اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیۡکَ یَا رَسُوۡلَ اللّٰہ
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصۡحٰبِکَ یَا حَبِیۡبَ اللّٰہ
تمام روزہ کے مسائل عقائد کے مسائل عیدِمیلاد النبی ﷺ معملات ِاہلسنت نماز کے مسائل
1
روزہ کے مسائل
روزے کا کفارہ
سوال
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ روزہ توڑنے کا کفارہ کیا فقط رمضان کے روزے کے ساتھ خاص ہےیا پھر واجب ونفل روزے کو بھی انہی شرائط کے ساتھ توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے؟
جواب
صرف رمضان کاادا روزہ توڑنے کی صورت میں قضاکے ساتھ اس کا کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، جبکہ کفارے کی تمام شرائط پائی جائیں۔اس کے علاوہ کسی بھی فرض (اگر چہ وہ رمضان ہی کی قضا ہو)، واجب یا نفلی روزہ کو توڑنے کی صورت میں صرف اس کی قضا لازم ہو گی، کفارہ لازم نہیں ہو گا، البتہ روزہ فرض ہو یا نفل ، اگر جان بوجھ کر بغیر کسی عذرِ شرعی کے توڑا، تو گناہ ہو گا اور اس سے توبہ کرنی ہو گی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما صيام ‌غير ‌رمضان فلا يتعلق بإفساد شيء منه وجوب الكفارة، لأن وجوب الكفارة بإفساد ‌صوم ‌رمضان عرف بالتوقيف، وأنه ‌صوم شريف في وقت شريف لا يوازيهما غيرهما من الصيام والأوقات في الشرف والحرمة، فلا يلحق به في وجوب الكفارة
ترجمہ: رمضان کے علاوہ کسی روزے کے فاسد کرنے پر کفارہ نہیں،کیونکہ رمضان کا روزہ توڑنے پر کفارے کا واجب ہونا نص سے معلوم ہوا ہے اور یہ کہ یہ معزز روزہ ایک معزز وقت میں ہے کہ کوئی روزہ اور وقت عزت وشرف میں ان کے برابر نہیں، لہذا کسی اور روزے کو کفارے کے واجب ہونے کے لحاظ سے اس کےساتھ شامل نہیں کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصوم ،جلد2،صفحہ102،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
جن صورتوں میں روزہ ٹوٹنے پر کفارہ نہیں ان کا بیان کرتے ہوئے متن تنویر وشرح در میں ہے:
(أو أفسد غير ‌صوم ‌رمضان أداء) لاختصاصها بهتك رمضان
ترجمہ: (یا ادائے رمضان کے علاوہ کوئی روزہ توڑا، تو کفارہ نہیں )کیونکہ کفارہ رمضان کی بے حرمتی کرنے پر ہی خاص ہے۔
اس کے تحت حاشیہ ردالمحتار میں ہے: قولہ:(اداء)وقید بہ لافادۃ نفی الکفارۃ بافساد قضاء رمضان
ترجمہ: اداکی قید لگائی تاکہ اس بات کا فائدہ ہو کہ رمضان کے قضاروزے کو توڑنے پر کفارہ نہیں۔ (تنویر الابصاروالدرالمختاروردالمحتار،کتاب الصوم،جلد3،صفحہ453،مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے : ادائے رمضان کے علاوہ اور کوئی روزہ فاسد کر دیا، اگرچہ وہ رمضان ہی کی قضا ہو۔۔۔ان سب صورتوں میں صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (بھار شریعت ،جلد1،صفحہ989،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
من شرع في ‌الصوم في وقته ونوى الإمساك لله تعالى انعقد فعله صوما شرعيا فيجب عليه الإتمام ويحرم عليه الإفطار سواء كان في صوم الفرض أو في التطوع لأنه إبطال العمل لله تعالى وأنه منهي عنه لقوله تعالى﴿وَ لَا تُبْطِلُوۡۤا اَعْمَالَکُمْ ﴾
ترجمہ:جس نے کسی روزے کو اس کے وقت میں شروع کیا اور اللہ تعالی کے لیے رکنے کی نیت کی، تو اس کا یہ فعل شرعی روزہ ہوکر منعقد ہوگیا، اب اس کو مکمل کرنا اس پر لازم ہے اور اس کو توڑنا حرام ہے ،چاہے وہ فرض روزہ ہو یا نفل کیونکہ یہ اللہ تعالی کے لیے کیے جانے والے عمل کو باطل کرنا ہے ،اور اس عمل سے منع کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔(تحفۃ الفقھاء،جلد1،صفحہ351،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
2
معملات ِاہلسنت
کیا اولاد کے اعمال کی خبر فوت شدہ والدین تک پہنچتی ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کسی شخص کے فوت شدہ والدین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے کیا اچھا اور برا عمل کر رہے؟
جواب
جی ہاں آدمی کے سب اعمال کی خبر اس کےفوت شدہ والدین کو پہنچتی ہے، وہ اپنی اولاد کے نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور برے اعمال سے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ آدمی کے اعمال اس کے ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ الجامع الصغیر میں ہے:

تعرض الأعمال یوم الأثنین و الخمیس علی اللہ و تعرض علی الأنبیاء و علی الآباء و الأمهات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتهم و تزداد وجوههم بیاضاً و إشراقاً فاتقوا اللہ و لاتؤذوا موتاکم

ترجمہ: پیر اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام اور آباء و امہات پر جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ انبیائے کرام امت کے نیک اعمال اور والدین اپنی اولاد کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہرےروشن اور سفید ہوجاتے ہیں، لہٰذا اللہ عز و جل سے ڈرو اور اپنے فوت شدگان کوتکلیف مت دو۔ (الجامع الصغیر فی احادیث البشیر و النذیر، جلد 1، صفحہ 199، رقم الحدیث: 3316، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں والدین کی وفات کے بعد اولاد پر آنے والے والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: سب میں سخت تر و عام تر و مدام تر یہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کر کے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبر ماں باپ کو پہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں، تو خوش ہوتے ہیں اور ان کا چہرہ فرحت سے چمکتا اور دمکتا ہے، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پر صدمہ ہوتا ہے، ماں باپ کا یہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
3
عقائد کے مسائل
شوہر کو مجازی خدا کہنا کیسا ؟
سوال
شوہر کو مجازی خدا کہنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
شوہرکومجازی خدا کہنے سے بچناچاہیےلیکن یہ جملہ کفریہ نہیں کہ خداکاایک معنی مالک بھی ہے اورمجازی کے لفظ نے اس کی تعیین کردی کہ یہاں یہ مالک کے معنی میں ہی ہے ۔

فتاوی شارح بخاری میں ہے: اپنے آپ کو کسی کا مجازی خدا کہنے سے بھی بچنا چاہیے اگرچہ یہ جملہ کفر نہیں کہ خدا کے معنی مالک ہیں اور مجازی نے اس کی تعیین کر دی۔ (فتاوی شارح بخاری،جلد 02،صفحہ 620،مطبوعہ دائرۃ البرکات گھوسی ،ضلع مئو)
4
معملات ِاہلسنت
نبی کریم ﷺ اپنی قبر مبارک میں درودِ پاک سنتے ہیں؟
سوال
میرا سوال یہ ہے كہ ہم اہلسنت وجماعت کا عقیدہ ہے، درودپاک پڑھنے والاکہیں سے بھی درودپڑھے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اپنے مزار اقدس میں سماعت فرماتے ہیں۔ اس پر تفصیلی دلیل کیا ہے؟
جواب
اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی دنیا کے کسی بھی حصے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر درودِ پاک پڑھتاہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اسے سماعت فرماتے ہیں، اور اس کاجواب بھی ارشادفرماتے ہیں۔

چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم خود ارشاد فرماتے ہیں: ليس من عبد يصلّي عليّ إلا بلغني صوته حيث كان" ترجمہ: جو بھی شخص مجھ پر درود پاک پڑھتا ہے اس کی آواز مجھے پہنچتی ہےخواہ وہ کہیں بھی ہو۔ (سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، جلد 12، صفحہ 358، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ایک روایت میں مزید ان الفاظ کا اضافہ ہے "قلنا: و بعد و فاتك؟ قال: وبعد وفاتي إن اللہ عزَّ وجلَّ حرم على الأرض أن ياکل أجساد الأنبياء" ترجمہ: صحابہ فرماتے ہیں ہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیا آپ کے دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں میرے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی کہ اللہ تعالی نےزمین پر حرام فرمادیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔ (البدر التمام شرح بلوغ المرام، جلد 5، صفحہ 406، مطبوعه: بیروت)

المعجم الکبیر للطبرانی میں حضرت عبدالله بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:إن اللہ عز وجل قد رفع لي الدنيا، فأنا أنظر إليها وإلى ما هو كائن فيها إلى يوم القيامة، كأنما أنظر إلى كفي هذه؛" ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے پوری دنیا کو اس طرح نمایاں کر دیا ہے کہ میں اسے اور قیامت تک اس میں پیش آنے والے تمام حالات و واقعات کو ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انکشاف ہے، جو اس نے اپنے نبی پر فرمایا، جس طرح اس سے پہلے بھی انبیائے کرام علیہم السلام پر ایسے حقائق منکشف فرمائے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 13، صفحہ 318، رقم الحدیث 14112، مطبوعہ: بیروت)

رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم کا مبارک فرمان ہے "إني أرى ما لا ترون وأسمع ما لا تسمعون" یعنی میں ہر اس چیز کو دیکھتا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے اور ہر اس آواز کو سنتا ہوں جسے تم نہیں سنتے۔ ( مشكاة المصابيح، ج 3، ص 1469، الحدیث: 5347، مطبوعہ: بيروت)

شارحِ بخاری، حضرت علامہ مولانا سیِّد غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس روایت کے تحت فرماتے ہیں: ہر وہ آواز اس میں داخل ہے جس کو مُخاطَبین (یعنی جن سے خطاب فرمایا) نہیں سنتے خواہ وہ عالَم کے کسی گوشے سے اٹھے، کُرّۂ زمین کی ہو یا کُرّۂ آب کی ، کُرّۂ ہوا کی ہو یا کُرّۂ نار کی، کُرّۂ سماوات کی ہو یا عرش و کرسی کی ، خواہ انسان کی آواز ہو یا حیوانات کی، نَباتات (پودوں وغیرہ) کی ہو یا جمادات (پتھر وغیرہ بے جان چیزوں) کی، جِنّات کی ہو یا فرشتوں کی یا ایسی مخلوق کی آواز ہوجس کو ہم نہیں جانتے۔ ۔ ۔ غرض کہ تمام عالَم کی جملہ آوازوں پر یہ کلمہ مشتمل ہے۔ (بشیر القاری بشرح صحیح بخاری، ص14، میر محمد کتب خانہ، کراچی)

سلام کاجواب ارشادفرمانے کے متعلق سنن ابی داؤد میں ہے"عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: ما من أحد يسلم علي إلا رد اللہ علي روحي حتى أرد" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی مجھ پر سلام عرض کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، ج 3، ص 384، مطبوعہ: بیروت)

علّامہ تقی الدین علی سُبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریرفرماتے ہیں: قد تضمنت الاحادیث المتقدمۃ: ان روح النبی صلی اللہ علیہ و سلم ترد علیہ، و انہ یسمع ویرد السلام" ترجمہ: احادیثِ مذکورہ اس بات کو متضمن ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی روح مبارک آپ علیہ الصلوۃ والسلام پر لوٹا دی جاتی ہے، اور اس بات کوبھی کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام، سلام کو سنتے ہیں اور اس کا جواب مرحمت فرماتے ہیں۔ (شفاء السقام، صفحہ 390، دارا لکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
5
معملات ِاہلسنت
غیر نبی کے ساتھ علیہ السلام لگانا کیسا؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر نبی کے ساتھ مستقل طور پر علیہ السلام لکھنا؟ یا کہنا کیسا؟ اورخاص حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لگانے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جمہورمحقق علمائے اہل سنت کے نزدیک علیہ السلام مستقل طورپرفقط انبیائے کرام و ملائکہ عظام علیہم السلام کے ساتھ عرفاً خاص ہے، جیسے کہا جاتا ہے، سیدنا آدم علیہ السلام اور حضرت جبرائیل علیہ السلام۔ ان کے علاوہ کسی اورکے ساتھ استقلالاً لکھنا یا کہنا جائز نہیں، مثلا سیدنا ابوبکر علیہ السلام، سیدنا عمرعلیہ السلام وغیرہ، البتہ غیر انبیاء اور غیر ملائکہ کے لیے علیہ السلام کا لفظ بہ تَبعِیّت لکھنا پڑھنا جائز ہے، یعنی ابتداً نبی علیہ السلام پر درود و سلام ہو، اس کے بعد اہل بیت یا صحابہ پر، لہذا یوں کہنا کہ حضرت امام حسن و حسین علی نبینا و علیہماالسلام یہ جائز ہے، جب یہ مسئلہ واضح ہوگیا تو اس سےثابت ہوا کہ حضرت مولائے کائنات، علی المرتضی، شیر خدا رضی اللہ عنہ کے لیے علیہ السلام استقلالاً لکھنا اور بولنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ انبیاءِ کرام وملائکہ عظام علیہم السلام میں سے نہیں ہیں۔ ان کے نام مبارک کے ساتھ رضی اللہ عنہ یا کرم اللہ وجھہ الکریم کہنااور لکھنا چاہیے۔

علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: و قال ابوحنیفة و اصحابہ و مالک و الشافعی و الاکثرون انہ لایصلی علی غیر الانبیاء علیہم الصلوة و السلام استقلالا، فلایقال اللھم صل علی ال ابی بکر او علی ال عمر او غیرھما و لکن یصلی علیھم تبعا" ترجمہ: یعنی امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب، امام مالک، امام شافعی اور اکثر علماء نے فرمایا: انبیائے کرام علیھم السلام کے سوا کسی پر استقلالاً درود نہیں بھیجا جا سکتا، پس یہ نہیں کہا جا سکتا: اللّٰھم صل علی ال ابی بکر" یا "اللّٰھم صل علی ال عمر" وغیرہ، لیکن ان پر (انبیائے کرام علیھم السلام کے) تابع کرکے درود بھیجا جا سکتا ہے۔ (عمدة القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الزکوة، جلد 6، صفحہ 556، بیروت)

فتاوی ھندیہ (جلد 6، صفحہ 446)، بحر الرائق (جلد 8، صفحہ 555)نیز در مختار میں ہے (و اللفظ للآخر): و لا یصلیٰ علی غیر الانبیاء و لا علی غیر الملائکۃ الا بطریق التبع" ترجمہ: یعنی انبیائے کرام علیھم السلام اور فرشتوں کے علاوہ پر درود نہیں بھیجا جائے گا مگر بطورِ تبعیت کے۔ اس کے تحت عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز المعروف ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: و أما السلام فنقل اللقانی فی شرح جوھرۃ التوحید عن الامام الجوینی أنہ في معنی الصلاة، فلا یستعمل فی الغائب و لایفرد بہ غیر الأنبیاء، فلا یقال علی علیہ السلام و سواء في ہذا الأحیاء و الأموات. . . . . و الظاہر أن العلة في منع السلام ما قالہ النووي في علة منع الصلاة أن ذلک شعار أہل البدع و لأن ذلک مخصوص في لسان السلف بالأنبیاء علیہم السلام" ترجمہ: اور بہرحال سلام تو امام لقانی نے "شرح جوھرۃ التوحید" میں امام جوینی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ بے شک سلام، درود کے معنی میں ہے، پس اسے غائب میں استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انبیائے کرام علیھم السلام کے علاوہ کو سلام کے ساتھ الگ (ذکر) کیا جائے گا، پس علی علیہ السلام نہیں کہا جائے گا، اور اس حکم میں زندہ اور وفات پانے والے سب برابر ہیں اور ظاہر ہے کہ سلام کے منع ہونے کی علت وہ ہے جسے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے صلوۃ کے منع ہونے کی علت میں نقل کیا ہے کہ بے شک یہ اہلِ بدعت کا شعار ہے، اور اس لیے کہ یہ سلف کی زبان میں انبیائے کرام علیھم الصلوۃ و السلام کے ساتھ خاص ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الخنثی، فصل في مسائل شتی، جلد 10 صفحہ 518 مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت "لان ذلک" کے تحت تحریر فرماتے ہیں: اقول: ھکذا نص علی التعلیل بہ فی "الغنیۃ" عند شرح خطبۃ المنیۃ و صرح ان افراد غیر الانبیاء بالسلام ابتداع واجب الاجتناب و صرح علی القاری فی شرح الفقہ الاکبر: (ان قول علیہ السلام لسیدنا علی کرم اللہ وجھہ من شعار الروافض (اھل البدعۃ)قلت: و اذ قد انعقد الاجماع علی منعہ فلا معنی لارتکابہ" ترجمہ: یعنی میں (امام احمد رضا) کہتا ہوں: اس کی تعلیل پر ایسے ہی صراحت ہے المنیہ کے خطبے کی شرح کرتے وقت الغنیہ میں، انہوں نے صراحت فرمائی ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کے علاوہ کو سلام کے ساتھ الگ ذکر کرنا بدعت ہے اور اس سے بچنا واجب ہے اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الفقہ الاکبر میں صراحت کی ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجھہ کے لئے علیہ السلام کہنا روافض (اہلِ بدعت) کا شعار ہے۔میں (امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں: اور جب اس کی ممانعت پر اجماع منعقد ہوچکا تواس کے ارتکاب کا کوئی جوازنہیں۔ (جدالممتار علی ردالمحتار جلد 7، صفحہ 241، مکتبۃ المدینہ کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: صلوة و سلام بالاستقلال انبیاء و ملائکہ علیھم السلام کے سوا کسی کے لیے روا (جائز) نہیں، ہاں بہ تبعیت جائز ہےجیسے اللھم صل و سلم علی سیدنا و مَولیٰنا محمد و علی ال سیدنا و مولیٰنا محمد اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنھم کےلیے رضی اللہ تعالٰی عنہ کہا جائے، اولیاء و علماء کو رحمۃ اللہ تعالی علیہم یا قُدِّسَتْ اَسْرَارُھُمْ اور اگر (اولیاء و علماء کے ناموں کے ساتھ) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کہے، جب بھی کوئی مضائقہ (حرج) نہیں۔" (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 390 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

سیدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے ایک شخص نے سوال کیا اور حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا۔ آپ نے صورت مسئولہ کاجواب دینے کے بعد فرمایا: علیہ السلام لفظ بالاستقلال حضرات انبیائے کرام و ملائکہ عظام علیہم الصلٰوۃ و السلام کے لئے خاص ہے ان کے غیر کے لئے استقلالاً جائز نہیں۔ حضور پر نور سیدناغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے رضی اللہ تعالٰی عنہ کہنا چاہئے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 19، صفحہ 159، رضا فاونڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: کسی کے نام کیساتھ علیہ السلام کہنا، یہ انبیاء و ملائکہ علیھم السلام کے ساتھ خاص ہے۔ مثلا موسیٰ علیہ السلام، جبریل علیہ السلام۔ نبی اور فرشتہ کے سوا کسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے۔ (بھارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 465، مکتبة المدینہ کراچی)

فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمۃ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، جمھور علماء کا مذھب یہ کہ استقلالا و ابتداء جائز نہیں جائز ہے اور اتباعا جائز ہے، یعنی امام حسین علیہ السلام کہنا جائز نہیں ہے اور امام حسین علی نبینا و علیہ السلام جائز ہے۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 267، شبیر برادرز لاہور)

مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین امجدی قادری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: "نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر صلوۃ و سلام بھیجنے کے بعد تبعاً دوسرے لوگوں پر بھی درود پڑھنا جائز ہے۔" (وقار الفتاویٰ، جلد 1، صفحہ 134، بزم وقارالدین، کراچی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لگانے کے متعلق شرح فقہِ اکبر میں ہے: أنہ قولہ: علی علیہ السلام من شعار أہل البدعة" ترجمہ: یعنی بے شک اس کا علی علیہ السلام کہنا اہل بدعت کے شعار میں سے ہے۔ (شرح الفقہ الأکبر، صفحہ 167، قدیمی کتب خانہ کراچی)

امام المتکلمین علامہ عبدالعزیز صاحب نبراس رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: لایجوز التصلیة والتسلیم علی غیر الانبیاء استقلالا عند المحققین من اھل السنة" ترجمہ: محققین علماء اہلسنت کے نزدیک غیر نبی کے ساتھ مستقل درود و سلام جائز نہیں۔ (النبراس شرح عقائد، صفحہ 24، مکتبۃ البشری، کراچی)

بعض چیزوں کااطلاق عرف کے سبب کسی کے ساتھ خاص ہوجاتاہے۔ اس کی ایک نظیرلفظ عزوجل بھی ہے کہ ہمارے عرف میں یہ ذاتِ باری تعالی کے ساتھ خاص ہے،لہذا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کااطلاق ممنوع ہے، اگرچہ کے اس کامعنی عزت و جلالت والا ہے اور یقینا نبی پاک علیہ السلام عزت وجلالت والے ہیں۔ لیکن عرف کے سبب محمدعزوجل نہیں نہ کہہ سکتے اسی طرح علیہ السلام والا مسئلہ ہے۔ امام المتکلمین علامہ عبدالعزیز صاحب نبراس رحمہ رحمۃ اللہ تعالی اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ان ھذا فی عرف السلف من شعار الانبیاء، فلزم التخصیص بھم کما لایجوز ان یقال فی النبی صلی اللہ علیہ و سلم "عزوجل" و ان کان عزیزا جلیلا"ترجمہ: بیشک علیہ السلام کا اطلاق سلف صالحین کے عرف میں انبیاء کرام کے ساتھ کہنے کا شعار تھا، لہذا اس کو انبیاء کے سا تھ خاص رکھنا لازم ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو عزوجل کہنا ناجائز ہے، اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عزت و جلالت والے ہیں۔ (النبراس شرح عقائد، صفحہ 24،مکتبۃ البشری، کراچی)

فتاوی امجدیہ میں صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے یہ سوال ہوا کہ: یاحسین علیہ السلام کہنا جائز ہے یا نہیں اور ایسا لکھنا بھی کیسا ہے اور پکارنا کیسا ہے؟ تو آپ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا: یہ سلام جو نام کے ساتھ ذِکر کیا جاتا ہے یہ سلام تحیت (یعنی ملاقات کا سلام) نہیں جو باہم ملاقات کے وَقت کہا جاتا ہے یا کسی ذریعہ سے کہلایا جاتا ہے بلکہ اس (یعنی علیہ السلام) سے مقصود صاحب اسم کی تعظیم ہے۔ عرف اہل اسلام نے اس سلام (یعنی علیہ السلام لکھنے بولنے) کوانبِیاء و ملائکہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔ مثلا حضرت ابراھیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت میکائیل علیہ السلام۔ لہٰذا غیرِ نبی و ملک (یعنی نبی اور فرشتے کے علاوہ) کے نام کے ساتھ علیہ السلام نہیں کہنا چاہئے۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 4، صفحہ 243، 244، 245، مکتبہ رضویہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
6
نماز کے مسائل
کیا آنے والے شخص کے لیے امام رکوع کو لمبا کر سکتا ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر امام رکوع میں ہو اور اسے محسوس ہو کہ کوئی جماعت میں شامل ہونے کے لئے آ رہا ہے، تو کیا امام اس کے لئے رکوع طویل کر سکتا ہے تاکہ وہ بھی جماعت میں شامل ہو کر موجودہ رکعت پا لے؟
جواب
اگر امام آنے والے کو پہچانتا ہے اور اس کی خاطر داری کے لئے رکوع طویل کرے، تو یہ مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر نہیں جانتا یا جانتا ہے، لیکن اس کی طرف رغبت کی وجہ سے طویل نہ کرے، بلکہ محض رکعت پانے میں اس کی مدد کا ارادہ ہو جو کسی نہ جاننے والے کے لئے بھی کر دیتا، تو معمولی مقدار میں رکوع طویل کرنا درست، بلکہ افضل ہے کہ نیکی پر اس کی مدد کرنا ہے، لیکن اس قدر بھی لمبا نہ کرے کہ دیگر مقتدیوں پر گراں گزرے کہ ایسا کرنا، مکروہ تحریمی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے: ’’ثم الامام اذا كان في الركوع، فسمع خفق النعل ممن دخل المسجد هل ينتظره ام لا؟ ۔۔۔۔قال الفقيه ابو الليث: ان كان الامام قد عرف الجائي فانه لا ينتظره، لانه يشبه الميل وان لم يعرفه فلا باس به، لان في ذلك اعانة على الطاعة‘‘ ترجمہ: پھر امام جب رکوع میں ہو اور مسجد میں داخل ہونے والے کے جوتوں کی آواز سنائی دے، تو اس کا انتظار کرے یا نہیں؟ ۔۔ (اس بارے میں) فقیہ ابو لیث (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں: اگر امام آنے والے کو جانتا ہے، تو اس کا انتظار نہ کرے، کیونکہ یہ اس طرح ہو گا گویا اس نے (عبادت میں غیر کی طرف) میلان کی وجہ سے ایسا کیا اور اگر نہ جانتا ہو، تو حرج نہیں کہ اس میں نیکی پر مدد کرنا ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 209، مطبوعہ بیروت)

در مختار میں ہے: ’’وكره تحريما اطالة ركوع او قراءة لادراك الجائي: اي ان عرفه والا فلا باس به‘‘ یعنی: رکوع یا قراءت کو آنے والے کی خاطر لمبا کرنا مکروہ تحریمی ہے، جبکہ اسے پہچانتا ہو ورنہ اس میں حرج نہیں۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے: ’’(قوله اي ان عرفه) ۔۔ لان انتظاره حينئذ يكون للتودد اليه لا للتقرب والاعانة على الخير (قوله والا فلا باس) اي وان لم يعرفه فلا باس به لانه اعانة على الطاعة، لكن يطول مقدار ما لا يثقل على القوم، بان يزيد تسبيحة او تسبيحتين على المعتاد۔۔اقول: قصد الاعانة على ادراك الركعة مطلوب۔۔فعلى هذا اذا قصد اعانة الجائي فهو افضل بعد ان لا يخطر بباله التودد اليه ولا الحياء منه ونحوه‘‘ یعنی: (جب جانتا ہو) کیونکہ اس صورت میں انتظار اس کی طرف رغبت کی وجہ سے ہو گا، نیکی اور بھلائی پر مدد کے لئے نہیں ہو گا، (ورنہ حرج نہیں) یعنی اگر اسے نہیں جانتا، تو اس میں حرج نہیں، کیونکہ یہاں نیکی پر مدد کرنا ہے، لیکن اس قدر طویل نہ کرے کہ مقتدیوں پر گراں گزرے، یوں کہ معمول کی تسبیحات سے ایک دو تسبیحات کا اضافہ کرے، ۔۔ میں کہتا ہوں کہ رکعت پانے پر مدد کا ارادہ مطلوب ہے، ۔۔تو اس وجہ سے اگر آنے والے کی مدد کا ارادہ کیا، تو یہ افضل ہے، لیکن یہ اس کی طرف رغبت اور اس سے حیاء وغیرہ کی وجہ سے نہ ہو۔ (ملتقطاً از رد المحتار مع در مختار، کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 495، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ’’کسی آنے والے کی وجہ سے رکوع یا قراء ت میں طول دینا مکروہ تحریمی ہے، جب کہ اسے پہچانتا ہو یعنی اس کی خاطر ملحوظ ہو اور نہ پہچانتا ہو تو طویل کرنا افضل ہے کہ نیکی پر اعانت ہے، مگر اس قدر طول نہ دے کہ مقتدی گھبرا جائیں‘‘۔ (بہار شریعت، حصہ 3، صفحہ 526، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
7
عیدِمیلاد النبی ﷺ
کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے میلاد منانا ثابت ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جشن ولادت نہ تو حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منایا نہ ہی خلفائے راشدین میں سے کسی نے منایا ، لہٰذا یہ بدعت ہے اور حدیث میں ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے جس کا انجام جہنّم ہے۔ برائے کرم اس کا تسلّی بخش جواب عنایت فرمائیں ؟
جواب
کسی کام کے ناجائز ہونے کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ یہ کام حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم یا صحابہ ٔکرام علیہمُ الرِّضوان نے نہیں کیا ، بلکہ مدار اس بات پر ہے کہ اس کام سے اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منع فرمایا ہے یا نہیں ؟ اگر منع فرمایا ہے ، تو وہ کام ناجائز ہے اور منع نہیں فرمایا ، تو جائز ہے ، کیونکہ فقہ کا یہ قاعدہ بھی ہے کہ ’’الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘ ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں۔ یعنی ہر چیز مباح اورحلال ہے ہاں اگر کسی چیز کو شریعت منع کردے ، تو وہ منع ہے، یعنی ممانعت سے حرمت ثابت ہوگی نہ کہ نئے ہونے سے۔

یہ قاعدہ قرآنِ پاک اور احادیثِ صحیحہ و اقوالِ فقہاء سے ثابت ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا

ترجمۂ کنزالایمان:

اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں توتمہیں بُری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھوگے کہ قرآن اُتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرماچکا ہے۔ (پارہ 7، سورۃ المائدہ ، آیت 101)

صدر الافاضل حضرت علّامہ مولانا سیّد محمد نعیمُ الدّین مُرادآبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں: ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس اَمر کی شَرع میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح ہے ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حلال وہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا ، حرام وہ ہے جس کو اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا وہ معاف ہے تو کلفت میں نہ پڑو۔‘‘(خزائن العرفان،ص224)

حدیثِ پاک میں ہے: ’’الحلال ما احل اللہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ و ما سکت عنہ فھو مما عفیٰ عنہ‘‘ ترجمہ: حلال وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جس پر خاموشی فرمائی وہ معاف ہے۔ (ترمذی،3/280، حدیث:1732)

چونکہ محافلِ دینیہ منعقد کرکے عید میلاد منانے کی ممانعت قرآن و حدیث، اقوالِ فقہاء نیز شریعت میں کہیں بھی وارد نہیں، لہٰذا جشنِ ولادت منانا بھی جائز ہے اور صدیوں سے علماء نے اسے جائز اور مستحسن قرار دیا ہے۔

شارح بخاری امام قسطلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:

’’ربیعُ الاوّل چونکہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت کا مہینا ہے لہٰذا اس میں تمام اہلِ اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کی راتوں میں صدقات اور اچّھے اعمال میں کثرت کرتے ہیں۔ خصوصاً ان محافل میں آپ کی میلاد کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرتے ہیں۔ محفلِ میلاد کی یہ برکت مجرّب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سال امن کے ساتھ گزرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس آدمی پر اپنا فضل و احسان کرے جس نے آپ کے میلاد مبارَک کو عید بناکر ایسے شخص پر شدّت کی جس کے دل میں مرض ہے۔‘‘(المواھب اللدنیہ، 1/27)

شیخ عبدالحق محدّث دِہلوی علیہ رحمۃ اللہ القویفرماتے ہیں:’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے مہینے میں محفل میلاد کا انعقاد تمام عالَم ِاسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ اس کی راتوں میں صدقہ خوشی کا اظہار اور اس موقع پر خُصوصاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تذکرہ مسلمانوں کا خُصوصی معمول ہے۔“(ماثبت بالسنہ،ص102)

امام جمالُ الدّین الکتانی لکھتے ہیں:’’حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت کا دن نہایت ہی معظّم، مقدّس اور محترم و مبارَک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود پاک اتّباع کرنے والے کے لئے ذریعۂ نجات ہے جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اس نے اپنے آپ کو جہنّم سے محفوظ کرلیا۔ لہٰذا ایسے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا اور حسبِ توفیق خرچ کرنا نہایت مناسب ہے۔“(سبل الھدیٰ والرشاد،1/364)

اور یہ کہنا کہ’’ہرنیا کام گمراہی ہے‘‘ دُرست نہیں ، کیونکہ بدعت کی ابتدائی طور پر دو قسمیں ہیں : بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیّئہ۔ بدعتِ حسنہ وہ نیا کام ہے ، جو کسی سنّت کے خلاف نہ ہو جیسے مَوْلِد شریف کے موقع پر محافلِ میلاد، جلوس،سالانہ قراءَت کی محافل کے پروگرام، ختم بخاری کی محافل وغیرہ۔بدعتِ سیّئہ وہ ہے جو کسی سنّت کے خلاف یا سنّت کو مٹانے والی ہوجیسے غیرِ عربی میں خُطبۂ جُمعہ و عیدین۔

چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکلا اور ظاہر ہوا بدعت کہلاتا ہے پھر اس میں سے جو کچھ اصول کے موافق اور قواعد سنّت کے مطابق ہو اور کتاب و سنّت پر قیاس کیا گیا ہو بدعتِ حسنہ کہلاتا ہے اور جو ان اصول و قواعد کے خلاف ہو اسے بدعتِ ضلالت کہتے ہیں۔ اورکل بدعۃ ضلالۃ کا کلیہ اس دوسری قسم کے ساتھ خاص ہے۔(اشعۃ اللمعات مترجم،1/422)

بلکہ حدیث پاک میں نئی اور اچّھی چیز ایجاد کرنے والے کو تو ثواب کی بشارت ہے۔چنانچہ مسلم شریف میں ہے: ”مَنْ سَنَّ في الإسلامِ سنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أجْرُهَا، وَأجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، مِنْ غَيرِ أنْ يَّنْقُصَ مِنْ أُجُورهمْ شَيءٌ، وَمَنْ سَنَّ في الإسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيهِ وِزْرُهَا، وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْم بَعْدِهِ، مِنْ غَيرِ أنْ يَّنْقُصَ مِنْ أوْزَارِهمْ شَيءٌ‘‘ ترجمہ: جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے ثواب ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے تمام کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا اور ا ن کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔

اور جو شخص اسلام میں بُرا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے گناہ ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی گناہ ملے گا اور ان کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔(مسلم، ص394، حدیث:1017)

جشنِ ولادت منانا بھی ایک اچّھا کام ہے ، جو کسی سنّت کے خلاف نہیں ، بلکہ عین قرآن و سنّت کے ضابطوں کے مطابِق ہے۔ رب تعالیٰ کی نعمت پر خوشی کا حکم خود قرآنِ پاک نے دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا﴾ ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔(پ11، یونس :58)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:﴿ وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔(پ30، والضحیٰ:11)

خود حضورِ اکر م صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنا یومِ میلا د روزہ رکھ کر مناتے ۔ چنانچہ آپ ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے ، جب اس کی وجہ دریافت کی گئی ، تو فرمایا:’’اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“ (مسلم،ص455، حدیث:2750)

خلاصۂ کلام یہ کہ شریعت کے دائرہ میں رہ کر خوشی منانا ، مختلف جائز طریقوں سے اِظہارِ مَسرّت کرنا اور محافلِ میلاد کا انعقاد کر کے ذکرِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہوئے ان پر مسرت و مبارک لمحات کو یاد کرنا ، جو سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت ہے ، بہت بڑی سعادت مندی کی بات ہے۔مزید تفصیل کے لیے علمائے اہلِ سنّت کی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
8
عیدِمیلاد النبی ﷺ
کیا فتاوی رضویہ میں تاریخ ولادت 8 ربیع الاول لکھی ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کچھ لوگوں نے اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا حوالہ دے کر ایک اسٹیکر شائع کیا ہے، جس میں درج ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالے ”نطق الہلال“ فتاویٰ رضویہ، جلد 26 میں لکھا ہے کہ ولادتِ (پیدائش) نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ و اٰلہٖ و سلَّم 8 ربیعُ الاوّل ہے اور وفاتِ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ و اٰلہٖ و سلَّم 12 ربیع ُالاوّل ہے۔

کیا واقعی اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا یہی موقف ہے کہ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ و اٰلہٖ و سلَّم کی ولادت آٹھ ربیعُ الاوّل کو ہوئی؟
جواب
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی تحقیق یہی ہے کہ جشن ولادت بارہ ربیع الاوّل کو منایا جائے۔

فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 411 پر ہے۔ ”اس (ولادت کی تاریخ کے بارے) میں اقوال بہت مختلف ہیں: دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس، سات (7) قول ہیں، مگر اشہر و اکثر و مأخوذ و معتبر بارہویں ہے۔ مکۂ معظّمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کو مکانِ مولِد اقدس کی زیارت کرتے ہیں ۔ کما فی المواھب و المدارج (جیسا کہ مواھب لدنیہ اورمدارج نبوۃ میں ہے) اور خاص اس مکانِ جنّت نِشان میں اسی تاریخ میں مجلسِ میلادِ مقدّس ہوتی ہے۔“

فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 427 پر ہے: شَرْعِ مُطہّر میں مشہور بینَ الجمہور ہونے کے لئے وقعت عظیم ہے (یعنی جوموقف اکثر علما کا ہووہ خود ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے) اور مشہور عندَ الجمہور 12 ربیع الاوّل ہے اور علِم ھَیْئَت و زیجات کے حساب سے روز ولادت شریف 8 ربیعُ الاوّل ہے۔

مزید فرماتے ہیں تعامل مسلمین حرمین شریفین و مصر و شام بلاد اسلام و ہندوستان میں بارہ ہی پر ہے۔ اس پر عمل کیا جائے۔الخ“ (فتاویٰ رضویہ، ج 26، ص 427، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

جب کوئی محققِ وقت کسی مسئلے پر قلم اٹھاتا ہے، تو وہ اس مسئلے سے متعلّق مختلف لوگوں کی آراء اور اقوال بھی نقل کرتا ہے۔ اس مقام پر امامِ اہلسنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے اسی طرح کا طرزِعمل اختیار کرتے ہوئے مختلف لوگوں کے موقف کو بھی بیان فرمایا اور علم زیج والوں کا قول بھی نقل کیا کہ وہ تمام کے تمام آٹھ ربیعُ الاوّل کو یوم ولادت قرار دیتے ہیں۔

محض آدھی بات کو لے کر پروپیگنڈا کرنا اور اس بات کو چھوڑ دینا کہ امامِ اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے جمہور کا موقف کس تاریخ کو قرار دیا ہے اور کس تاریخ کو جشنِ ولادت منانے کی تاکید کی ہے، انصاف کے خلاف اور غلط روش ہے۔ خود امامِ اہلسنّت رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے اپنے اشعارمیں بارہویں تاریخ ہی کو لے کر لمحات مسرّت ہونا بیان کیا اور برادرِ اعلیٰ حضرت نے تو ایک پورا کلام ہی ”بارہویں تاریخ“ کا قافیہ لے کر کہا ہے اور ان کا وصال امامِ اہلسنّت کی زندگی ہی میں ہوا اور امامِ اہلسنّت ان کے کلام کے پڑھنے کی تاکید کرتے رہے۔ پھر یہ کہنا اور تأثّر دینا کہ 12 تاریخ کو جشنِ ولادت منانا امامِ اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی مَنْشا کے خلاف ہے، بہت بڑی زیادتی ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
9
عیدِمیلاد النبی ﷺ
12 ربیع الاول یومِ ولادت یا یومِ وفات ؟ اور اس دن خوشی منائیں یا غم ؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ 12 ربیع الاول کے دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش نہیں ہوئی ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات اس دن ہوئی ہے، تو اس دن خوشی نہیں ، بلکہ غم منانا چاہیےکہ اس دن تمام صحابہ کرام اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اہل بیت سب رنجیدہ تھے اور ہم خوشی مناتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ارشاد فرمائیں کہ(1) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کیا ہے؟ (2)اور اس دن خوشی منانا ،جائز ہے یا نہیں؟
جواب
(1)نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تاریخ ولا دت میں اقوال مختلف ہیں، لیکن زیادہ مشہور و اکثر و ماخوذ و معتبر یہی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول کو ہوئی ہے۔

چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:”اس میں اقوال بہت مختلف ہیں: دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس۔ سات قول ہیں، مگر اشہر و اکثر و ماخوذ و معتبر بارہویں ہے، مکۂ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ مکان مولد اقدس کی زیارت کرتے ہیں۔کما فی المواھب والمدارج جیسا کہ مواہب لدنیہ اور مدارج النبوۃ میں ہے اور خاص اس مکان جنت نشان میں اسی تاریخ میلاد مقدس ہوتی ہے ۔

علامہ قسطلانی و فاضل زرقانی فرماتے ہیں: ”المشھور أنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ولد یوم الاثنین ثانی عشر ربیع الأول و ھو قول محمد بن اسحاق امام المغازی وغیرہ“مشہور یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم بارہ ربیع الاول بروز پیر کو پیدا ہوئے، امام المغازی محمد بن اسحاق وغیرہ کا یہی قول ہے۔

شرح مواہب میں امام ابن کثیر سے ہے:”ھو المشھور عند الجمھور“جمہور کے نزدیک یہی مشہور ہے۔

اسی میں ہے: ”ھو الذی علیہ العمل“یہی وہ ہے جس پر عمل ہے۔

شرح الہمزیہ میں ہے:”ھو المشھور و علیہ العمل“ یہی مشہور اور اسی پر عمل ہے۔(فتاوی رضویہ، ج 26 ، ص 411 ، 412، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال با کمال کی تاریخ میں بھی اختلا ف ہے۔ مشہورقول یہی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال مبارک بارہ ربیع الاول کوہوا،لیکن تحقیق یہ ہے کہ حقیقۃً بحسب رؤیت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرہویں تھی، کیونکہ یہ تو بالاجماع ثابت ہے کہ وفات مبارکہ پیر کے دن ہوئی اور یہ بھی ثابت ہے کہ نو ذوالحجہ کو جمعۃ المبارک تھا، اب اگر حساب کیا جائے ، تو بارہ ربیع الاول کسی بھی اعتبار سے پیر کو نہیں بنتی، لیکن مدینہ شریف میں چونکہ رؤیت نہیں ہوئی تھی، لہٰذا ان کے حساب سے بارہویں تھی اور اسی کو راویوں نے بیان کیا اور یہی جمہور کے نزدیک مقبول ٹھہری ۔

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:”قول مشہور و معتمد جمہور دوازدہم (12)ربیع الاول شریف ہے،ابن سعد نے طبقات میں بطریق عمر بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کی:” مات رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ مضت ربیع الأول“یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات شریف روز دو شنبہ ، ربیع الاول شریف کی بارھویں تاریخ کوہو ئی۔۔۔

کامل ابن اثیر جزری میں ہے: ”کان موتہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یوم الاثنین لثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الأول“ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال بارہ ربیع الاول پیر کے روز ہوا۔۔۔

اور تحقیق یہ ہے کہ حقیقۃً بحسب رؤیت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرھویں تھی، مدینہ طیبہ میں رؤیت نہ ہوئی، لہٰذا ان کے حساب سے بارھویں ٹھہری، وہی رواۃ نے اپنے حساب کی بنا پر روایت کی اور مشہور و مقبول جمہور ہوئی، یہ حاصل تحقیق امام بارزی و امام عماد الدین بن کثیر و امام بدر الدین بن جماعہ و غیرہم اکا بر محدثین و محققین ہے۔۔۔

تفصیل مقام و توضیح مرام یہ ہے کہ وفات اقدس ماہ ربیع الاول شریف روز دو شنبہ میں واقع ہوئی ، اس قدر ثابت و مستحکم و یقینی ہے، جس میں اصلا جائے نزاع نہیں۔۔۔ادھر یہ بلا شبہ ثابت کہ اس ربیع الاول سے پہلے جو ذی الحجہ تھا، اس کی پہلی روز پنجشنبہ تھی کہ حجۃ الوداع شریف بالاجماع روز جمعہ ہے۔۔۔ اور جب ذی الحجہ 10ھ؁ کی 29 روز پنجشنبہ تھی تو ربیع الاول 11ھ؁کی 12 کسی طرح روز دو شنبہ نہیں آتی کہ اگر ذی الحجہ، محرم ، صفر تینوں مہینے 30 کے لیے جائیں ، تو غرہ ربیع الاول روز چار شنبہ ہوتا ہے اور پیر کی چھٹی اور تیرہویں، اور اگر تینوں 29 کے لیں ، تو غرہ روز یکشنبہ پڑتا ہے اور پیر کی دوسری اور نویں اور اگر ان میں کوئی سا ایک ناقص اور باقی دو کامل لیجیے ، تو پہلی سہ شنبہ کی ہوتی ہے اور پیر کی ساتویں چودہویں اور اگر ایک کامل دو ناقص مانیے، تو پہلی پیر کی ہوتی ہے، پھر پیر کی آٹھویں پندرھویں۔ غرض بارہویں کسی حساب سے نہیں آتی اور ان چار کے سوا پانچویں کوئی صورت نہیں۔

قول جمہور پر یہ اشکال پہلے امام سہیلی کے خیال میں آیا اور اسے لا حل سمجھ کر انہوں نے قول یکم اور امام ابن حجر عسقلانی نے دوم کی طرف عدول فرمایا۔۔۔ مگر امام بدر بن جماعہ نے قول جمہور کی یہ تاویل کی کہ اثنی عشر خلت سے بارہ دن گزرنا مراد ہے، نہ کہ صرف بارہ راتیں اور پُر ظاہر کہ بارہ دن گزرنا تیرہویں ہی تاریخ پر صادق آئے گا اور دو شنبہ کی تیرہویں بے تکلف صحیح ہے، جبکہ پہلے تینوں مہینے کامل ہوں، کما علمت اور امام بارزی و امام ابن کثیر نے یوں توجیہ فرمائی کہ مکہ معظمہ میں ہلال ذی الحجہ کی رؤیت شام چار شنبہ کو ہوئی، پنجشنبہ کا غرہ اور جمعہ کا عرفہ ، مگر مدینہ طیبہ میں رؤیت دوسرے دن ہوئی ، تو ذی الحجہ کی پہلی جمعہ کی ٹھہری اور تینوں مہینے ذی الحجہ، محرم، صفر تیس تیس کے ہوئے ، تو غرہ ربیع الاول پنجشنبہ اور بارہویں دو شنبہ آئی ۔ “ (ملخصاً من فتاوی رضویہ، ج26،ص415تا421 رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

(2) جب یہ ثابت ہو گیا کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت بارہ ربیع الاول ہی کو مشہور اورعرب و عجم کے مسلمانوں میں معمول بہ ہے ، تو اس دن خوشی کا اظہار کرنا اور میلاد کی محافل منعقد کرنا، نہ صرف جائز، بلکہ محبوب و مستحسن ہے،اس دن ایک قول کے مطابق نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کا دن ہونے کی وجہ سے بھی ولادت کی خوشی میں کوئی فرق نہیں آئے گا کہ اسلام میں سوگ تومرنے والے کی بیوہ کے لیے چار ماہ دس دن اور اس کے علاوہ باقی اعزہ و اقرباء کے لیے صرف تین دن تک جائز ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں، تو صحابۂ کرام اور اہل بیت اطہار ، نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال مبارک پر مغموم اور رنجیدہ تھے ، تو وہ سوگ کی وجہ سے تھے،اب اتنا عرصہ گزر جانے کی وجہ سے ہمارے لیے سوگ جائز نہیں،لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خوشی کے لیے کوئی دن اور مہینہ خاص نہیں اور اس کی کوئی تعیین و تحدید نہیں ہے، لہٰذا مؤمنین ہر سال ، ہر ماہ اور ہر دن آپ کی تشریف آوری والی نعمت کا شکر بجا لانے کے لیے موقع کی مناسبت سے خوشی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

سوگ تین دن کے لیے جائز ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں، مگر جس کا خاوند فوت ہو جائے، اس عورت کے لیے چار ماہ دس دن کا سوگ ہے۔ چنانچہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں:”نھینا أن نحد أکثر من ثلٰث إلا لزوج“ہمیں تین دن سے زیادہ سوگ سے منع کیا گیا ہے، سوائے اس عورت کے ، جس کا خاوند فوت ہو جائے۔(بخاری شریف، ج 1،ص 170، مطبوعہ کراچی)

اسی طرح حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں: ”سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الاٰخر أن تحد علی میت فوق ثلٰث الا علی زوج فانھا تحد علیہ أربعۃ أشھر و عشرا“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، مگر جس کا شوہر فوت ہو جائے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔(بخاری شریف ، ج 1، ص 171 ، مطبوعہ کراچی)

میلاد شریف حقیقت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت پاک پر خوشی کا اظہار کرنااور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت پاک، حمل شریف، شیر خوارگی کے واقعات،نورمحمد ی صلی اللہ علیہ و سلم کی کرامات، نسب نامہ، پرورش کے دوران کے واقعات، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات وغیرہا محاسن کے بیان کانام ہے، جو شرعاً جائز و مستحسن ہے اور دنیا و آخرت کی ہزارہا نعمتوں و برکتوں کے حصول کا سبب ہے، اس کا جواز بکثرت آیات و احادیث، حتی کہ خود نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال و افعال، صحابہ کرام اور بزرگان دین سے ثابت ہے اگرچہ جواز کے لیے یہ دلیل بھی کافی ہے کہ اس کی ممانعت شریعت سے ثابت نہیں ہے اور جس کام سے اللہ تعالیٰ اور رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا، وہ کسی کے منع کرنے سے منع نہیں ہوسکتا ۔ اس کے علاو ہ میلاد کے جواز و استحسان پر دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

ذکر ولادت و تذکرۂ رسول اکرم، نورمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آیات مبارکہ سے دیکھیے۔

آیت نمبر 1: اللہ عزوجل نے فرمایا:﴿ وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیۡ قَالُوۡۤا اَقْرَرْنَا ؕ قَالَ فَاشْہَدُوۡا وَاَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴾ترجمۂ کنز الایمان: اور یاد کرو! جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا، جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں ، پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہار ی کتابوں کی تصدیق فرمائے ، تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا: کیا تم نے اقرار کیا؟ اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا؟ سب نے عرض کی: ہم نے اقرار کیا، فرمایا: تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔ (پارہ 3،سورہ آل عمران: 3، آیت 81 )

اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں:

(1) اللہ تعالیٰ نے حضور پر نورشافع یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذکر کے لیے سب کو جمع فرمایا۔

(2) انبیاء کے اجتماع میں اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد کا تذکرہ فرمایا۔

(3) انبیاء کے اجتماع میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت و شان ﴿ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ ﴾ کے ساتھ بیان فرمائی۔

(4) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت وحمایت و نصرت پر انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا۔

(5)اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے اجتماع میں آمدمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور بعثت و رسالت و عظمت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بیان فرمائی اور انبیاء کرام علیہم السلام سامعین تھے۔

اب غو رکریں ! اس سے بڑھ کر میلاد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محفل اور کیا ہوگی ؟مسلمان بھی تو اپنے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ عقیدت و محبت کے اظہار کے لیے یہی کرتے ہیں۔ اگر ان پر حرمت کافتوی ہے ، تو مذکورہ محفل کے بارے میں کیا حکم ہے؟

آیت نمبر2:اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے:﴿ لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴾ترجمۂ کنز الایمان:بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول ، جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے، تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر کمال مہربان ۔ (پارہ 11 ، سورۃ التوبہ:9،آیت 128)

اس آیت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں:

(١)﴿جَآءَکُمْ ﴾ سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد کا تذکرہ ہے۔

(٢)﴿مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ ﴾ سے سرکا ر دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بشریت مبارکہ اور نسب مبارک کا ذکر ہے۔

(٣)﴿عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ ﴾ سے امت پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفقت کا ذکر ہے۔
(٤)﴿حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ ﴾ اور ﴿ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴾ سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت و شان کا تذکرہ ہے ۔

یہ آیت بھی شاندار طریقے سے میلاد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا طریقہ بتارہی ہے۔

کیا تلاوتِ قرآن کے وقت یہ آیت پڑھنا جائز اور چند لوگوں کے سامنے پڑھنا، ناجائز و حرام ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ خدا عقل دے ، تو غور کریں کہ عین نماز میں اگر امام صاحب یہ آیت بلند آواز میں تلاوت کریں ، تو حالتِ نماز میں میلادِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر ہوا یا نہیں ؟ اور جب جماعت موجود ہے ، تو اجتماع و محفل خود بخود پائی گئی ، لہٰذا اس کا انکار نہ کرے گا، مگر وہ جو نماز میں تلاوتِ قرآن کا ہی منکر ہو۔

آیت نمبر 3: اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿ قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوۡنَ ﴾ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ : اللہ عزوجل ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں،وہ ان کے سب دھن ، دولت سے بہتر ہے۔ (پارہ 11، سورہ یونس، آیت 58)

اس آیت کریمہ میں اللہ عزوجل نے رحمت خداوندی پر خوشی منانے کا حکم دیا ہے اور کیا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر بھی کوئی اللہ عزوجل کی رحمت یا نعمت ہے؟دیکھیے!مقدس قرآن میں صاف صاف اعلان ہے: ﴿وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا ، مگر رحمت سارے جہاں کے لیے۔ (پارہ 17،سورۃ الأنبیاء، آیت107)

دوسری جگہ ارشادفرمایا: ﴿ لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ اِذْ بَعَثَ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا ﴾ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ (پارہ 4،سورۃآل عمران، آیت 164)

پہلی آیت کریمہ میں سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے رحمت ہونے کا ذکراور دوسری میں نعمت ہونے کا ذکر ہے۔

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں اظہار نعمت کا حکم ارشاد فرمایا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ﴿ وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے رب کی نعمت کاخوب چرچا کرو۔ (پارہ 30،سورۃ الضحیٰ ،آیت 11)

سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نعمت ہونا اظہر من الشمس ہے۔ تفسیر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں اسی آیت کے تحت اسی جگہ یوں ہے:”أی بالنبوۃ والاسلام“یعنی نبوت اوراسلام کی نعمت پر(خوب چرچا کرو)۔ (تفسیر ابن عباس)

خود آقا و مولا سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں اپنی ولادت، اپنے عالیشان نسب اور اپنے کمالات و بلند رتبے کا تذکرہ کرنا ثابت و مروی ہے۔

چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ جلد 7ص 409 مطبوعہ ملتان، مشکوٰۃ المصابیح ص 513مطبوعہ کراچی اور ترمذی شریف میں ہے:

واللفظ للترمذی:”عن المطلب بن أبی وداعۃ قال جاء العباس الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فکأنہ سمع شیئا فقام النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی المنبر فقال: من أنا؟ فقالوا أنت رسول اللہ علیک السلام، قال: أنا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب،ان اللہ خلق الخلق فجعلنی فی خیرھم ثم جعلھم فرقتین فجعلنی فی خیرھم فرقۃ ثم جعلھم قبائل فجعلنی فی خیرھم قبیلۃ ثم جعلھم بیوتا فجعلنی فی خیرھم بیتا وخیرھم نفسا

حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے ،تو شاید سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلم نے اپنے نسب کے بارے میں کوئی بات سنی تھی،چنانچہ سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم منبر شریف پر جلوہ گر ہوئے اور ارشاد فرمایا : میں کون ہوں؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا : آپ اللہ عزوجل کے رسول ہیں، آپ پر سلام ہو۔ فرمایا: میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، بے شک اللہ عز و جل نے مخلوق کو پیدا فرمایا اور ان میں اچھوں میں مجھے رکھا، پھر ان اچھوں کی دو جماعتیں کیں ، تو مجھے ان میں سے اچھی جماعت میں سے بنایا، پھر ان اچھوں کے کئی قبیلے کیے ، تو مجھے اچھے قبیلہ میں بنایا، پھر ان اچھوں کے گھر بنائے ، تو مجھے اچھے گھر والوں میں اور اچھے نفس والوں میں بنایا۔ (ترمذی شریف، ج 2،ص201، مطبوعہ کراچی)

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت کے آخر میں یہ الفاظ زائد ہیں:”فأنا خیرکم بیتا و خیرکم نفسا“تو میں تم سب میں سے گھر کے اعتبار سے بھی اچھا ہوں اور تم سب سے ذات کے اعتبار سے بھی اچھا ہوں۔

اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہر پیر کے دن روزہ رکھ کر بھی اپنا میلاد منایا، جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس روزے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس دن میری ولادت ہوئی ، لہٰذا پتا چلا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں ہر پیر کو روزہ رکھا جائے کہ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

ابو داؤد شریف جلد1ص351 مطبوعہ لاہور،مشکوٰۃ المصابیح ص179 مطبوعہ کراچی اور مسلم شریف میں ہے واللفظ للمسلم: حضرت سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:”سئل رسول اللہ عن صوم الاثنین فقال فیہ ولدت و فیہ أنزل علی“رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا (کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہر پیر کا روزہ رکھا کرتے تھے)، تو جواباً ارشاد فرمایا:اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ (مسلم شریف، ج1 ،ص368 ،مطبوعہ کراچی)

صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے بھی نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کے لیے جمع ہونا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر اللہ نے جو ہم پر احسان عظیم فرمایا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس پر خوش ہونا اور ان کو خوشخبری سنانا ثابت ہے۔

چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

”ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خرج علی حلقۃ یعنی من أصحابہ فقال: ما أجلسکم؟ قالوا: جلسنا ندعو اللہ و نحمدہ علی ما ھدانا لدینہ و من علینا بک ، قال: آٰللہ ما أجلسکم إلا ذٰلک ؟ قالوا: آٰللہ ما أجلسنا إلا ذٰلک ، قال: أما أنی لم أستحلفکم تھمۃ لکم و إنما أتانی جبرئیل علیہ السلام فأخبرنی أن اللہ عزوجل یباھی بکم الملآئکۃ“

بے شک نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صحابۂ کرام کی ایک محفل میں تشریف لائے اور فرمایا: کس چیز نے تمہیں یہاں بٹھایا ہے؟ انہوں نے عرض کی: ہم یہاں اس لیے بیٹھے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو دین اسلام کی دولت عطا فرمائی ہے اور آپ کو بھیج کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ، اس کا ذکر کریں، اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور اللہ تعالیٰ کی اس پر حمد بجا لائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ کی قسم تم صرف اس لیے ہی بیٹھے ہو؟ عرض کی: اللہ کی قسم ہم صرف اسی لیے بیٹھے ہیں ،تو ارشاد فرمایا: میں نے تم سے اس لیے قسم نہیں لی کہ مجھے تم پر شک ہے ، بلکہ جبرئیل امین میرے پاس آئے اور مجھے خبر دی کہ بے شک تمہارے اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرشتوں پر فخر فرما رہا ہے۔ (سنن نسائی، ج 2،ص 310، مطبوعہ لاھور)

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں ابو لہب نے لونڈی کو آزاد کیا ، تو اس کو بھی اس کی وجہ سے فائدہ پہنچا، یہ مشہور واقعہ بخاری شریف میں اس طرح ہے:” جب ابو لہب مر گیا ، تو اس کے بعض گھر والوں نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا۔ پوچھا گیا : کیا گزری؟ ابو لہب بولا، تم سے جدا ہو کر مجھے کوئی خیر نصیب نہ ہوئی، ہاں مجھے اس کلمے کی انگلی سے پانی ملتا ہے ، کیونکہ میں نے ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا۔(بخاری شریف، ج1 ،ص153، مطبوعہ دارالفکر،بیروت)

اس روایت کے تحت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” سب سے پہلے جس نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دودھ پلایا، وہ ابو لہب کی باندی ثویبہ تھی، جس شب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، ثویبہ نے ابولہب کو بشارت پہنچائی کہ تمہارے بھائی حضرت عبد اللہ کے گھر فرزند پیدا ہوا ہے، ابو لہب نے اس مژدہ پر اس کو آزاد کر کے حکم دیا کہ جاؤ دودھ پلاؤ۔ حق تعالیٰ نے اس خوشی و مسرت پر جو ابو لہب نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت پر ظاہر کی ، اس کے عذاب میں کمی کر دی اور دو شنبہ کے دن اس پر سے عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔

اس حدیث میں میلاد شریف پڑھوانے والوں کے لیے حجت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کی رات میں خوشی و مسرت کا اظہار کریں اور خوب مال و زر خرچ کریں۔ مطلب یہ کہ باوجودیکہ ابو لہب کافر تھا اور اس کی مذمت قرآن کریم میں نازل ہو چکی ہے، جب اس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی اور اس نے اپنی باندی کو دودھ پلانے کی خاطر آزاد کر دیا ، تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے حق تعالیٰ نے اسے اس کا بدلہ عنایت فرمایا ۔ “(مدارج النبوۃ، ج دوم، ص 33,34، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

بلکہ جامع ترمذی جو صحاح ستہ میں سے مشہور کتاب ہے، اس کے مؤلف امام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خاص میلاد کے حوالے سے ایک باب باندھا، جس کا نام ہی درج ذیل رکھا:”باب ماجاء فی میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم“،یعنی یہ باب ان احادیث کے بارے میں ہے جو میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں آئی ہیں۔(جامع الترمذی، ج5 ،ص356 ،مطبوعہ دارالفکر،بیروت)

مذکورہ بالا جزئیات سے ثابت ہوا کہ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا رحمت و نعمت ہونا، اس پر خوشی منانا، سب قرآن واحادیث سے ثابت و مروی ہے، البتہ مروجہ انداز اُس دور میں نہ تھا، یعنی جس طرح لائٹنگ کرتے ہوئے، اسپیکر پر مخصوص بارہ تاریخ کو میلاد کرنا، لیکن اس دور میں کسی چیز کا نہ ہونا، بدعت قبیحہ (بری بدعت)ہونے کو مستلزم نہیں، ورنہ بہت سی ایسی چیزیں جو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں نہ تھیں، وہ سب کے نزدیک درست ہیں، جو میلاد پر اعتراض کرتے ہیں وہ بھی انہیں اچھا جانتے ہیں۔

وہ قرآن جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ، جس کا ماننا ایمان کی شرط ہے، اس پر سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور میں نہ تو نقطے تھے، نہ اعراب، نہ ایک جگہ پر جمع، بلکہ متفرق بغیر نقطوں ،بغیر اعراب کے تھا، لیکن اس دور میں اس کی صورت ہر ایک کے سامنے ہے، تو کیا قرآن کا انداز ہمارے پاس بصورت بدعت ہے؟ ہرگز نہیں، اسی طرح احادیث کی کتابت، باقاعدہ راویوں پر جرح و قدح کرنا، ان کے بارے میں کتابیں لکھنا،مساجد پکی بنانا،ان میں منبر و مینارہونا، قرون اُولی میں کہاں تھا؟ تو یہ سب بھی بدعت ہیں یا نہیں؟

اگر بدعت کی حقیقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی میلاد پر اعتراض کرتا ہے ، تو مذکورہ اشیاء کا بھی انکارکردے اور پھر اسلام کے احکام پر عمل کرے ، تو پتا چل جائے گا۔

بدعت سے مراد ہر وہ نیاکام ، جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور اقدس میں نہیں تھا، لیکن ہر بدعت قبیح نہیں، بلکہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: ایک بدعت حسنہ اور دوسری بدعت سیئہ ۔ یعنی ہر بدعت بری نہیں ہوتی، بلکہ بعض اچھی بھی ہوتی ہیں، جیسا کہ بعض کا ذکر ہوا ، تو جب وہ سب بدعت ہونے کے باوجود جائز ہیں ، تو میلاد کیوں ناجائز ہوا؟ حالانکہ میلاد بہت سے نیک و مستحب کاموں کا مجموعہ ہے،جب متفرق طور پر ان میں سے ہر کام جائز و مستحب و مستحسن ہے ، توان سب کا مجموعہ بھی جائز و مستحب و مستحسن ہی ہو گا، جیسا کہ ایک جگہ پر امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”جب افراد حرام نہیں ہوں گے ، تو اس کا مجموعہ کیوں کر حرام ہوگا ۔ “

مزید فرماتے ہیں:”جب الگ الگ جائز کام جمع ہوجائیں ، تو ان کامجموعہ بھی جائز ہوتا ہے اور جب اس کے ساتھ کوئی مباح کام ملایا جائے ، تو وہ حرام نہیں ہوجاتا ۔ “(احیاء العلوم اردو،ج2،ص622،مطبوعہ پروگریسو بکس)
سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حدیث پاک”کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار“ کے تحت فرماتے ہیں: ”جو بدعت کہ اصول اور قواعد سنت کے موافق اور اس کے مطابق قیاس کی ہوئی ہے (یعنی شریعت و سنت سے نہیں ٹکراتی) اس کو بدعت حسنہ کہتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہے وہ بدعت گمراہی کہلاتی ہے ۔ “ (اشعۃ اللمعات،جلداول،ص125،مطبوعہ ملتان)

میلاد کا منانا اس وقت دنیا بھر کے مسلمانوں میں رائج و مروی ہے اور تمام عالم اسلام کے مسلمان اسے جائز و مستحسن و اچھا سمجھتے ہیں اور ایک حدیث پا ک میں مروی ہے:”عن ابن مسعود ما رأہ المؤمنون حسنا فھو عند اللہ حسن و فی حدیث مرفوع ولا تجتمع أمتی علی الضلالۃ“حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس کا م کو مسلمان اچھاجانیں ، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے او رحدیث مرفوع میں ہے کہ میری امت گمراہی پرمتفق نہ ہوگی۔( مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح ، ج 1 ، ص 224 ، مطبوعہ بیروت)

اس حدیث پاک سے بھی معلوم ہوتاہے کہ مسلمان جس کو ثوا ب کا کام جانیں، وہ عندا للہ بھی کار ثواب ہے۔نیز حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تراویح کی باقاعدہ جماعت مقرر فرما کر فرمایا: ”نعمت البدعۃ ھذہ“یہ تو بہت ہی اچھی بدعت ہے۔ ( مشکوۃ شریف، ص115، مطبوعہ کراچی)

فقہاء و صوفیہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ عید میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے موقع پر ماتم اور غم کا تذکرہ کرنا بھی مناسب نہیں، بلکہ اس میں خوشی ہی کا اظہار ہونا چاہیے۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:”مجلس ملائک مآنس میلاد اقدس توعظیم شادی وخوشی وعید اکبر کی مجلس ہے، اذکار غم اس کے مناسب نہیں، فقیر اس میں ذکر وفات والابھی جیسا کہ بعض عوام میں رائج ہے، پسند نہیں کرتا، حالانکہ حضور کی حیات بھی ہمارے لیے خیر اور حضور کی وفات بھی ہمارے لیے خیر، صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۔ اس تحریر کے بعد علامہ محدث سیدی محمد طاہر فتنی قدس سرہ الشریف کی تصریح نظرفقیر سے گزری، انہوں نے بھی اس رائے فقیر کی موافقت فرمائی، والحمد للہ رب العٰلمین۔

آخرکتاب مستطاب مجمع بحارالانوار میں فرماتے ہیں:” شھرالسرور والبھجۃ مظھر منبع الأنوار و الرحمۃ شھرربیع الأول، فإنہ شھر أمرنا باظھار الحبور فیہ کل عام، فلا نکدرہ باسم الوفاۃ۔۔۔۔۔ أنہ لیس لہ أصل فی أمھات البلاد الاسلامیۃ وقد تحاشوا عن اسمہ فی أعراس الأولیاء فکیف فی سیّد الأصفیاء صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم“یعنی ماہ مبارک ربیع الاول خوشی وشادمانی کامہینہ ہے اورسرچشمہ انواررحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کازمانہ ظہورہے، ہمیں حکم ہے کہ ہرسال اس میں خوشی کریں، تو اسے وفات کے نام سے مکدرنہ کریں گے۔۔۔۔۔۔ اور خاص اسلامی شہروں میں اس کی کچھ بنیادنہیں، اولیائے کرام کے عرسوں میں نامِ وفات سے احتراز کرتے ہیں ، تو حضورپرنورسیدالاصفیاء صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معاملہ میں اسے کیونکر پسند کرسکتے ہیں۔ فالحمدللہ علی ما ألھم وﷲ سبحٰنہ وتعالی أعلم۔‘‘(فتاوی رضویہ، ج 24،ص 516، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اس کی مزید تفصیل کے لیے امام ِاہلسنت مجدد دین و ملت سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن کے فتاویٰ بنام فتاویٰ رضویہ تخریج شدہ جلد23 ص759پر موجود فتوے اور اسی طرح جاء الحق وغیرہ کُتب جو میلاد کے موضوع پر لکھی گئی ہیں ، ان کا مطالعہ فرمائیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
10
عیدِمیلاد النبی ﷺ
جلوسِ میلاد اور محفلِ میلاد میں ڈھول باجے ، آتش بازی اور خواتین کے بے پردہ آنے کا حکم؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جلوس میلاد ،محفل پاک یا کسی اسلامی تقریب کے موقع پر ڈھول بجانا،آتش بازی کرنا ،تالیاں بجانا،بینڈ باجے کا اہتمام کرنا اور خواتین کا بے پردہ ہو کرجلوس اور ایسی تقریبات میں شرکت کرنا کیساہے ؟
جواب
جلوس میلاد اور دینی محافل کا انعقاد کرنا بہت اچھا کام ہے ، لیکن اس میں ڈھول ،بینڈ باجے ،آتش بازی اور بے پردگی کرنا ، ناجائز و گناہ ہے،جس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں ان تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ، انہوں نے ہی ایسے بے ہودہ کاموں سے منع فرمایا ہے،لہٰذا ایسی خرافات سے دور رہتے ہوئے ہی ایسے نیک کاموں کا انعقاد کیا جائے۔

گانے بجانے کے آلات کے بارے میں بخاری شریف میں ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرما یا: ”لیکو نن من امتی اقوام یستحلون الحر والحریر والخمروا لمعازف “ترجمہ:ضرور میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو عورتوں کی شرمگا ہ کو(یعنی زنا)اور ریشمی کپڑوں اور شرا ب اور گانے بجانے کے آلات کو حلا ل ٹھرائیں گے۔(بخاری شریف،کتاب الاشربۃ ج 2ص837 ، مطبوعہ کراچی)

آلات موسیقی کے بارے میں مسند امام احمد بن حنبل میں ہے: ”عن ابي امامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله بعثني رحمة للعالمين وهدى للعالمين، وامرني ربي بمحق المعازف والمزامير والاوثان والصلب“ترجمہ:حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :بے شک میرے رب نے مجھے دو نوں جہانوں کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے مجھے گانےبجانے کےآلات ہر طرح کے آلات ،بت اور صلیب توڑنے کا حکم دیا ہے ۔(مسند امام احمد بن حنبل ،حدیث ابو امامہ باھلی،ج36،ص640،مؤسسہ الرسالہ )

گانے باجے اور آتش بازی کے متعلق اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں :”آتش بازی جس طرح شادیوں اور شب برأت میں رائج ہے بیشک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضییع مال ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا،قال اللہ تعالی(اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : )﴿ لا تبذر تبذیرا،ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین ،وکان الشیطان لربہ کفورا﴾ترجمہ کنز الایمان: اور فضول نہ اڑابیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔

رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:” ان اللہ تعالی کرہ لکم ثلثا قیل و قال و اضاعۃ المال و کثرۃ السوال رواہ البخاری عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ تعالی عنہ“ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے تمھارے لئے تین کاموں کو ناپسند فرمایا (1) فضول باتیں کرنا(2) مال کو ضائع کرنا (3) بہت زیادہ سوال کرنااور مانگنا۔ امام بخاری نے اس کو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔

شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی” ماثبت بالسنۃ “میں فرماتے ہیں: ” من البدع الشنیعۃ ما تعارف الناس فی اکثر بلاد الھند من اجتماعھم للھو و اللعب بالنار، و احراق الکبریت،مختصرا“ترجمہ: بری بدعات میں سے یہ اعمال ہیں جو ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں متعارف اور رائج ہیں جیسے آگ کے ساتھ کھیلنا اور تماشہ کرنے کے لئے جمع ہونا گندھک جلانا وغیرہ ۔

اسی طرح یہ گانے بجانے کہ ان بلاد میں معمول و رائج ہیں بلا شبہ ممنوع و نا جائز ہیں۔“(فتاوی رضویہ ، ج 23 ، ص 279 تا 280 ، رضافاؤنڈیشن ، لاھور)

ایک اور مقام پر بے پردگی کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں:”بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جزء ،تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقا حرام ہے۔“(فتاوی رضویہ،ج22،ص239تا240،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
11
عیدِمیلاد النبی ﷺ
میلاد منانے کا شرعی حکم اور اس کی اہمیت
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ لوگوں نے میلا دمنانا ضروری سمجھ لیا ہے، نہ منانے والوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں، جبکہ اس کا فرض، واجب ہونا قرآن و حدیث کہیں سے بھی ثابت نہیں ہے؟
جواب
اوّلاً یہ سمجھ لیجیے کہ میلاد منانا یعنی حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانا اور اس خوشی کے اظہار میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے با برکت ذکر ، شان و عظمت اور سیرتِ طیبہ کو بیان کرنے کے لیے محافل کا انعقاد کرنا اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے گلیوں، بازاروں میں چراغاں کرنا، وغیرہ شرعاًجائز، بلکہ باعثِ اجر و ثواب کام ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور فضل پرخوشی منانے اور اپنی نعمت کا چرچاکرنے کاحکم خود قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت بھی ہیں ، عظیم فضل بھی ہیں اور سب سے بڑی نعمت بھی ہیں۔ نیز میلادِ مصطفیٰ کا ثبوت بکثرت آیات ، احادیث اور سلف صالحین کے عمل سے بھی ہوتا ہے۔ (اس موضوع پر تفصیلی فتاویٰ دار الافتاء اہل سنت (دعوت اسلامی) کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، وہاں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔)

اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل و رحمت نصیب ہو، تو اس پر خوشی منانی چاہیے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡاهُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ ( پ 11، سورۃ یونس، آیت 58)

اللہ پاک نعمت دے تو اس کا خوب چرچا کرنا چاہیے، جیساکہ ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ (پ 30، سورۃ الضحیٰ، آیت 11)

خود حضورِ اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا یومِ میلاد منایا کرتے تھے، چنانچہ آپ ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے، جب اس کی وجہ دریافت کی گئی، تو فرمایا: ’’ذاك يوم ولدت فيه، ويوم بعثت“ اس دن میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن میں مبعوث ہوا تھا (اسی کی خوشی اور یاد میں روزہ رکھتا ہوں)۔ (صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 819، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)

معلوم ہوا کہ ولادتِ مبارکہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور اس دن کو عبادت کے ذریعے یاد کرنا، سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

جہاں تک سوال میں مذکور اس بات کا تعلق ہے کہ لوگوں نے میلاد منانے کو ضروری سمجھ لیا ہے تو یہ دعویٰ ہی سرے سے درست نہیں، کیونکہ اہل سنت کے نزدیک میلاد منانا محض ایک مستحب اور باعثِ ثواب عمل ہے، اس کے فرض ، واجب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جاتا اور عام طور پر عاشقان رسول مسلمان بھی اسی نظریہ کے تحت میلاد مناتے ہیں، اسے شرعاً فرض، واجب نہیں سمجھتے۔ لہٰذا جو یہ دعویٰ کرے کہ میلاد منانے والے اسے شرعاً ضروری سمجھتے ہیں، اس پر دلیل پیش کرنا لازم ہے، بلا دلیل دعویٰ درست نہیں۔

اور جو یہ کہا گیا کہ جو شخص میلاد نہ منائے اس پر طعنہ زنی کی جاتی ہے یہ بھی حقیقت کے خلاف ہے کہ عموماًطعن و تشنیع، اعتراضات اور بدعت و گمراہی کے فتوے میلاد شریف منانے والوں پرلگائے جاتے ہیں، جبکہ اس کے برخلاف عاشقانِ رسول علمائے کرام اور مبلغین اسلام میلاد کی اصل (اللہ کی نعمت پر خوشی کا اظہار ، نعت ، شانِ مصطفیٰ کا بیان، درود و سلام پڑھنا، وغیرہ) کو قرآن و سنت اور اسلاف کے عمل سے ثبوت کے طور پر بیان کرتےہیں اور اسے محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اظہار کا ایک بہترین اور عمدہ طریقہ سمجھتے ہوئے اس کی ترغیب دیتے ہیں، جو اچھی نیت سے اس میں شریک ہو وہ ثواب کا حقدار ہے، مگر جو اس کا اہتمام نہ کر سکے، اسے محض اس بنا پر کسی بھی طرح موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاتا اور نہ ہی گناہ گار کہا جاتا ہے۔

ہاں! اگر کوئی شخص میلاد منانے کے جواز کا ہی انکار کرے اور اسے ناجائز و حرام اور بدعتِ سیئہ وغیرہ قرار دے، تو اسے علمی طور پر جواب دینا اور اس عملِ خیر کی مشروعیت بیان کرنا، اہلِ علم کی شرعی ذمہ داری ہے، کیونکہ جس عمل کا جواز شریعتِ مطہرہ کے عمومی دلائل سے ثابت ہو، اسے از خود ناجائز و حرام قرار دینا شرعاً جائز نہیں، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دو ،جنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔ (القرآن الکریم ، سورۃ المائدۃ ، آیت 87 )

حاصل یہ کہ سوال میں ذکر کردہ دعویٰ کہ لوگ میلاد منانے کو لازم و ضروری سمجھتے ہیں ، جب کہ قرآن و سنت میں اس کے وجوب کا ثبوت موجود نہیں دعوی بلا دلیل، بلکہ خلافِ واقع بات ہے۔ اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک میلاد شریف منانا فقط ایک مستحب اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے، شرعاً واجب و ضروری نہیں، تو پھر قرآن و سنت سے اس کے وجوب کی دلیل کا مطالبہ کرنا، بلا جواز اور علمی اعتبار سے درست نہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

کل مسائل: 11