1
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ»
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص اپنی بیوی پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے ۔
2
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایمان اور یقین کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے گا تو اس کے اگلے گناہ بخش دئے جائیں گے ۔
3
حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ القَدْرِ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
4
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ». قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ»
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سو رہا تھا اور اسی حالت میں خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو میرے سامنے لایا جاتا ہے انہوں نے قمیص پہن رکھے ہیں بعض کی قمیص سینے تک اور بعض کی ذرا نیچے ہیں؛ اسی اثنا میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے سامنے پیش کئے گئے ان کی قمیص اس قدر نیچے تھی کہ وہ اسے گھسیٹ رہے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس(خواب)کی تعبیر کیا لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (اس خواب کی تعبیر) دین(ہے)
5
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى المَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ أَهْلُ الجَنَّةِ الجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ»، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: «أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الحَيَا، أَوِ الحَيَاةِ - شَكَّ مَالِكٌ - فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً» قَالَ وُهَيْبٌ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو: الحَيَاةِ، وَقَالَ: خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛جنتی جنت اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس شخص کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو ایسے لوگوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا(لیکن دوزخ میں پہلے رہنے کی وجہ سے)وہ جل کر سیاہ ہو چکے ہونگے پھر وہ نہر حیایاحیاۃ میں ڈال دئے جائیں گے (یعنی آب حیات کے دریا میں ان کو ڈالا جائے گا)(یہاں امام مالک رحمہ اللہ کو شک ہے)(پھر آب حیات کے دریا میں ڈالے جانے کے بعد) وہ یوں ترو تازہ ہو جائیں گے جس طرح دانہ(ترو تازگی کے ساتھ) پانی کی روانی کی جانب اگتا ہے کیا تو نے نہیں دیکھا سبز کنچل زردی مائل نکلتا ہے.
6
آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”منافق کی تین نشانیاں ہیں: (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے، (2) جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، (3) اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔
7
ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ، بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ، مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس کو پا لے گا: (1) یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں، (2) یہ کہ وہ کسی بندے سے صرف اللہ ہی کے لیے محبت کرے، (3) اور یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا ہی ناپسند کرے جیسے کہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔“
8
فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
,
9
لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
10
لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں(محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے نزدیک اس کے والدین اور اسکی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔