اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیۡکَ یَا رَسُوۡلَ اللّٰہ
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصۡحٰبِکَ یَا حَبِیۡبَ اللّٰہ
تمام حلال و حرام کے مسائل روزے کے مسائل عقائد کے مسائل عیدِمیلاد النبی ﷺ قسم اور منت کے متعلق مسائل معملات ِاہلسنت نماز کے مسائل
1
معملات ِاہلسنت
کیا اولاد کے اعمال کی خبر فوت شدہ والدین تک پہنچتی ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کسی شخص کے فوت شدہ والدین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے کیا اچھا اور برا عمل کر رہے؟
جواب
جی ہاں آدمی کے سب اعمال کی خبر اس کےفوت شدہ والدین کو پہنچتی ہے، وہ اپنی اولاد کے نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور برے اعمال سے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ آدمی کے اعمال اس کے ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ الجامع الصغیر میں ہے:

تعرض الأعمال یوم الأثنین و الخمیس علی اللہ و تعرض علی الأنبیاء و علی الآباء و الأمهات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتهم و تزداد وجوههم بیاضاً و إشراقاً فاتقوا اللہ و لاتؤذوا موتاکم

ترجمہ: پیر اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام اور آباء و امہات پر جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ انبیائے کرام امت کے نیک اعمال اور والدین اپنی اولاد کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہرےروشن اور سفید ہوجاتے ہیں، لہٰذا اللہ عز و جل سے ڈرو اور اپنے فوت شدگان کوتکلیف مت دو۔ (الجامع الصغیر فی احادیث البشیر و النذیر، جلد 1، صفحہ 199، رقم الحدیث: 3316، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں والدین کی وفات کے بعد اولاد پر آنے والے والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: سب میں سخت تر و عام تر و مدام تر یہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کر کے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبر ماں باپ کو پہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں، تو خوش ہوتے ہیں اور ان کا چہرہ فرحت سے چمکتا اور دمکتا ہے، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پر صدمہ ہوتا ہے، ماں باپ کا یہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
2
معملات ِاہلسنت
نبی کریم ﷺ اپنی قبر مبارک میں درودِ پاک سنتے ہیں؟
سوال
میرا سوال یہ ہے كہ ہم اہلسنت وجماعت کا عقیدہ ہے، درودپاک پڑھنے والاکہیں سے بھی درودپڑھے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اپنے مزار اقدس میں سماعت فرماتے ہیں۔ اس پر تفصیلی دلیل کیا ہے؟
جواب
اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی دنیا کے کسی بھی حصے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر درودِ پاک پڑھتاہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اسے سماعت فرماتے ہیں، اور اس کاجواب بھی ارشادفرماتے ہیں۔

چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم خود ارشاد فرماتے ہیں: ليس من عبد يصلّي عليّ إلا بلغني صوته حيث كان" ترجمہ: جو بھی شخص مجھ پر درود پاک پڑھتا ہے اس کی آواز مجھے پہنچتی ہےخواہ وہ کہیں بھی ہو۔ (سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، جلد 12، صفحہ 358، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ایک روایت میں مزید ان الفاظ کا اضافہ ہے "قلنا: و بعد و فاتك؟ قال: وبعد وفاتي إن اللہ عزَّ وجلَّ حرم على الأرض أن ياکل أجساد الأنبياء" ترجمہ: صحابہ فرماتے ہیں ہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیا آپ کے دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں میرے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی کہ اللہ تعالی نےزمین پر حرام فرمادیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔ (البدر التمام شرح بلوغ المرام، جلد 5، صفحہ 406، مطبوعه: بیروت)

المعجم الکبیر للطبرانی میں حضرت عبدالله بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:إن اللہ عز وجل قد رفع لي الدنيا، فأنا أنظر إليها وإلى ما هو كائن فيها إلى يوم القيامة، كأنما أنظر إلى كفي هذه؛" ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے پوری دنیا کو اس طرح نمایاں کر دیا ہے کہ میں اسے اور قیامت تک اس میں پیش آنے والے تمام حالات و واقعات کو ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انکشاف ہے، جو اس نے اپنے نبی پر فرمایا، جس طرح اس سے پہلے بھی انبیائے کرام علیہم السلام پر ایسے حقائق منکشف فرمائے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 13، صفحہ 318، رقم الحدیث 14112، مطبوعہ: بیروت)

رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم کا مبارک فرمان ہے "إني أرى ما لا ترون وأسمع ما لا تسمعون" یعنی میں ہر اس چیز کو دیکھتا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے اور ہر اس آواز کو سنتا ہوں جسے تم نہیں سنتے۔ ( مشكاة المصابيح، ج 3، ص 1469، الحدیث: 5347، مطبوعہ: بيروت)

شارحِ بخاری، حضرت علامہ مولانا سیِّد غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس روایت کے تحت فرماتے ہیں: ہر وہ آواز اس میں داخل ہے جس کو مُخاطَبین (یعنی جن سے خطاب فرمایا) نہیں سنتے خواہ وہ عالَم کے کسی گوشے سے اٹھے، کُرّۂ زمین کی ہو یا کُرّۂ آب کی ، کُرّۂ ہوا کی ہو یا کُرّۂ نار کی، کُرّۂ سماوات کی ہو یا عرش و کرسی کی ، خواہ انسان کی آواز ہو یا حیوانات کی، نَباتات (پودوں وغیرہ) کی ہو یا جمادات (پتھر وغیرہ بے جان چیزوں) کی، جِنّات کی ہو یا فرشتوں کی یا ایسی مخلوق کی آواز ہوجس کو ہم نہیں جانتے۔ ۔ ۔ غرض کہ تمام عالَم کی جملہ آوازوں پر یہ کلمہ مشتمل ہے۔ (بشیر القاری بشرح صحیح بخاری، ص14، میر محمد کتب خانہ، کراچی)

سلام کاجواب ارشادفرمانے کے متعلق سنن ابی داؤد میں ہے"عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: ما من أحد يسلم علي إلا رد اللہ علي روحي حتى أرد" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی مجھ پر سلام عرض کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، ج 3، ص 384، مطبوعہ: بیروت)

علّامہ تقی الدین علی سُبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریرفرماتے ہیں: قد تضمنت الاحادیث المتقدمۃ: ان روح النبی صلی اللہ علیہ و سلم ترد علیہ، و انہ یسمع ویرد السلام" ترجمہ: احادیثِ مذکورہ اس بات کو متضمن ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی روح مبارک آپ علیہ الصلوۃ والسلام پر لوٹا دی جاتی ہے، اور اس بات کوبھی کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام، سلام کو سنتے ہیں اور اس کا جواب مرحمت فرماتے ہیں۔ (شفاء السقام، صفحہ 390، دارا لکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
3
معملات ِاہلسنت
غیر نبی کے ساتھ علیہ السلام لگانا کیسا؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر نبی کے ساتھ مستقل طور پر علیہ السلام لکھنا؟ یا کہنا کیسا؟ اورخاص حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لگانے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جمہورمحقق علمائے اہل سنت کے نزدیک علیہ السلام مستقل طورپرفقط انبیائے کرام و ملائکہ عظام علیہم السلام کے ساتھ عرفاً خاص ہے، جیسے کہا جاتا ہے، سیدنا آدم علیہ السلام اور حضرت جبرائیل علیہ السلام۔ ان کے علاوہ کسی اورکے ساتھ استقلالاً لکھنا یا کہنا جائز نہیں، مثلا سیدنا ابوبکر علیہ السلام، سیدنا عمرعلیہ السلام وغیرہ، البتہ غیر انبیاء اور غیر ملائکہ کے لیے علیہ السلام کا لفظ بہ تَبعِیّت لکھنا پڑھنا جائز ہے، یعنی ابتداً نبی علیہ السلام پر درود و سلام ہو، اس کے بعد اہل بیت یا صحابہ پر، لہذا یوں کہنا کہ حضرت امام حسن و حسین علی نبینا و علیہماالسلام یہ جائز ہے، جب یہ مسئلہ واضح ہوگیا تو اس سےثابت ہوا کہ حضرت مولائے کائنات، علی المرتضی، شیر خدا رضی اللہ عنہ کے لیے علیہ السلام استقلالاً لکھنا اور بولنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ انبیاءِ کرام وملائکہ عظام علیہم السلام میں سے نہیں ہیں۔ ان کے نام مبارک کے ساتھ رضی اللہ عنہ یا کرم اللہ وجھہ الکریم کہنااور لکھنا چاہیے۔

علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: و قال ابوحنیفة و اصحابہ و مالک و الشافعی و الاکثرون انہ لایصلی علی غیر الانبیاء علیہم الصلوة و السلام استقلالا، فلایقال اللھم صل علی ال ابی بکر او علی ال عمر او غیرھما و لکن یصلی علیھم تبعا" ترجمہ: یعنی امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب، امام مالک، امام شافعی اور اکثر علماء نے فرمایا: انبیائے کرام علیھم السلام کے سوا کسی پر استقلالاً درود نہیں بھیجا جا سکتا، پس یہ نہیں کہا جا سکتا: اللّٰھم صل علی ال ابی بکر" یا "اللّٰھم صل علی ال عمر" وغیرہ، لیکن ان پر (انبیائے کرام علیھم السلام کے) تابع کرکے درود بھیجا جا سکتا ہے۔ (عمدة القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الزکوة، جلد 6، صفحہ 556، بیروت)

فتاوی ھندیہ (جلد 6، صفحہ 446)، بحر الرائق (جلد 8، صفحہ 555)نیز در مختار میں ہے (و اللفظ للآخر): و لا یصلیٰ علی غیر الانبیاء و لا علی غیر الملائکۃ الا بطریق التبع" ترجمہ: یعنی انبیائے کرام علیھم السلام اور فرشتوں کے علاوہ پر درود نہیں بھیجا جائے گا مگر بطورِ تبعیت کے۔ اس کے تحت عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز المعروف ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: و أما السلام فنقل اللقانی فی شرح جوھرۃ التوحید عن الامام الجوینی أنہ في معنی الصلاة، فلا یستعمل فی الغائب و لایفرد بہ غیر الأنبیاء، فلا یقال علی علیہ السلام و سواء في ہذا الأحیاء و الأموات. . . . . و الظاہر أن العلة في منع السلام ما قالہ النووي في علة منع الصلاة أن ذلک شعار أہل البدع و لأن ذلک مخصوص في لسان السلف بالأنبیاء علیہم السلام" ترجمہ: اور بہرحال سلام تو امام لقانی نے "شرح جوھرۃ التوحید" میں امام جوینی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ بے شک سلام، درود کے معنی میں ہے، پس اسے غائب میں استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انبیائے کرام علیھم السلام کے علاوہ کو سلام کے ساتھ الگ (ذکر) کیا جائے گا، پس علی علیہ السلام نہیں کہا جائے گا، اور اس حکم میں زندہ اور وفات پانے والے سب برابر ہیں اور ظاہر ہے کہ سلام کے منع ہونے کی علت وہ ہے جسے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے صلوۃ کے منع ہونے کی علت میں نقل کیا ہے کہ بے شک یہ اہلِ بدعت کا شعار ہے، اور اس لیے کہ یہ سلف کی زبان میں انبیائے کرام علیھم الصلوۃ و السلام کے ساتھ خاص ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الخنثی، فصل في مسائل شتی، جلد 10 صفحہ 518 مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت "لان ذلک" کے تحت تحریر فرماتے ہیں: اقول: ھکذا نص علی التعلیل بہ فی "الغنیۃ" عند شرح خطبۃ المنیۃ و صرح ان افراد غیر الانبیاء بالسلام ابتداع واجب الاجتناب و صرح علی القاری فی شرح الفقہ الاکبر: (ان قول علیہ السلام لسیدنا علی کرم اللہ وجھہ من شعار الروافض (اھل البدعۃ)قلت: و اذ قد انعقد الاجماع علی منعہ فلا معنی لارتکابہ" ترجمہ: یعنی میں (امام احمد رضا) کہتا ہوں: اس کی تعلیل پر ایسے ہی صراحت ہے المنیہ کے خطبے کی شرح کرتے وقت الغنیہ میں، انہوں نے صراحت فرمائی ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کے علاوہ کو سلام کے ساتھ الگ ذکر کرنا بدعت ہے اور اس سے بچنا واجب ہے اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الفقہ الاکبر میں صراحت کی ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجھہ کے لئے علیہ السلام کہنا روافض (اہلِ بدعت) کا شعار ہے۔میں (امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں: اور جب اس کی ممانعت پر اجماع منعقد ہوچکا تواس کے ارتکاب کا کوئی جوازنہیں۔ (جدالممتار علی ردالمحتار جلد 7، صفحہ 241، مکتبۃ المدینہ کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: صلوة و سلام بالاستقلال انبیاء و ملائکہ علیھم السلام کے سوا کسی کے لیے روا (جائز) نہیں، ہاں بہ تبعیت جائز ہےجیسے اللھم صل و سلم علی سیدنا و مَولیٰنا محمد و علی ال سیدنا و مولیٰنا محمد اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنھم کےلیے رضی اللہ تعالٰی عنہ کہا جائے، اولیاء و علماء کو رحمۃ اللہ تعالی علیہم یا قُدِّسَتْ اَسْرَارُھُمْ اور اگر (اولیاء و علماء کے ناموں کے ساتھ) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کہے، جب بھی کوئی مضائقہ (حرج) نہیں۔" (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 390 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

سیدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے ایک شخص نے سوال کیا اور حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا۔ آپ نے صورت مسئولہ کاجواب دینے کے بعد فرمایا: علیہ السلام لفظ بالاستقلال حضرات انبیائے کرام و ملائکہ عظام علیہم الصلٰوۃ و السلام کے لئے خاص ہے ان کے غیر کے لئے استقلالاً جائز نہیں۔ حضور پر نور سیدناغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے رضی اللہ تعالٰی عنہ کہنا چاہئے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 19، صفحہ 159، رضا فاونڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: کسی کے نام کیساتھ علیہ السلام کہنا، یہ انبیاء و ملائکہ علیھم السلام کے ساتھ خاص ہے۔ مثلا موسیٰ علیہ السلام، جبریل علیہ السلام۔ نبی اور فرشتہ کے سوا کسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے۔ (بھارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 465، مکتبة المدینہ کراچی)

فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمۃ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، جمھور علماء کا مذھب یہ کہ استقلالا و ابتداء جائز نہیں جائز ہے اور اتباعا جائز ہے، یعنی امام حسین علیہ السلام کہنا جائز نہیں ہے اور امام حسین علی نبینا و علیہ السلام جائز ہے۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 267، شبیر برادرز لاہور)

مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین امجدی قادری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: "نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر صلوۃ و سلام بھیجنے کے بعد تبعاً دوسرے لوگوں پر بھی درود پڑھنا جائز ہے۔" (وقار الفتاویٰ، جلد 1، صفحہ 134، بزم وقارالدین، کراچی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لگانے کے متعلق شرح فقہِ اکبر میں ہے: أنہ قولہ: علی علیہ السلام من شعار أہل البدعة" ترجمہ: یعنی بے شک اس کا علی علیہ السلام کہنا اہل بدعت کے شعار میں سے ہے۔ (شرح الفقہ الأکبر، صفحہ 167، قدیمی کتب خانہ کراچی)

امام المتکلمین علامہ عبدالعزیز صاحب نبراس رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: لایجوز التصلیة والتسلیم علی غیر الانبیاء استقلالا عند المحققین من اھل السنة" ترجمہ: محققین علماء اہلسنت کے نزدیک غیر نبی کے ساتھ مستقل درود و سلام جائز نہیں۔ (النبراس شرح عقائد، صفحہ 24، مکتبۃ البشری، کراچی)

بعض چیزوں کااطلاق عرف کے سبب کسی کے ساتھ خاص ہوجاتاہے۔ اس کی ایک نظیرلفظ عزوجل بھی ہے کہ ہمارے عرف میں یہ ذاتِ باری تعالی کے ساتھ خاص ہے،لہذا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کااطلاق ممنوع ہے، اگرچہ کے اس کامعنی عزت و جلالت والا ہے اور یقینا نبی پاک علیہ السلام عزت وجلالت والے ہیں۔ لیکن عرف کے سبب محمدعزوجل نہیں نہ کہہ سکتے اسی طرح علیہ السلام والا مسئلہ ہے۔ امام المتکلمین علامہ عبدالعزیز صاحب نبراس رحمہ رحمۃ اللہ تعالی اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ان ھذا فی عرف السلف من شعار الانبیاء، فلزم التخصیص بھم کما لایجوز ان یقال فی النبی صلی اللہ علیہ و سلم "عزوجل" و ان کان عزیزا جلیلا"ترجمہ: بیشک علیہ السلام کا اطلاق سلف صالحین کے عرف میں انبیاء کرام کے ساتھ کہنے کا شعار تھا، لہذا اس کو انبیاء کے سا تھ خاص رکھنا لازم ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو عزوجل کہنا ناجائز ہے، اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عزت و جلالت والے ہیں۔ (النبراس شرح عقائد، صفحہ 24،مکتبۃ البشری، کراچی)

فتاوی امجدیہ میں صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے یہ سوال ہوا کہ: یاحسین علیہ السلام کہنا جائز ہے یا نہیں اور ایسا لکھنا بھی کیسا ہے اور پکارنا کیسا ہے؟ تو آپ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا: یہ سلام جو نام کے ساتھ ذِکر کیا جاتا ہے یہ سلام تحیت (یعنی ملاقات کا سلام) نہیں جو باہم ملاقات کے وَقت کہا جاتا ہے یا کسی ذریعہ سے کہلایا جاتا ہے بلکہ اس (یعنی علیہ السلام) سے مقصود صاحب اسم کی تعظیم ہے۔ عرف اہل اسلام نے اس سلام (یعنی علیہ السلام لکھنے بولنے) کوانبِیاء و ملائکہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔ مثلا حضرت ابراھیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت میکائیل علیہ السلام۔ لہٰذا غیرِ نبی و ملک (یعنی نبی اور فرشتے کے علاوہ) کے نام کے ساتھ علیہ السلام نہیں کہنا چاہئے۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 4، صفحہ 243، 244، 245، مکتبہ رضویہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
4
معملات ِاہلسنت
نبی کریم ﷺ کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا ثبوت
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کا ثبوت کہاں سے ہے؟ بعض لوگ اس کو بدعت قرار دے کر ناجائز و گناہ کہتے اور اس عمل سے روکتےہیں، شرعی دلائل کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟
جواب
مختصر جواب:

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا نام مبارک محمد سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر لگانا مستحب یعنی کارِ ثواب ہے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سےمحبت و عقیدت کا اظہار ہے، حتی کہ حدیث پاک کے مطابق ایسا کرنے والے کے لیے شفاعتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ملنے کی خوشخبری ہے۔ اس عمل کی اصل قرآنِ کریم، احادیثِ طیبہ، ائمہ و محدثین، اُمّت کے اکابر علمائے دین کے اقوال و افعال اور اصول وقوانینِ شریعت سے ثابت ہے، لہٰذا سوائے چند مخصوص مقامات کے (جن کی تفصیل آخرمیں ذکر کی جائے گی)، خواہ اذان کے دوران اسمِ مبارک سننے کا موقع ہو یا اس کے علاوہ، ہر صورت میں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانا، جائز و مستحسن عمل ہے۔ اس لیے اس کو بدعت و گناہ کہہ کر ترک کرنے پر زور دینا شریعت پر افتراءو بہتان اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ (تفصیلی دلائل ذیل میں ملاحظہ کیجیے۔)

نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کے استحباب کی صراحت کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) رد المحتار میں لکھتے ہیں: يستحب أن يقال عند سماع الأولى من الشهادة: صلى اللہ عليك يا رسول اللہ، وعند الثانية منها: قرت عيني بك يا رسول اللہ، ثم يقول: اللهم متعني بالسمع والبصر بعد وضع ظفري الابهامين على العينين فإنه عليه السلام يكون قائدا له إلى الجنة،كذا في كنز العباد،قهستاني،ونحوه في الفتاوى الصوفية،و في كتاب الفردوس من قبل ظفري إبهامه عند سماع أشهد أن محمدا رسول اللہ في الأذان أنا قائده و مدخله في صفوف الجنة

ترجمہ: مستحب ہے کہ مؤذن کی پہلی شہادت پر ”صلی اللہ عليك يا رسول اللہ“ کہا جائے اور دوسری پر ”قرت عيني بك يا رسول اللہ“، پھر انگوٹھوں کے ناخنوں کو آنکھوں پر رکھ کر ”اللّٰهم متعني بالسمع و البصر“ کہا جائے، ایسا کرنے والے کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم جنت کی طرف لے جانے میں قائد ہوں گے،یونہی کنز العباد،قہستانی اور اسی کی مثل فتاوی صوفیہ میں ہے۔ اور مسند الفردوس میں ہے: جو ”اشهد ان محمد ارسول اللہ“ اذان میں سن کر انگوٹھوں کو چومے، مَیں اس کا قائد ہوں اور اسے جنت کی صفوں میں داخل کروں گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب الاذان، جلد 2، صفحہ 84، مطبوعہ کوئٹہ)

اذان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی نام مبارک پڑھ یاسن کر انگوٹھے چومنا جائز و مستحسن ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مسلمان اگر وقتِ اقامت بھی تقبیل کرے، ہرگز کوئی وجہِ ممانعت نہیں، اور اسے شرعاً ناجائز نہ کہے گا، مگر وہ کہ شرع پر افترا کرتا یا نام و اکرامِ سید الانام علیہ افضل الصلاۃ و السلام سے جلتا ہے۔ اسی طرح نماز و استماع قرآن مجید و استماع خطبہ جن میں حرکت منع ہے اور ان کے امثال مواضع لزوم محذور کے سوا جہاں کہیں بھی یہ فعل بنظرِ تعظیم و محبت حضرت رسالت علیہ افضل الصلاۃ و التحیۃ ہو جیسا کہ بعض محبان سرکار سے مشہور ہے، بہرحال محبوب و محمود ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 652، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اذان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی انگوٹھے چومنا جائز و مستحسن ہونے کےحوالے سے امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کا شکوک و شبہات کا قلع قمع کرنے والا شاندار رسالہ نھج السلامۃ فی حکم تقبیل الابھامین فی الاقامۃ (یعنی اقامت کے دوران انگوٹھے چومنے کے حکم میں عُمدہ تفصیل) فتاوی رضویہ، جلد5 میں موجود ہے، جس کا مطالعہ انتہائی مفید رہے گا، ان شاء اللہ العزیز۔

یونہی مفتی جلال الدین امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1422ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: اذان و تکبیر کے علاوہ بھی نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنا جائز و مستحسن ہے کہ اس میں حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی تعظیم بھی ہے اور حضور کی تعظیم جس طرح بھی کی جائے، باعثِ ثواب ہے۔ (فتاوی فیض رسول، جلد 1، صفحہ 224، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور(

تفصیلی جواب:

نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کے ثبوت پربہت سے دلائل ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں؛

پہلی دلیل:

اس حوالے سے واضح احادیث موجود ہیں،جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عمل شرعاً نہ صرف جائز، بلکہ تعظیمِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر مشتمل ایک نہایت اچھا عمل ہے، جس کے دینی و دنیوی کثیر فوائد ہیں۔

چنانچہ علامہ محمد بن عبد الرحمن سخاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 902ھ / 1497ء) المقاصد الحسنہ میں مسند الفردوس للدیلمی کے حوالے سے لکھتےہیں: مسح العينين بباطن أنملتي السبابتين بعد تقبيلهما عند سماع قول المؤذن أشهد أن محمدا رسول اللہ، مع قوله: أشهد أن محمدا عبده و رسوله، رضيت بالله ربا، و بالاسلام دينا، و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا، ذكره الديلمي في الفردوس من حديث أبي بكر الصديق أنه لما سمع قول المؤذن أشهد أن محمد رسول اللہ قال هذا، و قبل باطن الأنملتين السبابتين و مسح عينيه، فقال صلى اللہ عليه و سلم: من فعل مثل ما فعل خليلي فقد حلت عليه شفاعتي

ترجمہ: مؤذن سے ”اشهد ان محمداً رسول اللہ“ سُن کر انگشتانِ شہادت کے پورے، اندورنی جانب سے چوم کر آنکھوں پر لگانا اور یہ دُعا پڑھنا ”أشهد أن محمدا عبده و رسوله، رضيت بالله ربا، و بالاسلام دينا، و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا“، اس حدیث کو امام دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالےسے بیان کیا کہ جب انہوں نے مؤذن کو "اشهد ان محمداً رسول اللہ" کہتے ہوئے سنا، تو یہ دُعا پڑھی اور اپنی شہادت کی انگلیوں کے پورے اندرونی جانب سے چوم کر اپنی آنکھوں پر لگائے، اس پر نبی کریمصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو میرے پیارے کی طرح عمل کرے، تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔ (المقاصد الحسنۃ، صفحہ 604، 605،دار الكتاب العربي، بيروت)

اسی روایت کو امام اسماعیل بن محمدعجلونی شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1162ھ) نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب کشف الخفاء میں نقل کیا۔ (کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 243، مطبوعہ المکتبة العصریہ)

اوپر ذکر کردہ حدیث پاک پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) نے جو فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہےکہ جب یہ عمل خلیفۂ اوّل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، تو اس پر عمل کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت کے ساتھ ساتھ اپنے خلفائے راشدین کی سنت کو بھی مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا اس عمل کے جائز و مستحب ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ طریقہ صدیقی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: و إذا ثبت رفعه على الصديق فيكفي العمل به لقوله عليه الصلاة و السلام عليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين“ ترجمہ: مفہوم واضح ہے۔ (الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ، ص 316، مؤسسة الرسالة، بيروت)

اور اسی روایت کو ذکر کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: تو صدیق سے کسی شَے کا ثبوت بعینہٖ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے ثبوت ہے، اگرچہ بالخصوص حدیث مرفوع درجہ صحت تک مرفوع نہ ہو۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 432، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

علامہ محمد بن عبدالرحمن سخاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 902ھ / 1497ء) المقاصد الحسنہ میں امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق، فقہ مالکی کےعالم و فقیہ، ابو عبد الله محمد بن محمد طرابلسی، المعروف امام حطاب مالکی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات: 954ھ) اپنی کتاب مواهب الجليل فی شرح مختصر خلیل میں حضرت خضر علیہ السلام کے حوالےسے، محدّث وقت، علامہ محمد طاہر حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 984ھ) مجمع بحار الانوارمیں، علامہ اسماعیل حقی حنفی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات 1127ھ) تفسیر روح البیان میں اور امام عجلونی شافعی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات: 1162ھ) کشف الخفاء میں نقل کرتے ہیں،و اللفظ للاول: قال وروي عن الفقيه محمد بن سعيد الخولاني قال: أخبرني الفقيه العالم أبو الحسن علي ابن محمد بن حديد الحسيني أخبرني الفقيه الزاهد البلالي عن الحسن أنه قال: من قال حين يسمع المؤذن يقول أشهد أن محمدا رسول اللہ: مرحبا بحبيبي و قرة عيني محمد بن عبد اللہ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ و يقبل إبهاميه و يجعلهما على عينيه لم يعم و لم يرمد۔ ترجمہ: یعنی شمس الدین محمد بن صالح مدنی فرماتے ہیں کہ فقیہ محمد سعید خولانی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے فقیہ عالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید حسینی نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ مجھے فقیہ زاہد بلالی نے حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ حضرت امام نے فرمایا کہ جو شخص مؤذن کو اشھد ان محمداً رسول اللہ کہتا ہوا سنے اور یہ دعا پڑھے:مرحبا بحبيبي و قرة عيني محمد بن عبد اللہ“ اور اپنے انگوٹھے چُوم کر آنکھوں پر رکھے، وہ نہ توکبھی اندھا ہو گا، نہ اس کی آنکھیں دُکھیں گی۔ (المقاصد الحسنۃ، صفحہ 606، دار الكتاب العربي، بيروت)

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: علامہ محدث محمد طاہر فتنی رَحِمہ اللہ تعالی تکملہ مجمع بحار الانوار میں حدیث کو صرف ”لایصح“ فرماکر لکھتے ہیں: و روی تجربۃ ذلک عن کثیرین“ یعنی اس کے تجربہ کی روایات بکثرت آئیں۔ (مجمع بحار الانوار، جلد 5، صفحہ 216، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ) (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 436، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

عالمِ شہیر، مفتیِ اسلام، مولانا مفتی محمد یار خلیق فاروقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 1356ھ) اپنی کتاب صلوٰۃِ مسعودی میں روایت نقل کرتے ہیں: روی عن النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم انہ قال من سمع اسمی فی الاذان و وضع ابھامیہ علی عینیہ فانا طالبہ فی صفوف القیامۃ و قائدہ الی الجنۃ“ یعنی: حضور نبی کریمصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اذان میں میرا نام سنا اور انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا، تو میں قیامت میں صفوں سے تلاش کر کے اسے جنت لے جاؤں گا۔ (صلوۃ مسعودی، جلد 2، باب نوزدہم دربیان بانک نماز، صفحہ 94، مطبوعہ پشاور)

دوسری دلیل:
زمانۂ قدیم سے سلف و صالحین، مستند و معتبر اَئمۂ دین، علماء، صلحاء، محدثین اور بزرگانِ دین کا آج تک یہ معمول رہا ہے کہ نام مبارک سن کر انگوٹھے چومتے اور آنکھوں سے لگاتے اور اس عمل کو اپنے لیے دنیا و آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ جانتے رہے اور اس کی دینی و دنیوی فضیلتیں بیان کرتے رہے،بلکہ آنکھوں کی حفاظت،وغیرہ کے لیے اس عمل کو مجرب قرار دیتے رہے ہیں، لہٰذا ایسا عمل جو مسلمانوں میں صدیوں سے رائج ہے جسے مسلمانوں کی اکثریت اچھا جانتی ہےاور ان میں معمول بہا بھی ہے،تو حدیث پاک کے مطابق وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا عمل ہے۔

چنانچہ المستدرک للحاکم، مسند امام احمد، مسند بزار، المعجم الکبیر للطبرانی اور دیگر کتب احادیث میں ہے، و اللفظ للاول: ما رای المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن‘‘ ترجمہ: جس کام کو مسلمان اچھا سمجھیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین، جلد 3،صفحہ 83، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) نے اس بات کو بہت خوبصورت انداز میں سمجھایا، فرماتے ہیں کہ نیک مسلمانوں کے نزدیک اچھا عمل،اللہ کریم کے نزدیک بھی اچھا اس لیے ہے، کیونکہ مرفوع حدیث پاک کے مطابق یہ امت مجموعی طورپر گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی، لہٰذا جس عمل پر مسلمانوں کی بڑی جماعت کاربند ہے، وہ کام بھی گمراہی والا نہیں ہوسکتا، چنانچہ عبارت ملاحظہ کیجیے:عن ابن مسعود ما رأہ المؤمنون حسنا فھو عند اللہ حسن و فی حدیث مرفوع ولا تجتمع أمتی علی الضلالۃ“ ترجمہ: مفہوم واضح۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 224، مطبوعہ بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت اس بات کو ایک اور انداز میں بیان فرماتے ہیں: ادب و اجلال جہاں تک ممکن ہو، بہتر ہے۔ فتح القدیر میں ہے: کل ما کان فی الأدب و الاجلال کان حسناً“ ہر وہ کام جو ادب و احترام میں داخل ہو وہ اچھا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23 صفحہ 405، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ نام مبارک محمد پڑھ یا سن کر سر جھکانا، انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگانا ادب ہی ادب ہے اور حسن یعنی اچھا کام ہے۔

کچھ ائمہ کے نام اوپر ذکرکردہ دلائل میں بیان ہوئے، مزید اس مسئلہ میں سلف، صالحین اور فقہائے اسلام کی تصریحات ملاحظہ کیجیے، چنانچہ شرحِ نقایہ، کنز العباد، جامع الرموز، رد المحتار، طحطاوی علی المراقی اور اردو کتب فقہ، جیساکہ فتاوی رضویہ، فتاوی امجدیہ، فتاوی نوریہ ا ور دیگر بہت سی کتب فقہ میں ہے، و اللفظ للطحطاوی: ذكر القهستاني عن كنز العباد أنه يستحب أن يقول عند سماع الأولى من الشهادتين للنبي صلى اللہ عليه و سلم صلى اللہ عليك يا رسول اللہ و عند سماع الثانية قرت عيني بك يا رسول اللہ اللّٰهم متعني بالسمع و البصر بعد وضع إبهاميه على عينيه فإنه صلى اللہ عليه و سلم يكون قائدا له في الجنة و ذكر الديلمي في الفردوس من حديث أبي بكر الصديق رضي اللہ عنه مرفوعا من مسح العين بباطن أنملة السبابتين بعد تقبيلهما عند قول المؤذن أشهد أن محمدا رسول اللہ و قال: أشهد أن محمدا عبده و رسوله رضيت بالله ربا و بالاسلام دينا و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا حلت له شفاعتي

اس پوری عبارت کا مفہوم شامی کی عبارت میں گزر چکا ہے۔

مزید احادیث اور سلف صالحین کا عمل بیان کرنے کے بعد علامہ طحطاوی حنفی عَلَیْہِ الرَحْمَۃ لکھتے ہیں: و كذا روي عن الخضر عليه السلام و بمثله يعمل في الفضائل“ یعنی ایسی ہی روایت حضرت خضر علیہ السلام سے بھی مروی ہے اور فضائل کے باب میں ایسی روایات پر عمل کیا جاتا ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 205، 206، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

ہمارے زمانہ میں بعض لوگوں نے ابو الحسنات علامہ عبد الحی لکھنوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1304ھ / 1886ء)کی طرف غلط پیراے میں نسبت کر کے اپنا باطل موقف ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ علامہ لکھنوی نے خود استحباب بیان کیا ہے، چنانچہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: بعض فقہا مستحب نوشۃ اند،و حدیث هم دریں باب نقل میسازند، مگر صحیح نیست ودر امر مستحب فاعل وتارك هر دو قابل ملامت و تشنیع نیستند، در جامع الرموز می آرد۔ ۔ ۔ الخ“ یعنی بعض فقہا ء نے اس کو مستحب لکھا ہے اور اس کے بارے میں حدیثیں بھی نقل کی ہیں، مگر وہ درجہ صحت پر فائز نہیں ہیں اور مستحب کام کرنے اور نہ کرنے والا،دونوں پر ملامت اور طعن و تشنیع نہیں ہےاور جامع الرموز میں ہے (اور آگے وہی عبارت ذکر کی جو اوپر شامی کے جزئیہ میں موجودہے)۔ (مجموعه فتاوی، باب ما يتعلق بالاذان، جلد 3، صفحه 47، مطبوعہ لکھنؤ)

فتاوی رضویہ میں امامِ اہل سنت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃنے شاندار رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین تحریر فرمایا، جس میں دیگر بہت سے شاندار دلائل کے ساتھ ساتھ سلف و صالحین کا عمل بھی بیان کیا ہے، جلد 5، صفحہ 430 پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

علامہ فیض احمد اویسی صاحب رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس مسئلہ کے متعلق رسالہ تحریر فرمایا جس میں دیگر دلائل بیان کرنے کے بعد اس مسئلہ کے جواز و استحباب پر تصریحات کرنے والے محدثین، علماء و فقہاء اور ان کی کتب کے نام لکھے، چنانچہ لکھتے ہیں: انگوٹھے چومنے کا مسئلہ جس طرح احادیث سے ثابت ہے، اس طرح فقہائے کرام کی عبارات سے بھی ثابت ہے خواہ وہ فقہائےحنفی ہوں یا شافعی یا مالکی چنانچہ مذکورہ عبارات میں ہر سہ مذاہب کے علماء تھے اور جن کتب میں یہ مسئلہ موجود ہے، ان کے اسماء درج ذیل ہیں۔

(۱) قوت القلوب، از امام ابو طالب مکی (۲) روح البیان (۳) حاشیۂ جلالین (۴) رد المحتار، شامی، (۵) انجیل بربناس (۶) فتاوى جواهر (۷) فتاوى سراج المنیر(۸) فتاوى صوفیہ(۹) فتاوی مفتاح الجنان (١٠) نعم الانتباه (۱۱) صلوة مسعودی (۱۲) مثنوی مولانا روم (۱۳) جامع الرموز (۱۴) شرح نقایہ(۱۵) کنز العباد (۱۶) موضوعات كبير، ملا على قارى (۱۷) المقاصد الحسنة (۱۸) ديلمى، فى الفردوس (۱۹) موجبات الرحمة وعزائم المغفرت (۲۰) تاریخ محمد بن صالح المدنى (۲۱) فتاوى جمال مكى (۲۲) تکملہ مجمع بحار الانوار ملا طاهر محدث فتنی (۲۳) قہستانی ،حواشی رملى على بحر الرائق (۲۴) المضمرات (۲۵) اعانۃ الطالبين ،فقہ شافعی (۲۶) شرح کفایہ الطالب الربانی (فقہ مالکی) (۲۷) طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح على نور الايضاح (۲۸) تذكرة الموضاعات(۲۹) فتاوی عبد الحی (۳۰) محيط (۳۱) خزانۃ الروايات (۳۲) مقدمۃ الصلوة (۳۳) تہذيب الصلوة (۳۴)جواهر محددیہ (۳۵) خُطب، مولانا عبدالقدوس (۳۶) بستان المحدثين (۳۷) موضوعات كبير (۳۸) مرقات شرح مشكوة، وغيره وغيره۔ (رسالہ: انگوٹھے چومنے کا ثبوت، صفحہ 20، 21، مطبوعہ بزم فیضان اویسیہ)

تیسری دلیل:
نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر لگانامحبت و تعظیم کا ایک انداز ہے، اور اس انداز کو اپنانے سے کوئی سنت بھی نہیں مٹ رہی، نہ کسی آیت و حدیث کی مخالفت لازم آرہی ہے، بلکہ اس کی اصل قرآن کریم سے ثابت ہےکہ حضور پُر نور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم کثیر آیاتِ قرآنیہ، احادیث طیبہ سے یقیناً ثابت ہے اور انگوٹھے چومنے کا عمل بھی تعظیم کا عمل ہے، لہٰذا انگوٹھے چومنے کا عمل بھی ثابت ہوا، تو پھر تعظیماً اس عمل کو بجا لانے سے بنا کسی شرعی دلیل کے کیوں منع کیا جاتا ہے؟ حالانکہ علمائے اسلام نے واضح طور پر فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی تعظیم کا ہر وہ انداز اپنایا جا سکتا ہے، جس میں حد سے غلو نہ ہو اور حد سے غلو یہ ہے کہ انہیں اُلوہیت کے مرتبہ پر فائز نہ مانا جائے، اس کے علاوہ ہر اس انداز اور طریقہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم جائز و درست ہے کہ جس سے عظمت بلند ہو اور وہ شریعت سے ٹکراتا نہ ہو۔

انگوٹھے چومنا ادب و تعظیمِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر مشتمل عمل ہے اور قرآن کریم میں تعظیمِ حبیب صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا حکم دیتے ہوئے رب تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔ (پارہ 26، سورۃ الفتح، الایۃ: 9)

اس آیتِ مقدسہ میں تعلیم دی گئی ہے کہ سرکارِدو عالَم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی ہروہ تعظیم جوخلاف شرع نہ ہو،کی جائے گی، کیونکہ یہاں تعظیم و توقیر کے لئے کسی قسم کی کوئی قید بیان نہیں کی گئی، اب وہ چاہے کھڑے ہوکرصلوٰۃ و سلام پڑھناہو، (انگوٹھے چومنا ہو) یا کوئی دوسرا طریقہ۔ (از صراط الجنان)

چنانچہ اس ضمن میں چند عبارات ملاحظہ کیجیے، قاضی عیاض مالکی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ِلکھتے ہیں: فأوجب تعالى تعزيره و توقيره و ألزم إكرامه و تعظيمه، و قال ابن عباس تعزروه تجلوه و قال المبرد تعزروه تبالغوا في تعظيمه“ ترجمہ: پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم و توقیر واجب قرار دی اور ان کو لازم قرار دیا۔ (الشفا بتعريف حقوق المصطفى، جلد 2، صفحہ 35، مطبوعہ دار الفکر)

امام بوصیری نے قصیدہ بردہ میں اورعلامہ زرقانی نے انہی کے اشعار کے تحت شرح الزرقانی علی المواہب میں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے مقدمہ فتح الباری میں، حافظ ابن حجر ہیتمی نے الجوہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبوی المکرم میں، شیخ عبد الوہاب بن احمد بن برکات نے عقد الزبرجد من حروف سیدنا محمد میں اور شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری علیہم الرحمۃ نے اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ میں لکھا، و اللفظ للآخر: (فارسی سے ترجمہ) جو كمالات و تعریفات آپ کے لیے کی جائیں گی، وہ آپ کے مرتبہ کے شایانِ شان بھی نہیں ہوں گی، شعر کا ترجمہ: ”یعنی شریعت کے حکم کے مطابق انہیں خدانہ کہو۔ اس کے علاوہ ان کی مدح و تعریف میں جو کہنا چاہتا ہے کہہ دے۔ (اشعۃ اللمعات، مترجم، جلد 6، صفحہ 103، مطبوعہ فرید بک سٹال)

الجوہرالمنظم اور عقد الزبرجد کی دلنشین عبارت ملاحظہ کیجیے: و من بالغ في تعظيمه صلى اللہ عليه وسلم بانواع التعظيم و لم يبلغ به ما يختص بالبارى سبحانه وتعالى فقد اصاب الحق و حافظ على جانب الربوبية و الرسالة جمیعا و ذلك هو القول الذى لا افراط فيه ولا تفريط۔ مفہوم واضح۔ (عقد الزبرجد من حروف سیدنا محمدصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم، صفحہ 49، مطبوعہ بیروت)

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فتاوی رضویہ میں لکھا: ظاہر ہے کہ نامِ اقدس سُن کر انگوٹھے چُومنا آنکھوں سے لگانا عرفاً دلیلِ تعظیم و محبّت ہے اور امورِ ادب میں قطعاً عرف کا اعتبار۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں: فیحال علی المعھود حال قصد التعظیم“ یعنی: تعظیم مقصود ہونے کے وقت اسے عرف پر محمول کیا جائےگا۔(فتح القدیر باب صفۃ الصّلٰوۃ، 1 / 249 مطبوعہ نوریہ رضویہ، سکھر) اور تعظیم حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم مطلقاً ماموربہ۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-﴾۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے: تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ہمیشہ ان کی تعظیم و توقیر بجالاؤ۔ (القرآن 48 / 9) اور مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر جاری رہے گا جب تک کسی خاص فرد سے منع شرعی نہ ثابت ہو، جیسے سجدہ، زیادات امام عتابی پھر جامع الرموز پھر ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹ میں ہے: ”ان المطلق یجری علیٰ اطلاقہ الا اذاقام دلیل التقیید نصا اودلالۃ فاحفظہ فانہ للفقیہ ضروری۔“ مطلق اپنے اطلاق پر ہی رہتا ہے مگر اس صورت میں کہ جب تقیید پر کوئی صراحۃً یا دلالۃً دلیل قائم ہو، اسے اچھی طرح محفوظ کرلو کیونکہ یہ فقیہ کے لئے ضروری قاعدہ ہے۔ (ردالمحتار فصل فی البیع من کتاب الحظر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/ ۲۷۲)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05 صفحہ 650، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1403ھ / 1982ء) فتاوی نوریہ میں لکھتے ہیں: تقبیل الابہامین بھی جائز و مستحسن کہ یہ عرفاً محبوب اعظم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم ہے اور حضور پُر نور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم آیاتِ متوافرہ، احادیث متظاہرہ سے یقیناً ثابت،تو تقبیل الابہامین بھی ضرور ثابت ہوئی۔ (فتاویٰ نوریہ، جلد 1، صفحہ 285، مطبوعہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)

اشکال: بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ نامِ محمد صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سن کر انگوٹھے چومنے میں تعظیم کیسے ہے؟

جواب: جواباًگزارش یہ ہے کہ تعظیم صرف کسی ایک خاص عمل کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ قول،فعل یا طریقہ جو عرفاً ادب، محبت اور تعظیم و توقیر کے اظہار کے لیے اختیار کیا جائے، وہ تعظیم کے دائرے میں داخل ہے۔ اور اس چیز کی پہچان عرف سے ہوتی ہے، مثال کے طور پر: قرآن کریم کو اونچی جگہ رکھنا۔ اس کو بوسہ دینا۔ اس پر کوئی چیز نہ رکھنا۔ استاد، والدین اور مشائخ کے سامنے ادب سے بیٹھنا، ان کے سامنے ہا تھ باندھ کر کھڑے ہونا۔ یہ سب کام تعظیماًکیے جارہے ہوتے ہیں، کیونکہ عرف میں انہیں ادب اور احترام کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ یونہی سلف و خلف سے صحابہ کرام، تابعین عظام علیہم الرضوان سے لے کر آج تک اکابر علما ئے دین، محدثین، علماء، صلحاء کے تعظیمِ مصطفیٰ اور ادب و احترام والے عمل کی ہزاروں مثالیں ایسی ہیں کہ نہ وہ طریقے کسی آیتِ قرآنی میں آئے، نہ کسی حدیث میں بیان ہوئے، مگر یہ اکابرین اپناتے رہے، لہٰذا جب وہ سابقہ طریقے اپنانا ان بزرگوں پر طعن کا سبب نہ بنے اور نہ ان پر بدعت کے فتوے لگے، تو اگر کوئی مسلمان عشقِ نبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم میں ڈوب کر نام ”محمد“ سن کر محبت کے اظہار کے لیے انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگا لے، تو اس کو غلط و ناجائز کیسے قرار دیا جا سکتا ہے، لہٰذا یہ بھی عرفاً اظہارِ محبت و تعظیم کا ایک انداز ہے۔

چوتھی دلیل:
فقہ اسلامی کا مسلّمہ اُصول ہے کہ جس کام کے بارے میں شارع علیہ السلام نے سکوت فرمایا اور کسی بھی مقام پر اس سے منع نہیں فرمایا، تو اس عمل کے جائز اور درست ہونے کے لیے اتناہی کافی ہے، کیونکہ شریعت میں کسی عمل سے منع نہ کرنا خود اس عمل کے جواز کی بہت بڑی دلیل ہوا کرتا ہے، جیساکہ اُصول و قوانینِ شریعت سے واقف شخص پر مخفی نہیں، لہٰذا اگر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانے کے معاملے میں غورکیا جائے، تو کسی بھی آیت و حدیث میں اس پر ممانعت وارد نہیں ہوئی، نہ مستند علماء میں سے کسی نے منع کیا، لہٰذا شریعت کی جانب سے منع ہونے پر کوئی دلیل نہ ہونا ہی خود اس عمل کے جائز ہونے کے لیے کافی ہے۔

چنانچہ علامہ زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ / 1562ء)لکھتے ہیں: الأصل في الأشياء الاباحة حتى يدل الدليل على عدم الاباحة“ ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل مباح و جائز ہونا ہے، یہاں تک کہ (کسی چیز کے متعلق) مباح نہ ہونے کی دلیل قائم ہو جائے۔ (الأشباه و النظائر، الفن الأول القواعد الكلية، صفحہ 56، دار الكتب العلمية، بيروت)

اوپر ذکر کردہ تمام دلائل کو امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک پیرے میں یوں بیان فرمایا، چنانچہ لکھتے ہیں: حضور پُرنور شفیع یوم النشور صاحبِ لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا نام پاک اذان میں سنتے وقت انگوٹھے یا انگشتانِ شہادت چوم کر آنکھوں سے لگانا قطعاً جائز، جس کے جواز پر مقام تبرع میں دلائل کثیرہ قائم، اور خود اگر کوئی دلیل خاص نہ ہوتی ،تو منع پر شرع سے دلیل نہ ہونا ہی جواز کے لئے دلیل کافی تھا، جو ناجائز بتائے ثبوت دینا اُس کے ذمّہ ہے کہ قائل جواز متمسک باصل ہے اورمتمسک باصل محتاجِ دلیل نہیں، پھر یہاں تو حدیث وفقہ و ارشاد علما وعمل قدیم سلف ،صلحا سب کچھ موجود۔علمائے محدثین نے اس باب میں حضرت خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سیدنا صدیق اکبر و حضرت ریحانہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سیدنا امام حسن و حسین و حضرت نقیب اولیائے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم، سیدنا ابوالعباس خضر علی الحبیب الکریم وعلیہم جمیعا الصلاۃ و التسلیم وغیرہم اکابرِ دین سے حدیثیں روایت فرمائیں،جس کی قدرے تفصیل امام علّامہ شمس الدین سخاوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب مستطاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمائی اور جامع الرموز، شرح نقایہ، مختصر الوقایۃ وفتاوٰی صوفیہ و کنز العباد و رد المحتار حاشیہ در مختار،وغیرہا کتبِ فقہ میں اس فعل کے استحباب واستحسان کے صاف تصریح آئی،ان میں اکثر کتابیں خود مانعین اور ان کے اکابر وعمائد مثل متکلم قنوجی وغیرہ کے مستندات سے ہیں۔ ۔ ۔ اور اس سے بھی گزریے تو بلا شبہ یہ فعل اکابرِ دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحتِ بصر و روشنائی چشم کے لئے مجرب اور معمول، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہوتو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلاً نقل بھی نہ ہوتو صرف تجربہ وافی کہ آخر اُس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں، نہ کسی سنّتِ ثابتہ کا خَلاف، اور نفع حاصل تو منع باطل، بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ سے خاص کرناصاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیثِ موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05 صفحہ 430، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اشکال: معترضین کی طرف سے اعتراض ہوتاہے کہ یہ عمل آنکھوں کی حفاظت کے لیے صرف ایک منتر اور ٹوٹکے کی حیثیت رکھتا ہے جس کا دین و عبادت سے کوئی تعلق نہیں،لہٰذا اس کو عبادت اور ثواب کا کام سمجھنا بدعت ہےجو کہ جائز نہیں؟

جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ نام پاک کی یہ ایک برکت بیان ہوئی، ورنہ روایات میں تو یہ بھی موجود ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم اس کی شفاعت فرمائیں گے، اسے اپنے ساتھ جنت میں لے کر جائیں گے۔ کیا کوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ جس عمل پر اتنے عظیم و جلیل ثواب کا وعدہ ہو، وہ سرے سے عبادت ہی نہیں، بلکہ منتر ہے، معاذ اللہ، نیز اس عمل کی یہ برکت بیان ہونا کہ آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی، اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ یہ عمل عبادت سے ہی خارج ہو جائے؟ حالانکہ سینکڑوں احادیث ایسی ہیں جن میں تلاوتِ قرآن عظیم وتسبیح وتہلیل وحمد وتکبیر ولاحول شریف وغیرہا اذکارِ جلیلہ پر جسمانی اور دُنیاوی فوائد حاصل ہونا بیان ہوئے ہیں، جسے شوق ہو،وہ صحاح ستہ، امام منذری کی ترغیب وترہیب، امامِ جلیل سیوطی کی جوامع اور امام جزری کی حصن حصین وغیرہا کتبِ حدیث کا مطالعہ کر لے، کیا ان سے دنیوی منافع حاصل ہونے سے یہ آیات و احادیث معا ذ اللہ! سب ایسے منتر بن جائیں گے کہ جن کا عبادت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ (ملخص از فتاوی رضویہ، 5 /644، رضا فاؤنڈیشن)

تنبیہ: یہاں دو باتیں ذہن نشین رہیں:

(1) اس عمل کو فرض، واجب، یا تاکیدی سنت نہیں قرار دیا گیا، بلکہ مستحب ہونا بیان ہوا، لہٰذا اگر کوئی شخص اس عمل کودرست جانتے ہوئے نہیں بھی کرتا، تو شرعاً کوئی حرج نہیں، نہ ہی اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی شرعاً اجازت ہے، البتہ اگر کوئی اسے بدعتِ سیئہ اور ناجائز و گناہ قرار دے، تو شرعی دلائل کے ساتھ اس کا ضرور مؤاخذہ کیا جائے گا کہ جس کام کو اللہ و رسول نے منع نہیں فرمایا، وہ اسے کس بنیاد پر منع کر رہا ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ضرور بمعنی فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ تو اصلا نہیں۔ ہاں اذان سننے میں علمائے فقہ نے مستحب رکھا ہے۔ اور اس خاص موقع پر کچھ احادیث بھی وارد جو ایسی جگہ قابل تمسک ہیں کما حققناہ فی رسالتنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین، مگر نماز میں یا خطبہ یا قرآن مجید سنتے وقت نہ چاہئے، نماز میں اس کی ممانعت تو ظاہر، اور استماع خطبہ وقرآن کے وقت یوں کہ اس وقت ہمہ تن گوش ہو کر تمام حرکات سے بازرہنا چاہئے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 316، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

(2) کچھ مواقع ایسے ہیں کہ جہاں انگوٹھے چومنے سے بچنے کا حکم ہے، جیساکہ نماز میں، یونہی تلاوت اور خطبے کے دوران کہ ان حالتوں میں نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنے سے بچا جائے کہ یہی اَولیٰ و انسب ہے، نماز میں تو واضح ہے،دورانِ تلاوت و خطبہ اس لیے کہ اس وقت تمام افعال و حرکات سے باز رہنے کا حکم ہے، البتہ اگر کسی نے کرلیا، تو اس کو ناجائزو گناہ نہیں کہیں گے، سوائے یہ کہ ایسا طریقہ ہو جو سننے میں خلل کا باعث بن جائے۔ چنانچہ رد المحتار میں خطبے کے احکام کے بارےمیں فرمایا: الأصح انہ لا بأس بأن یشیر برأسہ۔ تو اس کے تحت جدالممتار میں کلام کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: أفاد أن ھذا القدر لایخل بالاستماع و الا لحرم، فیمکن علی ھذا تخریج ما اعتادہ الناس فی زماننا من تقبیل الابھامین و وضعھما علی العینین حین بلوغ القاری الی اسم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی قولہ تعالٰی: ﴿مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ﴾ فلعلہ لایحکم بالتحریم، و ان کان الاولی الترک۔ ترجمہ: رد المحتار کے کلام نے اس بات کا فائدہ دیا کہ صرف سرکے اشارے کی مقدار،سننے میں خلل نہیں ڈالتی، ورنہ سر کا اشارہ بھی حرام ہوتا، اس پر یہ مسئلہ اخذکیا جاسکتا ہے جو ہمارے زمانے میں لوگوں کی عادت ہوچکی ہے کہ جب تلاوت کرنے والا قرآن پاک کی آیت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے نام پرپہنچتا ہے تو وہ انگوٹھوں کو چوم کرآنکھوں پر لگاتے ہیں، تو اس عمل پر بھی حرام ہونے کا حکم نہ لگایا جائے، اگرچہ اولی یہی ہے کہ اسے ترک کیا جائے۔ (جد الممتار، جلد 3، صفحہ 241، مطبوعہ مكتبة المدينه، كراچی)

فاتحہ خوانی میں پنج آیت کی تلاوت کے وقت انگوٹھے چومنے کے بارے میں امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا،تو جواباً فرمایا: پنجآیت (یعنی پنج آیت) کے وقت اس فعل کا ذکر کسی کتاب میں نہ دیکھا گیا اورفقیر کے نزدیک یہاں پربنائے مذہبِ ارجح واصح، غالبا ترک زیادہ انسب والیق ہونا چاہیے۔ (فتاوی رضویہ جلد 22، صفحہ 355، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
5
معملات ِاہلسنت
گیارہویں شریف کیوں مناتے ہیں؟ گیارہویں کی حقیقت
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گیارہویں شریف کی حقیقت کیا ہے اور اس کے لیے کوئی خاص جگہ معین ہے یا جہاں بھی دلوائیں ، ہو سکتی ہے؟ نیز کیا کسی دوسرے بزرگ کے مزار پر غوث پاک کی گیارہویں ہو سکتی ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
گیارہویں شریف حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کے لیے منعقد کی جانے والی محفل کو کہا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا یومِ وفات11ربیع الثانی ہے ، تواس مناسبت سے آپ کے ایصال ثواب کے لیے گیارہویں شریف کے نام سے محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ان محافل میں قرآن خوانی،نعت خوانی و بیان وذکر و اذکار اور ذکرِ صالحین کے ساتھ ساتھ طعام و فاتحہ وغیرہ امور خیر کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ایصال ِثواب کی صورت میں سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ اقدس میں نذرانہ پیش کیا جاتا ہے اور ایصال ثواب کرنا قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور اقوال ِفقہاء و افعال سلف صالحین سے ثابت ہے۔

نیز گیارہویں شریف کی محفل اور دعا کے لیے کسی خاص جگہ یا وقت کی تعیین نہیں ہے ، بلکہ یہ کسی بھی وقت اور جگہ مثلاً مسجد، مدرسے، کسی کے گھر اور کسی بزرگ کے مزار پر بھی ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اپنے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا ان کے بارے میں ارشاد پاک ہے :

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ

ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو ان کے بعد آئے ، عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو ، جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ (پارہ 28،سورۃ الحشر ،آیت 10)

اس آیت کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ صرف اپنے لیے دعا نہ کرے، سلف کے لیے بھی کرے، دوسرے یہ کہ بزرگان دین خصوصاً صحابہ کرام و اہل بیت کے عرس، ختم، نیاز، فاتحہ اعلیٰ چیزیں ہیں کہ ان میں ان بزرگوں کے لیے دعا ہے۔ (تحت ھذہ الآیۃ،تفسیر نور العرفان)

بخاری شریف میں ہے:

ان رجلا قال للنبی صلی اللہ علیہ وسلم ان أمی افتلتت نفسھا و أظنھا لو تکلمت تصدقت فھل لھا أجر ان تصدقت عنھا قال نعم

ایک شخص نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں اچانک فوت ہو گئی ہے اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ کچھ بات کر سکتی، تو صدقہ کرتی۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں، تو کیا انہیں اجر ملے گا ؟ توآپ نے فرمایا :ہاں ملے گا۔(صحیح البخاری ، جلد1 ، صفحہ 186 ،مطبوعہ کراچی)

ردالمحتار میں ہے:

صرح علماء نا فی باب الحج عن الغیر بأن للانسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ أوصوما أو صدقۃ أو غیرھا کذا فی الھدایۃ

یعنی ہمارے علما نے باب الحج عن الغیر میں صراحت فرمائی ہے کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کر سکتا ہے ،نماز ہو ،روزہ ہو ، صدقہ ہو یا کچھ اور ۔ ایسا ہی ہدایہ میں ہے۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ، جلد 3 ، صفحہ 180 ، مطبوعہ پشاور )

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :” گیارہویں شریف اپنے مرتبہ فردیت میں مستحب ہے اور مرتبہ اطلاق میں کہ ایصال ثواب ہے ، سنت ہے اورسنت سے مراد سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور یہ سنت قولیہ مستحبہ ہے ، سنیوں میں کوئی اسے خاص گیارہویں تاریخ ہو نا شرعاً واجب نہیں جانتا اور جو جانے محض غلطی پر ہے ۔ ایصال ثواب ہر دن ممکن ہے اور کسی خصوصیت کے سبب ایک تاریخ کا التزام ، جبکہ اسے شرعاً واجب نہ جانے ، مضائقہ نہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر پیر کو نفلی روزہ رکھتے، کیا اتوار یا منگل کو رکھتے ، تو نہ ہوتا ؟ یا اس سے یہ سمجھا گیا کہ معاذاللہ ! حضور نے پیر کا روزہ واجب سمجھا ؟ یہی حکم تیجے اور چہلم کا ہے۔ (فتاوی رضویہ ، جلد9 ، صفحہ 605 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)

علامہ فاضل عبد القادر قادری بن محی الدین الصدیقی الاربلی رحمۃ اللہ علیہ(المتوفی 1315ھ) سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی تاریخِ وصال سے متعلق فرماتے ہیں :

و توفی فی لیلۃ الإثنین بعد صلاۃ العشاء احدی عشرۃ من ربیع الثانی سنۃ ۵۶۱ خمس مائۃ احدی و ستین و دفن بباب الأزج

سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا وصال پیر کی رات بعد نماز عشاء 11ربیع الثانی 561ھ کو ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی تدفین باب ازج میں ہوئی۔ (تفریح الخاطرفی مناقب الشیخ عبدالقادر،المنقبۃ التاسعۃ والستون فی وفاتہ، صفحہ 71)

حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے عرس سے متعلق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1052ھ) فرماتے ہیں : ہمارے ہندوستان میں حضور غوث پاک کایوم عرس 11ربیع الآخر مشہور ہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولاد و مشائخ میں متعارف ہے۔(ما ثبت من السنۃمترجم اردو ، صفحہ 167، اعتقاد پبلشنگ ھاؤس، دھلی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
6
معملات ِاہلسنت
کیا غوث اعظم کہنا شرک ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جب ہم حضرت عبد القادر جیلانی کو غوث اعظم کہتے ہیں تو بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ شرک ہے، کیا یہ درست ہے؟
جواب
غوث کے معنی ”فریاد رس اور حاجت روا“ کے ہیں اور غوث اعظم کا معنی ”بڑا فریاد رس“ ہے۔ چونکہ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات ولایت کے اعلی مقام و مرتبے پر فائز ہے اور آپ سے دیگر اولیائے امت فیض پاتے ہیں، نیز آپ اپنے حلقے میں سب سے بڑھ کر فریاد رسی اور مدد کرنے والے ہیں، اس لیے آپ کو غوث اعظم کہا جاتا ہے، اور اس میں کوئی شرک کا پہلو نہیں؛ کیونکہ بلا شبہ محبوبانِ خدا رب تعالیٰ کی عطا سے مخلوق کی فریاد رسی اور حاجت روائی کرتے ہیں، یہی عقیدۂ اہل سنت ہے جو کہ قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے، لہٰذا سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو غوث اعظم کہنا ہرگز شرک نہیں، بلکہ یہ صدیوں سے علما و صلحا، مفسرین و محدثین اور عامۂ مسلمین میں رائج ہے۔ اسے شرک کہنا بالکل غلط، بلکہ اکابر علمائے دین اور عامۂ مسلمین کو کافر قرار دینے کے مترادف ہے جو کہ سراسر باطل و ناجائز اور گمراہی و بد دینی ہے۔

کسی شخص یا چیز کو فریاد رس و حاجت روا جاننا اس وقت شرک ہوگا جب اسے ذاتی طور پر بغیر عطائے الہی ایسا مانا جائے؛ کیونکہ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اور کوئی بھی مسلمان کسی غیر کے بارے میں ہرگز ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔ مسلمان اسی اعتقاد کے ساتھ اولیائے کرام کو غوث، دستگیر، داتا، مشکل کشا اور حاجت روا کہتے ہیں کہ وہ اللہ کریم کی عطا اور اس کی توفیق سے مدد گار ہیں اور وہ بارگاہِ ایزدی میں بہتر وسیلہ و واسطہ ہیں۔ حقیقی حاجت روائی و مدد صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، وہی قادر بالذات و فاعل حقیقی ہے، اور امداد و حاجت روائی کی نسبت ان اللہ والوں کی طرف محض مجازی ہوتی ہے، جس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ- وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ(4)﴾ ترجمہ کنز العرفان: تو بے شک اللہ خود ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں۔ (پارہ 28، سورۃ التحریم 66، آیت 4)

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ) لکھتے ہیں: ”اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے مددگار ہیں؛ کیونکہ اس آیت میں حضرت جبرئیل اور صالح مسلمانوں کو مولیٰ یعنی مددگار فرمایا گیا اور فرشتوں کو ظہیر یعنی معاون قرار دیا گیا، جہاں (قرآن پاک میں) غیر اللہ کی مدد کی نفی ہے وہاں حقیقی مدد مراد ہے، لہذا آیت میں تعارض نہیں۔“ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 895، فرید بکڈپو، دہلی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ) لکھتے ہیں: ”(ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ﴾ یعنی اے مسلمانو! تمہارا مددگار نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور وہ ایمان والے جو نماز قائم رکھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ رکوع کرنے والے ہیں۔(سورۃ المائدۃ، آیت 55) أقول (میں کہتا ہوں): یہاں اللہ اور رسول اور نیک بندوں میں مدد کو منحصر فرما دیا کہ بس یہی مددگار ہیں تو ضرور یہ مدد خاص ہے، جس پر نیک بندوں کے سوا اور لوگ قادر نہیں، عام مددگاری کا علاقہ تو ہر مسلمان کے ساتھ ہے۔ قال تعالٰی:﴿وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ﴾ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ (سورۃ التوبہ، آیت 71)حالانکہ خود ہی دوسری جگہ فرماتا ہے: ﴿مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ﴾ اللہ کے سوا کسی کا کوئی مددگار نہیں۔ (سورۃ الکہف، آیت 26) معالم میں ہے: (مَا لَهُمْ) أي: ما لأهل السموات والأرض (مِنْ دُوْنِهٖ) أي: من دون اللہ (مِنْ وَّلِیٍّ) ناصر (یعنی نہیں ہے ان کے لیے یعنی آسمان اور زمین والوں کے لیے سوا اُس کے یعنی سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی ولی یعنی مددگار۔) مخالف صاحبو! تمہارے طور پر معاذ اللہ کیسا کھلا شرک ہوا کہ قرآن نے خدا کی خاص صفت امداد کو رسول و صلحا کے لیے ثابت کیا، جسے قرآن ہی جا بجا فرما چکا تھا کہ یہ اللہ کے سوا دوسرے کی صفت نہیں مگر بحمد اللہ اہل سنت دونوں آیتوں پر ایمان لاتے، اور ذاتی اور عطائی کا فرق سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ بالذات مددگار ہے، یہ صفت دوسرے کی نہیں اور رسول و اولیا اللہ کے قدرت دینے سے مددگار ہیں، وللہ الحمد۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 30،صفحہ 420-421 بتغیر، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

المعجم الکبیر، الترغیب و الترہیب اور کنز العمال وغیرہ کی حدیث پاک ہے: عن ابن عمر، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن لله عز وجل خلقا خلقهم لحوائج الناس يفزع الناس إليهم في حوائجهم أولئك الآمنون من عذاب اللہ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ عزوجل کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں اس نے لوگوں کی حاجت روائی کے لیے پیدا کیا ہے، لوگ اپنی حاجتوں کے معاملے میں ان سے فریاد کرتے ہیں، وہی بندے اللہ کے عذاب سے امان میں ہیں۔ (المعجم الكبير للطبراني، جلد 12، صفحہ 358، حدیث 13334، مطبوعہ القاهرة)

جمع الجوامع للسیوطی اور کنز العمال وغیرہ میں مروی حدیث پاک میں ہے: يا موسى كن للفقير كنزا و للضعيف حصنا و للمستجير غيثا ترجمہ: اے موسیٰ! فقیر کے لیے خزانہ بن جاؤ، کمزور کے لیے قلعہ بن جاؤ اور پناہ مانگنے والے کے لیے غوث (یعنی فریاد رس و مددگار) بن جاؤ۔ (جمع الجوامع، جلد 3، صفحہ 233، حدیث 8714، مطبوعہ القاهرة)

علامہ ابو قاسم حسین بن محمد راغب اصفہانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 502ھ) لکھتے ہیں: ”‌الغوث يقال في النصرة“ ترجمہ: غوث امداد و حمایت (کے معنی) میں کہا جاتا ہے۔ (المفردات في غريب القرآن، صفحہ 617، دار القلم، بيروت)

اردو لغت میں ہے: ”غوث: فریاد کو پہنچنے والا، فریاد رس، حاجت روا، ولایت الہی کا ایک درجہ، ولیِ کامل۔ غوث اعظم: بڑا فریاد رس، ولیوں کا سردار، مراد: شیخ عبد القادر جیلانی۔“ (اردو لغت تاریخی اصول پر، جلد 13، صفحہ 762-763 ملتقطاً، اردو لغت بورڈ، کراچی)

محدث کبیر علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ) لکھتے ہیں:

القطب و يقال له الغوث هو الواحد الذي هو محل نظر اللہ تعالى من العالم في كل زمان، أي: نظرا خاصا يترتب عليه إفاضة الفيض و استفاضته، فهو الواسطة في ذلك بين اللہ تعالى وبين عباده، فيقسم الفيض المعنوي على أهل بلاده بحسب تقديره و مراده... قلت: فهم الأقطاب في الأقطار، يأخذون الفيض من قطب الأقطاب المسمى بالغوث الأعظم، فهم بمنزلة الوزراء تحت حكم الوزير الأعظم

ترجمہ: قطب جسے غوث بھی کہا جاتا ہے، وہ واحد ہستی ہوتی ہے جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت کا مرکز ہوتی ہے، یعنی ایسی خاص نظر کا جس پر فیض جاری ہونے اور پھیلنے کا دار و مدار ہوتا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان اس فیض کے پہنچنے میں واسطہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے اندازے اور چاہت کے مطابق اپنے بلاد والوں پر معنوی فیض تقسیم کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں: پس وہ تمام اقطاب جو اطراف عالم میں ہیں، وہ قطب الأقطاب سے فیض حاصل کرتے ہیں، جسے غوث اعظم کہا جاتا ہے، اور وہ سب بحیثیت ان وزرا کے ہوتے ہیں جو وزیرِ اعظم کے زیرِ حکم ہیں۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الفتن، باب أشراط الساعة، جلد 8، صفحہ 3442، دار الفكر، بيروت)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی لکھتے ہیں:

مولانا و سیدنا تاج المفاخر الذي خضع له رقاب الاكابر القطب الربانی و الغوث الاعظم الصمداني سلطان الاولياء و العارفين الباز الاشهب و السيف الاشطب و الطراز المذهب السيد الشريف شيخ الاسلام محي الملة و الدين عبد القادر الحسني و الحسيني الجيلاني قدس اللہ روحه و فتح علينا فتوحه ترجمہ واضح ہے۔ (نزهة الخاطر الفاتر، صفحہ 9، موسسة الشرف، لاھور)

شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1052ھ) لکھتے ہیں: سيدنا و مولانا الغوث الأعظم محيي الدين أبو محمد عبد القادر الجيلاني رحمه اللہ ترجمہ واضح ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، كتاب الجنائز،جلد4،صفحہ 43، دار النوادر، دمشق)

اسی طرح علامہ ابو الفداء اسماعیل حقی (سال وفات: 1127ھ)،

علامہ ابو الحسن محمد بن عبد الہادی ٹھٹھوی (سال وفات: 1138ھ)،
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی مظہری (سال وفات: 1225ھ)،

علامہ سید محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (سال وفات: 1252ھ)،

علامہ شہاب الدین محمود بن عبد اللہ آلوسی (سال وفات: 1270ھ)،

علامہ ابو حسنات محمد عبد الحی لکھنوی (سال وفات: 1304)،

علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی (سال وفات: 1350ھ) وغیرہم کثیر علمائے دین نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو غوث اعظم، غوث الثقلین اور غوث اکبر جیسے القابات سے ذکر کیا ہے، حتی کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لیے ان الفاظ کا استعمال ان حضرات نے بھی کیا جنہیں مخالفین اپنا پیشوا و مقتدا مانتے ہیں۔

چنانچہ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ) لکھتے ہیں:” حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ضرور دستگیر ہیں...تمام مسلمانوں کی زبانوں پر حضور کا لقب "غوث اعظم" ہے، یعنی سب سے بڑے فریاد رس۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور شاہ عبد العزیز صاحب درکنار خود پیشوائے مخالفین نے جا بجا حضور کو غوث اعظم یاد کیا ہے، یہ فریاد رسی و دستگیری نہیں تو کیا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 105- 106بتغیر قلیل، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”استعانت حقیقیہ یہ کہ اسے قادر بالذات و مالک مستقل و غنی بے نیاز جانے کہ بے عطائے الٰہی وہ خود اپنی ذات سے اس کام کی قدرت رکھتا ہے، اس معنی کا غیر خدا کے ساتھ اعتقاد ہر مسلمان کے نزدیک شرک ہے۔ نہ ہر گز کوئی مسلمان غیر کے ساتھ اس معنی کا قصد کرتا ہے، بلکہ واسطۂ وصول و فیض و ذریعہ و وسیلۂ قضائے حاجات جانتے ہیں اور یہ قطعاً حق ہے۔ خود رب العزت تبارک وتعالیٰ نے قرآن عظیم میں حکم فرمایا: ﴿وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ﴾ اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 303، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

نیز مزید فرماتے ہیں: ”استعانت بالغیر وہی ناجائز ہے کہ اس غیر کو مظہر عونِ الٰہی نہ جانے، بلکہ اپنی ذات سے اعانت کا مالک جان کر اس پر بھروسا کرے، اور اگر مظہر عونِ الٰہی سمجھ کر استعانت بالغیر کرتا ہے تو شرک و حرمت بالائے طاق، مقامِ معرفت کے بھی خلاف نہیں، خود حضرات انبیا و اولیا علیہم الصلوۃ و السلام نے ایسی استعانت بالغیر کی ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 325، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ) لکھتے ہیں: ”معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے، جبکہ اسناد (نسبت) کرنے والا غیر خدا کو مستقل فی التصرف اعتقاد نہ کرتا ہو۔ اسی لیے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ دوا نافع ہے، یہ مضر ہے، یہ در دکی دافع ہے، ماں باپ نے پالا، عالم نے گمراہی سے بچایا، بزرگوں نے حاجت روائی کی وغیرہ، سب میں اسناد مجازی ہے، اور مسلمان کے اعتقاد میں فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب وسائل (ہیں)۔“ (تفسیر خزائن العرفان، صفحہ 92، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: اس بارے میں مزید تفصیلی دلائل اور معلومات کے لیے علمائے اہل سنت کی کتب، خصوصاً سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رسالے "برکات الامداد لاھل الاستمداد " کا مطالعہ فرمائیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

کل مسائل: 6