کیا اولاد کے اعمال کی خبر فوت شدہ والدین تک پہنچتی ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کسی شخص کے فوت شدہ والدین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے کیا اچھا اور برا عمل کر رہے؟
جواب
جی ہاں آدمی کے سب اعمال کی خبر اس کےفوت شدہ والدین کو پہنچتی ہے، وہ اپنی اولاد کے نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور برے اعمال سے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ آدمی کے اعمال اس کے ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ الجامع الصغیر میں ہے:
تعرض الأعمال یوم الأثنین و الخمیس علی اللہ و تعرض علی الأنبیاء و علی الآباء و الأمهات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتهم و تزداد وجوههم بیاضاً و إشراقاً فاتقوا اللہ و لاتؤذوا موتاکم
ترجمہ: پیر اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام اور آباء و امہات پر جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ انبیائے کرام امت کے نیک اعمال اور والدین اپنی اولاد کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہرےروشن اور سفید ہوجاتے ہیں، لہٰذا اللہ عز و جل سے ڈرو اور اپنے فوت شدگان کوتکلیف مت دو۔ (الجامع الصغیر فی احادیث البشیر و النذیر، جلد 1، صفحہ 199، رقم الحدیث: 3316، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں والدین کی وفات کے بعد اولاد پر آنے والے والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: سب میں سخت تر و عام تر و مدام تر یہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کر کے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبر ماں باپ کو پہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں، تو خوش ہوتے ہیں اور ان کا چہرہ فرحت سے چمکتا اور دمکتا ہے، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پر صدمہ ہوتا ہے، ماں باپ کا یہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
2
معملات ِاہلسنت
نبی کریم ﷺ اپنی قبر مبارک میں درودِ پاک سنتے ہیں؟
سوال
میرا سوال یہ ہے كہ ہم اہلسنت وجماعت کا عقیدہ ہے، درودپاک پڑھنے والاکہیں سے بھی درودپڑھے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اپنے مزار اقدس میں سماعت فرماتے ہیں۔ اس پر تفصیلی دلیل کیا ہے؟
جواب
اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی دنیا کے کسی بھی حصے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر درودِ پاک پڑھتاہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اسے سماعت فرماتے ہیں، اور اس کاجواب بھی ارشادفرماتے ہیں۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم خود ارشاد فرماتے ہیں: ليس من عبد يصلّي عليّ إلا بلغني صوته حيث كان" ترجمہ: جو بھی شخص مجھ پر درود پاک پڑھتا ہے اس کی آواز مجھے پہنچتی ہےخواہ وہ کہیں بھی ہو۔ (سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، جلد 12، صفحہ 358، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ایک روایت میں مزید ان الفاظ کا اضافہ ہے "قلنا: و بعد و فاتك؟ قال: وبعد وفاتي إن اللہ عزَّ وجلَّ حرم على الأرض أن ياکل أجساد الأنبياء" ترجمہ: صحابہ فرماتے ہیں ہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیا آپ کے دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں میرے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی کہ اللہ تعالی نےزمین پر حرام فرمادیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔ (البدر التمام شرح بلوغ المرام، جلد 5، صفحہ 406، مطبوعه: بیروت)
المعجم الکبیر للطبرانی میں حضرت عبدالله بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:إن اللہ عز وجل قد رفع لي الدنيا، فأنا أنظر إليها وإلى ما هو كائن فيها إلى يوم القيامة، كأنما أنظر إلى كفي هذه؛" ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے پوری دنیا کو اس طرح نمایاں کر دیا ہے کہ میں اسے اور قیامت تک اس میں پیش آنے والے تمام حالات و واقعات کو ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انکشاف ہے، جو اس نے اپنے نبی پر فرمایا، جس طرح اس سے پہلے بھی انبیائے کرام علیہم السلام پر ایسے حقائق منکشف فرمائے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 13، صفحہ 318، رقم الحدیث 14112، مطبوعہ: بیروت)
رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم کا مبارک فرمان ہے "إني أرى ما لا ترون وأسمع ما لا تسمعون" یعنی میں ہر اس چیز کو دیکھتا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے اور ہر اس آواز کو سنتا ہوں جسے تم نہیں سنتے۔ ( مشكاة المصابيح، ج 3، ص 1469، الحدیث: 5347، مطبوعہ: بيروت)
شارحِ بخاری، حضرت علامہ مولانا سیِّد غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس روایت کے تحت فرماتے ہیں: ہر وہ آواز اس میں داخل ہے جس کو مُخاطَبین (یعنی جن سے خطاب فرمایا) نہیں سنتے خواہ وہ عالَم کے کسی گوشے سے اٹھے، کُرّۂ زمین کی ہو یا کُرّۂ آب کی ، کُرّۂ ہوا کی ہو یا کُرّۂ نار کی، کُرّۂ سماوات کی ہو یا عرش و کرسی کی ، خواہ انسان کی آواز ہو یا حیوانات کی، نَباتات (پودوں وغیرہ) کی ہو یا جمادات (پتھر وغیرہ بے جان چیزوں) کی، جِنّات کی ہو یا فرشتوں کی یا ایسی مخلوق کی آواز ہوجس کو ہم نہیں جانتے۔ ۔ ۔ غرض کہ تمام عالَم کی جملہ آوازوں پر یہ کلمہ مشتمل ہے۔ (بشیر القاری بشرح صحیح بخاری، ص14، میر محمد کتب خانہ، کراچی)
سلام کاجواب ارشادفرمانے کے متعلق سنن ابی داؤد میں ہے"عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: ما من أحد يسلم علي إلا رد اللہ علي روحي حتى أرد" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی مجھ پر سلام عرض کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، ج 3، ص 384، مطبوعہ: بیروت)
علّامہ تقی الدین علی سُبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریرفرماتے ہیں: قد تضمنت الاحادیث المتقدمۃ: ان روح النبی صلی اللہ علیہ و سلم ترد علیہ، و انہ یسمع ویرد السلام" ترجمہ: احادیثِ مذکورہ اس بات کو متضمن ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی روح مبارک آپ علیہ الصلوۃ والسلام پر لوٹا دی جاتی ہے، اور اس بات کوبھی کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام، سلام کو سنتے ہیں اور اس کا جواب مرحمت فرماتے ہیں۔ (شفاء السقام، صفحہ 390، دارا لکتب العلمیۃ، بیروت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر نبی کے ساتھ مستقل طور پر علیہ السلام لکھنا؟ یا کہنا کیسا؟ اورخاص حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لگانے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جمہورمحقق علمائے اہل سنت کے نزدیک علیہ السلام مستقل طورپرفقط انبیائے کرام و ملائکہ عظام علیہم السلام کے ساتھ عرفاً خاص ہے، جیسے کہا جاتا ہے، سیدنا آدم علیہ السلام اور حضرت جبرائیل علیہ السلام۔ ان کے علاوہ کسی اورکے ساتھ استقلالاً لکھنا یا کہنا جائز نہیں، مثلا سیدنا ابوبکر علیہ السلام، سیدنا عمرعلیہ السلام وغیرہ، البتہ غیر انبیاء اور غیر ملائکہ کے لیے علیہ السلام کا لفظ بہ تَبعِیّت لکھنا پڑھنا جائز ہے، یعنی ابتداً نبی علیہ السلام پر درود و سلام ہو، اس کے بعد اہل بیت یا صحابہ پر، لہذا یوں کہنا کہ حضرت امام حسن و حسین علی نبینا و علیہماالسلام یہ جائز ہے، جب یہ مسئلہ واضح ہوگیا تو اس سےثابت ہوا کہ حضرت مولائے کائنات، علی المرتضی، شیر خدا رضی اللہ عنہ کے لیے علیہ السلام استقلالاً لکھنا اور بولنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ انبیاءِ کرام وملائکہ عظام علیہم السلام میں سے نہیں ہیں۔ ان کے نام مبارک کے ساتھ رضی اللہ عنہ یا کرم اللہ وجھہ الکریم کہنااور لکھنا چاہیے۔
علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: و قال ابوحنیفة و اصحابہ و مالک و الشافعی و الاکثرون انہ لایصلی علی غیر الانبیاء علیہم الصلوة و السلام استقلالا، فلایقال اللھم صل علی ال ابی بکر او علی ال عمر او غیرھما و لکن یصلی علیھم تبعا" ترجمہ: یعنی امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب، امام مالک، امام شافعی اور اکثر علماء نے فرمایا: انبیائے کرام علیھم السلام کے سوا کسی پر استقلالاً درود نہیں بھیجا جا سکتا، پس یہ نہیں کہا جا سکتا: اللّٰھم صل علی ال ابی بکر" یا "اللّٰھم صل علی ال عمر" وغیرہ، لیکن ان پر (انبیائے کرام علیھم السلام کے) تابع کرکے درود بھیجا جا سکتا ہے۔ (عمدة القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الزکوة، جلد 6، صفحہ 556، بیروت)
فتاوی ھندیہ (جلد 6، صفحہ 446)، بحر الرائق (جلد 8، صفحہ 555)نیز در مختار میں ہے (و اللفظ للآخر): و لا یصلیٰ علی غیر الانبیاء و لا علی غیر الملائکۃ الا بطریق التبع" ترجمہ: یعنی انبیائے کرام علیھم السلام اور فرشتوں کے علاوہ پر درود نہیں بھیجا جائے گا مگر بطورِ تبعیت کے۔ اس کے تحت عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز المعروف ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: و أما السلام فنقل اللقانی فی شرح جوھرۃ التوحید عن الامام الجوینی أنہ في معنی الصلاة، فلا یستعمل فی الغائب و لایفرد بہ غیر الأنبیاء، فلا یقال علی علیہ السلام و سواء في ہذا الأحیاء و الأموات. . . . . و الظاہر أن العلة في منع السلام ما قالہ النووي في علة منع الصلاة أن ذلک شعار أہل البدع و لأن ذلک مخصوص في لسان السلف بالأنبیاء علیہم السلام" ترجمہ: اور بہرحال سلام تو امام لقانی نے "شرح جوھرۃ التوحید" میں امام جوینی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ بے شک سلام، درود کے معنی میں ہے، پس اسے غائب میں استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انبیائے کرام علیھم السلام کے علاوہ کو سلام کے ساتھ الگ (ذکر) کیا جائے گا، پس علی علیہ السلام نہیں کہا جائے گا، اور اس حکم میں زندہ اور وفات پانے والے سب برابر ہیں اور ظاہر ہے کہ سلام کے منع ہونے کی علت وہ ہے جسے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے صلوۃ کے منع ہونے کی علت میں نقل کیا ہے کہ بے شک یہ اہلِ بدعت کا شعار ہے، اور اس لیے کہ یہ سلف کی زبان میں انبیائے کرام علیھم الصلوۃ و السلام کے ساتھ خاص ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الخنثی، فصل في مسائل شتی، جلد 10 صفحہ 518 مطبوعہ کوئٹہ)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت "لان ذلک" کے تحت تحریر فرماتے ہیں: اقول: ھکذا نص علی التعلیل بہ فی "الغنیۃ" عند شرح خطبۃ المنیۃ و صرح ان افراد غیر الانبیاء بالسلام ابتداع واجب الاجتناب و صرح علی القاری فی شرح الفقہ الاکبر: (ان قول علیہ السلام لسیدنا علی کرم اللہ وجھہ من شعار الروافض (اھل البدعۃ)قلت: و اذ قد انعقد الاجماع علی منعہ فلا معنی لارتکابہ" ترجمہ: یعنی میں (امام احمد رضا) کہتا ہوں: اس کی تعلیل پر ایسے ہی صراحت ہے المنیہ کے خطبے کی شرح کرتے وقت الغنیہ میں، انہوں نے صراحت فرمائی ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کے علاوہ کو سلام کے ساتھ الگ ذکر کرنا بدعت ہے اور اس سے بچنا واجب ہے اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الفقہ الاکبر میں صراحت کی ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجھہ کے لئے علیہ السلام کہنا روافض (اہلِ بدعت) کا شعار ہے۔میں (امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں: اور جب اس کی ممانعت پر اجماع منعقد ہوچکا تواس کے ارتکاب کا کوئی جوازنہیں۔ (جدالممتار علی ردالمحتار جلد 7، صفحہ 241، مکتبۃ المدینہ کراچی)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: صلوة و سلام بالاستقلال انبیاء و ملائکہ علیھم السلام کے سوا کسی کے لیے روا (جائز) نہیں، ہاں بہ تبعیت جائز ہےجیسے اللھم صل و سلم علی سیدنا و مَولیٰنا محمد و علی ال سیدنا و مولیٰنا محمد اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنھم کےلیے رضی اللہ تعالٰی عنہ کہا جائے، اولیاء و علماء کو رحمۃ اللہ تعالی علیہم یا قُدِّسَتْ اَسْرَارُھُمْ اور اگر (اولیاء و علماء کے ناموں کے ساتھ) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کہے، جب بھی کوئی مضائقہ (حرج) نہیں۔" (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 390 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
سیدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے ایک شخص نے سوال کیا اور حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا۔ آپ نے صورت مسئولہ کاجواب دینے کے بعد فرمایا: علیہ السلام لفظ بالاستقلال حضرات انبیائے کرام و ملائکہ عظام علیہم الصلٰوۃ و السلام کے لئے خاص ہے ان کے غیر کے لئے استقلالاً جائز نہیں۔ حضور پر نور سیدناغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے رضی اللہ تعالٰی عنہ کہنا چاہئے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 19، صفحہ 159، رضا فاونڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: کسی کے نام کیساتھ علیہ السلام کہنا، یہ انبیاء و ملائکہ علیھم السلام کے ساتھ خاص ہے۔ مثلا موسیٰ علیہ السلام، جبریل علیہ السلام۔ نبی اور فرشتہ کے سوا کسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے۔ (بھارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 465، مکتبة المدینہ کراچی)
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمۃ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، جمھور علماء کا مذھب یہ کہ استقلالا و ابتداء جائز نہیں جائز ہے اور اتباعا جائز ہے، یعنی امام حسین علیہ السلام کہنا جائز نہیں ہے اور امام حسین علی نبینا و علیہ السلام جائز ہے۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 267، شبیر برادرز لاہور)
مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین امجدی قادری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: "نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر صلوۃ و سلام بھیجنے کے بعد تبعاً دوسرے لوگوں پر بھی درود پڑھنا جائز ہے۔" (وقار الفتاویٰ، جلد 1، صفحہ 134، بزم وقارالدین، کراچی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ علیہ السلام لگانے کے متعلق شرح فقہِ اکبر میں ہے: أنہ قولہ: علی علیہ السلام من شعار أہل البدعة" ترجمہ: یعنی بے شک اس کا علی علیہ السلام کہنا اہل بدعت کے شعار میں سے ہے۔ (شرح الفقہ الأکبر، صفحہ 167، قدیمی کتب خانہ کراچی)
امام المتکلمین علامہ عبدالعزیز صاحب نبراس رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: لایجوز التصلیة والتسلیم علی غیر الانبیاء استقلالا عند المحققین من اھل السنة" ترجمہ: محققین علماء اہلسنت کے نزدیک غیر نبی کے ساتھ مستقل درود و سلام جائز نہیں۔ (النبراس شرح عقائد، صفحہ 24، مکتبۃ البشری، کراچی)
بعض چیزوں کااطلاق عرف کے سبب کسی کے ساتھ خاص ہوجاتاہے۔ اس کی ایک نظیرلفظ عزوجل بھی ہے کہ ہمارے عرف میں یہ ذاتِ باری تعالی کے ساتھ خاص ہے،لہذا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کااطلاق ممنوع ہے، اگرچہ کے اس کامعنی عزت و جلالت والا ہے اور یقینا نبی پاک علیہ السلام عزت وجلالت والے ہیں۔ لیکن عرف کے سبب محمدعزوجل نہیں نہ کہہ سکتے اسی طرح علیہ السلام والا مسئلہ ہے۔ امام المتکلمین علامہ عبدالعزیز صاحب نبراس رحمہ رحمۃ اللہ تعالی اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ان ھذا فی عرف السلف من شعار الانبیاء، فلزم التخصیص بھم کما لایجوز ان یقال فی النبی صلی اللہ علیہ و سلم "عزوجل" و ان کان عزیزا جلیلا"ترجمہ: بیشک علیہ السلام کا اطلاق سلف صالحین کے عرف میں انبیاء کرام کے ساتھ کہنے کا شعار تھا، لہذا اس کو انبیاء کے سا تھ خاص رکھنا لازم ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو عزوجل کہنا ناجائز ہے، اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عزت و جلالت والے ہیں۔ (النبراس شرح عقائد، صفحہ 24،مکتبۃ البشری، کراچی)
فتاوی امجدیہ میں صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے یہ سوال ہوا کہ: یاحسین علیہ السلام کہنا جائز ہے یا نہیں اور ایسا لکھنا بھی کیسا ہے اور پکارنا کیسا ہے؟ تو آپ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا: یہ سلام جو نام کے ساتھ ذِکر کیا جاتا ہے یہ سلام تحیت (یعنی ملاقات کا سلام) نہیں جو باہم ملاقات کے وَقت کہا جاتا ہے یا کسی ذریعہ سے کہلایا جاتا ہے بلکہ اس (یعنی علیہ السلام) سے مقصود صاحب اسم کی تعظیم ہے۔ عرف اہل اسلام نے اس سلام (یعنی علیہ السلام لکھنے بولنے) کوانبِیاء و ملائکہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔ مثلا حضرت ابراھیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت میکائیل علیہ السلام۔ لہٰذا غیرِ نبی و ملک (یعنی نبی اور فرشتے کے علاوہ) کے نام کے ساتھ علیہ السلام نہیں کہنا چاہئے۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 4، صفحہ 243، 244، 245، مکتبہ رضویہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
کل مسائل: 3
اپنا سوال پوچھیں
اپنا اسلامی سوال واضح انداز میں درج کریں۔ علماء کرام جائزہ لے کر جلد جواب فراہم کریں گے۔
📄 مسئلہ — PDF Preview
نور مدینہ — مسائل
Noor-e-Madina Islamic Guidance Portal
Issues Portal ReportReference: —
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تاریخ اجراء: 27/08/2026
دستاویز: سوال و جواب
01سوال
02جواب / شرعی رہنمائی
یہ جواب عمومی دینی رہنمائی کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ ذاتی یا پیچیدہ معاملے میں مستند عالمِ دین سے براہِ راست رجوع فرمائیں۔