بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیۡکَ یَا رَسُوۡلَ اللّٰہ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصۡحٰبِکَ یَا حَبِیۡبَ اللّٰہ
Admin Login
✕ صاف
📚 سب روزہ عقائد کے مسائل معمولات اہلسنت
1
عقائد کے مسائل
شوہر کو مجازی خدا کہنا کیسا ؟
تاریخ: 06 May 2026
سوال
شوہر کو مجازی خدا کہنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
شوہرکومجازی خدا کہنے سے بچناچاہیےلیکن یہ جملہ کفریہ نہیں کہ خداکاایک معنی مالک بھی ہے اورمجازی کے لفظ نے اس کی تعیین کردی کہ یہاں یہ مالک کے معنی میں ہی ہے ۔

فتاوی شارح بخاری میں ہے: اپنے آپ کو کسی کا مجازی خدا کہنے سے بھی بچنا چاہیے اگرچہ یہ جملہ کفر نہیں کہ خدا کے معنی مالک ہیں اور مجازی نے اس کی تعیین کر دی۔ (فتاوی شارح بخاری،جلد 02،صفحہ 620،مطبوعہ دائرۃ البرکات گھوسی ،ضلع مئو)
2
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟
تاریخ: 17 Apr 2026 — از: محمد علی
سوال
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟
جواب
عرفان نام کا کیا معنی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عرفان کے لغت میں یہ معانی بیان کئے گئے ہیں:"جاننا،معروف،خداشناسی ،پہچان وغیرہ"ان معانی کے لحاظ سے بچے کا نام عرفان رکھنے میں حرج نہیں ہے۔البتہ! بہتریہ ہے کہ اولاًبیٹے کانام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں"محمد"نام رکھنے کی فضیلت اورترغیب ارشادفرمائی گئی ہے اور ظاہریہ ہے کہ یہ فضیلت تنہانام محمدرکھنے کی ہے، پھرپکارنے کے لیے عرفان نام رکھ لیں۔

لسان العرب میں ہے”العرفان: العلم“ترجمہ:عرفان یعنی جاننا۔(لسان العرب،ج 9،ص 236، دارصادر،بیروت)

المنجد میں ہے”العرفان:معروف۔"(المنجد،ص 550،مکتبہ قدسیہ،لاہور)

فیروز اللغات میں ہے”عرفان:شناخت،پہچان،حق تعالی کی معرفت،خدا شناسی۔"(فیروز اللغات،ص 947،فیروز سنز،لاہور)

محمدنام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ترجمہ:جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔(کنز العمال،ج 16،ص 422، مؤسسة الرسالة،بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے” قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن “ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا:جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں،یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،ج 6،ص 417،دار الفکر، بیروت)

کل 2 مسائل