مفتی احمد یار خان نعیمی ایک جید عالمِ دین، مفسرِ قرآن، فقیہ اور شاعر تھے، جن کی علمی خدمات نے برصغیر کے مسلمانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
* آپ کی ولادتِ با سعادت شوال المکرم 1314 ہجری (مطابق 1894ء-1895ء) میں یو پی (ہند) کے علاقے بدایوں میں ہوئی۔
* آپ کے والدِ گرامی خود ایک عالمِ دین اور دینی مزاج رکھنے والی شخصیت تھے، جس کی وجہ سے آپ کی ابتدائی تربیت خالص علمی ماحول میں ہوئی۔
* آپ نے قرآن پاک، فارسی کی نصابی کتب اور درسِ نظامی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد حضرت مولانا محمد یار خان بدایونی سے حاصل کیں۔
* آپ کے علم میں پختگی اور امامت کا درجہ حاصل ہونے کا بڑا سبب صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی کی صحبت تھی، جن سے آپ نے طویل عرصہ فیض حاصل کیا۔
* جب آپ کے استاد صدر الافاضل نے آپ کے لکھے ہوئے ایک فتوے کی مہارت دیکھی، تو آپ کو اپنے ادارے 'جامعہ نعیمیہ مراد آباد' میں مسندِ افتاء پر فائز کر دیا۔
* آپ نے جامعہ نعیمیہ (ہند)، مدرسہ مسکینیہ (گجرات، ہند)، کچھوچھہ شریف اور بھکھی شریف (پنجاب، پاکستان) جیسے مقامات پر علومِ دینیہ کی ترویج فرمائی۔
* آپ کثیر التصانیف بزرگ تھے اور آپ کی تحریریں علمی نکات سے مالامال ہیں۔
* نور العرفان: آپ نے اعلیٰ حضرت کے ترجمہ قرآن 'کنز الایمان' پر ایک تفسیری حاشیہ تحریر کیا، جو اپنی جامعیت کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔
* شانِ حبیب الرحمن: اس کتاب میں قرآن کی ان آیات کی تفسیر بیان کی گئی ہے جو حضور ﷺ کی عظمت و شان کے متعلق ہیں۔
* جاء الحق: عقائد کی اصلاح اور وضاحت میں اس کتاب کو سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔
*حضرت امیر معاویہ پر ایک نظر: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع اور رتبے پر ایک شاندار رسالہ تحریر فرمایا۔
* علم القرآن: علمِ تفسیر کے قواعد پر مشتمل یہ کتاب 'مکتبۃ المدینہ' کے ذریعے شائع بھی کی گئی ہے۔
* شاعری: آپ ایک بہترین شاعر بھی تھے اور آپ کے نعتیہ کلام کا مجموعہ "دیوانِ سالک" کے نام سے موجود ہے، جبکہ مختلف رسائل کا مجموعہ "رسائلِ نعیمیہ" کہلاتا ہے۔
* آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام گجرات (پنجاب، پاکستان) میں گزارے۔
* آپ کا وصال 3 رمضان المبارک 1391 ہجری (مطابق 24 اکتوبر 1971ء) کو ہوا۔
* آپ کا مزارِ مبارک گجرات شہر میں واقع ہے جہاں زائرین فیض پاتے ہیں۔