت شدگان کوتکلیف مت دو۔ (الجامع الصغیر فی احادیث البشیر و النذیر، جلد 1، صفحہ 199، رقم الحدیث: 3316، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں والدین کی وفات کے بعد اولاد پر آنے والے والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: سب میں سخت تر و عام تر و مدام تر یہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کر کے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبر ماں باپ کو پہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں، تو خوش ہوتے ہیں اور ان کا چہرہ فرحت سے چمکتا اور دمکتا ہے، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پر صدمہ ہوتا ہے، ماں باپ کا یہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
2
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟
تاریخ: 17 Apr 2026 — از: محمد علی
سوال
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟
جواب
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عرفان کے لغت میں یہ معانی بیان کئے گئے ہیں:"جاننا،معروف،خداشناسی ،پہچان وغیرہ"ان معانی کے لحاظ سے بچے کا نام عرفان رکھنے میں حرج نہیں ہے۔البتہ! بہتریہ ہے کہ اولاًبیٹے کانام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں"محمد"نام رکھنے کی فضیلت اورترغیب ارشادفرمائی گئی ہے اور ظاہریہ ہے کہ یہ فضیلت تنہانام محمدرکھنے کی ہے، پھرپکارنے کے لیے عرفان نام رکھ لیں۔

لسان العرب میں ہے”العرفان: العلم“ترجمہ:عرفان یعنی جاننا۔(لسان العرب،ج 9،ص 236، دارصادر،بیروت)

المنجد میں ہے”العرفان:معروف۔"(المنجد،ص 550،مکتبہ قدسیہ،لاہور)

فیروز اللغات میں ہے”عرفان:شناخت،پہچان،حق تعالی کی معرفت،خدا شناسی۔"(فیروز اللغات،ص 947،فیروز سنز،لاہور)

محمدنام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ترجمہ:جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔(کنز العمال،ج 16،ص 422، مؤسسة الرسالة،بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے” قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن “ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا:جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں،یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،ج 6،ص 417،دار الفکر، بیروت)

کل 2 مسائل