اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیۡکَ یَا رَسُوۡلَ اللّٰہ
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصۡحٰبِکَ یَا حَبِیۡبَ اللّٰہ
تمام حلال و حرام کے مسائل روزے کے مسائل عقائد کے مسائل عیدِمیلاد النبی ﷺ قسم اور منت کے متعلق مسائل معملات ِاہلسنت نماز کے مسائل
13
عقائد کے مسائل
نبی کریم ﷺ کو مالک و مختار کہنا کیسا؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو مالک و مختار کہہ سکتے ہیں؟ اور اگر کہا تو کیا نیت ہونی چاہئے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بلاشبہہ نبی کریم رؤوف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم، اللہ تبارک وتعالیٰ کی عطا اور فضلِ عظیم سے مالک و مختار ہیں، اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مالک و مختار ہونا قرآنِ عظیم اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔

آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو مالک و مختار کہتے ہوئے یہ نیت ہونی چاہئے کہ ہر چیز کا حقیقی مالک و مختار تو صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے، البتہ! اللہ تبارک وتعالیٰ کی خاص عنایت اور فضلِ عظیم سےحضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم، اللہ عزوجل کے نائبِ مطلق ہیں، تمام جہان حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے کنٹرول میں دے دیا گیا، جو چاہیں کریں، جسے جو چاہیں دیں، جس سے جو چاہیں واپس لیں، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں، تمام آدمیوں کے مالک ہیں، جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی ملک ہے، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے، ملکوت السمٰواتِ و الارض حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زیر فرمان، جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دیدی گئیں، رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں، دنیا و آخرت حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم) کی عطا کا ایک حصہ ہے، شرعی احکام حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے قبضہ میں کر دیے گئے، کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔

اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد پاک ہے:

(قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘- وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ- بِیَدِكَ الْخَیْرُؕ- اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ)

ترجمہ کنز العرفان: یوں عرض کرو، اے اللہ !مُلک کے مالک! تو جسے چاہتاہے سلطنت عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے اور توجسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (القرآن، پارہ 3، سورۃ آل عمران، آیت: 26)

اس آیت کے شانِ نزول کے متعلق تفسیر خزائن العرفان میں ہے "فتح مکہ کے وقت سید انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ملک فارس و روم کی سلطنت کا وعدہ دیا تو یہود و منافقین نے اس کو بہت بعید سمجھا اور کہنے لگے: کہاں محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و سلم) اور کہاں فارس و روم کے ملک! وہ بڑے زبردست اور نہایت محفوظ ہیں۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آخر کار حضور کا وہ وعدہ پورا ہو کر رہا۔(خزائن العرفان، صفحہ 109، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں ہے، نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

و اعلموا أن الأرض لله و رسوله

ترجمہ: اورتم جان لوکہ!زمین اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الجزیۃ، ج 04، ص 99،دار طوق النجاۃ)

صحیح بخاری میں ہے

عن عقبة رضي اللہ عنه:أن النبي صلی اللہ علیہ و سلم خرج يوما، فصلى على أهل أحد صلاته على الميت، ثم انصرف على المنبر، فقال: إني فرط لكم، و أنا شهيد عليكم، وإني واللہ لأنظر إلى حوضي الآن، و إني أعطيت مفاتيح خزائن الأرض، أو مفاتيح الأرض، وإني واللہ ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي، و لكن أخاف عليكم أن تنافسوا فيها

ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن باہر تشریف لائے اور جنگ احد کے شہیدوں کے لیے اس طرح نماز پڑھی جیسے میت کے لیے پڑھی جاتی ہے، پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: آخرت میں، میں تم سے آگے جانے والا ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں، اللہ کی قسم میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا کہ) زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں، اور اللہ کی قسم میں تمہارے متعلق اس سے نہیں خوف کرتا کہ تم میرے بعد شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے لیکن مجھے تمہارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر گے۔ (صحیح البخاری، جلد5، حصہ 2408، حدیث: 6218، مطبوعہ: دمشق)

صحیح مسلم میں حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی سے مروی ہے، فرمایا:

كنت أبيت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فأتيته بوضوئه و حاجته فقال لي: سل. فقلت: أسألك مرافقتك في الجنة! قال: أو غير ذلك؟ قلت: هو ذاك. قال: فأعني على نفسك بكثرة السجود

ترجمہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، پس میں وضو کا پانی اور ضرورت کا سامان لے کر آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوا تو آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا:مانگو! میں نے عرض کی: میں آپ سےجنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں، فرمایا: کیا اس کے سوا کچھ اوربھی چاہیے؟ میں نے عرض کی: بس یہی، فرمایا: تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔(صحیح مسلم، جلد2، صفحہ 52، حدیث: 489، مطبوعہ: ترکیا)

ملا علی قاری علیہ الرحمۃ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

و يؤخذ من إطلاقه عليه السلام الأمر بالسؤال أن اللہ تعالى مكنه من إعطاء كل ما أراد من خزائن الحق، و من ثم عد أئمتنا من خصائصه عليه السلام أنه يخص من شاء بما شاء، كجعله شهادة خزيمة بن ثابت بشهادتين رواه البخاري، و كترخيصه في النياحة لأم عطية في آل فلان خاصة، رواه مسلم، قال النووي: للشارع أن يخص من العموم ما شاء، و بالتضحية بالعناق لأبي بردة بن نيار و غيره و ذكر ابن سبع في خصائصه وغيره أن اللہ تعالى أقطعه أرض الجنة يعطي منها ما شاء لمن يشاء

ترجمہ: اور آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے سوال کرنے کے حکم کو مطلق رکھنے سے یہ نتیجہ لیا جاتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس بات کا اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ اللہ تبارک وتعالیٰ کے خزانوں میں سے جو چاہیں عطا فرمادیں، اسی وجہ سے ائمہ کرام نے آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے خصائص میں یہ بات بھی شمار کی ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ و السلام جس شخص کو جس حکم کے ساتھ چاہیں خاص فرمادیں جیسا کہ آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر بنادیا، اسے بخاری نے روایت کیا ہے، اور جیسے آپ علیہ الصلوۃ و السلام کا خاص ام عطیہ کوفلاں خاندان والوں کے لیے نوحہ کی رخصت عطا فرمانا، اسے مسلم نے روایت کیاہے، امام نووی نے فرمایا: شارع علیہ الصلوۃ و السلام کو اختیارہے کہ عموم میں سے جوچاہیں خاص فرمادیں، اور ابو بردہ بن نیار کو بکری کے چھے مہینے کے بچے کی قربانی کی رخصت عطافرمانا (اسے بخاری نے روایت کیاہے) اوراس کے علاوہ بھی واقعات ہیں۔ اور ابن سبع وغیرہ نے آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے خصائص میں ذکرفرمایاہے کہ اللہ تعالی نے جنت کی زمین آپ کی جاگیر کردی کہ اس میں سے جسے چاہیں، جتنی چاہیں عطا فرمائیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 2، صفحہ723، مطبوعہ: بیروت)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوٰۃ شریف میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:

از اطلاق سوال کہ فرمود سل بخواہ وتخصیص نکرد بمطلوبی خاص معلوم میشود کہ کارہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر چہ خواہد وہر کراخواہد باذن پروردگار خود بدہد فان من جودک الدنیا وضرتہاومن علومک علم اللوح والقلم

ترجمہ: سوال کے متعلق مطلق فرمایا کہ:''سوال کر'' جس میں کسی مطلوب کی تخصیص نہ فرمائی، تواس سےمعلوم ہوا کہ تمام اختیارات آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دست ہمت و کرامت میں ہیں، جو چاہیں جس کو چاہیں اللہ تعالٰی کے اذن سے عطا کردیں، کیونکہ آپ کی عطا کا ایک حصہ دنیا و آخرت ہے اور آپ کے علوم کا ایک حصہ لوح وقلم کا علم۔ (صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم) (اشعۃ اللمعات، کتاب الصلاۃ، باب السجود و فضلہ، الفصل الاول، جلد 1، صفحہ199، کار خانہ محمدی، بمبئی)

الجوھر المنظم میں علامہ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

انہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم) خلیفۃ اللہ الذی جعل خزائن کرمہ و موائد نعمہ طوع یدیہ و تحت ارادتہ یعطی منھما من یشاء و یمنع من یشاء۔

ترجمہ: بے شک نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اللہ عزوجل کے خلیفہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم کے خزانے اور اپنی نعمتوں کے خوان حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دست قدرت کے فرمانبردار اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے زیر حکم و ارادہ و اختیار کر دئیے ہیں کہ جسے چاہیں عطا فرمائیں اور جسے چاہیں عطانہ فرمائیں۔(الجوھر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف المکرم، صفحہ 80، مکتبۃ مدبولی، قاھرہ)

حافظے کی عطاکے حوالے سے صحیح بخاری میں ہے

عن أبي هريرة، قال: قلت: يا رسول اللہ، إني أسمع منك حديثا كثيرا أنساه قال: «ابسط رداءك» فبسطته، قال: فغرف بيديه، ثم قال: «ضمه» فضممته، فما نسيت شيئا بعده.

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا: میں نے عرض کی: اے اللہ تعالی کے رسول!(صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم) میں آپ سے بہت ساری حدیثیں سنتاہوں، جنہیں بھول جاتاہوں، آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: "اپنی چادربچھاؤ" پس میں نے چادر بچھادی ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی نے فرمایا: پس آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے لپ بھرکراس میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا: اسے اپنے سینے سے لگالو، پس میں نے اسے سینے سے لگالیا،تواس کے بعدمیں کچھ بھی نہیں بھولا۔
شرعی احکام میں اختیارات کے متعلق بعض واقعات کامرقاۃ کی اوپرمذکورعبارت میں تذکرہ ہوا، مزیدمسلم شریف کی حدیثِ مبارکہ ہے
عن ابی ھریرۃ، قال: خطبنا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم فقال: أيها الناس، قد فرض اللہ عليكم الحج فحجوا، فقال رجل: أكل عام يا رسول اللہ؟ فسكت، حتى قالها ثلاثا، فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لو قلت: نعم، لوجبت، و لما استطعتم
ترجمہ: حضرت سیّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا ، اور فرمایا اے لوگو! اللہ تعالی نے تم پر حج فرض فرمایا ہے، پس حج کرو، تو ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ آپ علیہ الصلوۃ و السلام خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے تین بار یہی عرض کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہوجاتا اور تم اس کی ادائیگی کی طاقت نہ رکھتے۔ (صحیح مسلم، جلد4، صفحہ 102، حدیث: 1337، مطبوعہ: ترکیا)

بہارِ شریعت میں ہے "حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اللہ عزوجل کے نائبِ مطلق ہیں، تمام جہان حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے تحتِ تصرّف کر دیا گیا، جو چاہیں کریں، جسے جو چاہیں دیں، جس سے جو چاہیں واپس لیں، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں، تمام آدمیوں کے مالک ہیں، جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی ملک ہے، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے، ملکوت السمٰواتِ و الارض حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زیر فرمان، جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دیدی گئیں، رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں، دنیا و آخرت حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی عطا کا ایک حصہ ہے، احکامِ تشریعیہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے قبضہ میں کر دیے گئے، کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔" (بہارِ شریعت، جلد1، حصہ 1، صفحہ 79تا 85، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نوٹ:مزید دلائل کے لیے اس موضوع سے متعلق علمائے اہلسنت کی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
14
معملات ِاہلسنت
نبی کریم ﷺ کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا ثبوت
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کا ثبوت کہاں سے ہے؟ بعض لوگ اس کو بدعت قرار دے کر ناجائز و گناہ کہتے اور اس عمل سے روکتےہیں، شرعی دلائل کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟
جواب
مختصر جواب:

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا نام مبارک محمد سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر لگانا مستحب یعنی کارِ ثواب ہے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سےمحبت و عقیدت کا اظہار ہے، حتی کہ حدیث پاک کے مطابق ایسا کرنے والے کے لیے شفاعتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ملنے کی خوشخبری ہے۔ اس عمل کی اصل قرآنِ کریم، احادیثِ طیبہ، ائمہ و محدثین، اُمّت کے اکابر علمائے دین کے اقوال و افعال اور اصول وقوانینِ شریعت سے ثابت ہے، لہٰذا سوائے چند مخصوص مقامات کے (جن کی تفصیل آخرمیں ذکر کی جائے گی)، خواہ اذان کے دوران اسمِ مبارک سننے کا موقع ہو یا اس کے علاوہ، ہر صورت میں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانا، جائز و مستحسن عمل ہے۔ اس لیے اس کو بدعت و گناہ کہہ کر ترک کرنے پر زور دینا شریعت پر افتراءو بہتان اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ (تفصیلی دلائل ذیل میں ملاحظہ کیجیے۔)

نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کے استحباب کی صراحت کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) رد المحتار میں لکھتے ہیں: يستحب أن يقال عند سماع الأولى من الشهادة: صلى اللہ عليك يا رسول اللہ، وعند الثانية منها: قرت عيني بك يا رسول اللہ، ثم يقول: اللهم متعني بالسمع والبصر بعد وضع ظفري الابهامين على العينين فإنه عليه السلام يكون قائدا له إلى الجنة،كذا في كنز العباد،قهستاني،ونحوه في الفتاوى الصوفية،و في كتاب الفردوس من قبل ظفري إبهامه عند سماع أشهد أن محمدا رسول اللہ في الأذان أنا قائده و مدخله في صفوف الجنة

ترجمہ: مستحب ہے کہ مؤذن کی پہلی شہادت پر ”صلی اللہ عليك يا رسول اللہ“ کہا جائے اور دوسری پر ”قرت عيني بك يا رسول اللہ“، پھر انگوٹھوں کے ناخنوں کو آنکھوں پر رکھ کر ”اللّٰهم متعني بالسمع و البصر“ کہا جائے، ایسا کرنے والے کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم جنت کی طرف لے جانے میں قائد ہوں گے،یونہی کنز العباد،قہستانی اور اسی کی مثل فتاوی صوفیہ میں ہے۔ اور مسند الفردوس میں ہے: جو ”اشهد ان محمد ارسول اللہ“ اذان میں سن کر انگوٹھوں کو چومے، مَیں اس کا قائد ہوں اور اسے جنت کی صفوں میں داخل کروں گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب الاذان، جلد 2، صفحہ 84، مطبوعہ کوئٹہ)

اذان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی نام مبارک پڑھ یاسن کر انگوٹھے چومنا جائز و مستحسن ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مسلمان اگر وقتِ اقامت بھی تقبیل کرے، ہرگز کوئی وجہِ ممانعت نہیں، اور اسے شرعاً ناجائز نہ کہے گا، مگر وہ کہ شرع پر افترا کرتا یا نام و اکرامِ سید الانام علیہ افضل الصلاۃ و السلام سے جلتا ہے۔ اسی طرح نماز و استماع قرآن مجید و استماع خطبہ جن میں حرکت منع ہے اور ان کے امثال مواضع لزوم محذور کے سوا جہاں کہیں بھی یہ فعل بنظرِ تعظیم و محبت حضرت رسالت علیہ افضل الصلاۃ و التحیۃ ہو جیسا کہ بعض محبان سرکار سے مشہور ہے، بہرحال محبوب و محمود ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 652، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اذان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی انگوٹھے چومنا جائز و مستحسن ہونے کےحوالے سے امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کا شکوک و شبہات کا قلع قمع کرنے والا شاندار رسالہ نھج السلامۃ فی حکم تقبیل الابھامین فی الاقامۃ (یعنی اقامت کے دوران انگوٹھے چومنے کے حکم میں عُمدہ تفصیل) فتاوی رضویہ، جلد5 میں موجود ہے، جس کا مطالعہ انتہائی مفید رہے گا، ان شاء اللہ العزیز۔

یونہی مفتی جلال الدین امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1422ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: اذان و تکبیر کے علاوہ بھی نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنا جائز و مستحسن ہے کہ اس میں حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی تعظیم بھی ہے اور حضور کی تعظیم جس طرح بھی کی جائے، باعثِ ثواب ہے۔ (فتاوی فیض رسول، جلد 1، صفحہ 224، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور(

تفصیلی جواب:

نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کے ثبوت پربہت سے دلائل ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں؛

پہلی دلیل:

اس حوالے سے واضح احادیث موجود ہیں،جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عمل شرعاً نہ صرف جائز، بلکہ تعظیمِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر مشتمل ایک نہایت اچھا عمل ہے، جس کے دینی و دنیوی کثیر فوائد ہیں۔

چنانچہ علامہ محمد بن عبد الرحمن سخاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 902ھ / 1497ء) المقاصد الحسنہ میں مسند الفردوس للدیلمی کے حوالے سے لکھتےہیں: مسح العينين بباطن أنملتي السبابتين بعد تقبيلهما عند سماع قول المؤذن أشهد أن محمدا رسول اللہ، مع قوله: أشهد أن محمدا عبده و رسوله، رضيت بالله ربا، و بالاسلام دينا، و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا، ذكره الديلمي في الفردوس من حديث أبي بكر الصديق أنه لما سمع قول المؤذن أشهد أن محمد رسول اللہ قال هذا، و قبل باطن الأنملتين السبابتين و مسح عينيه، فقال صلى اللہ عليه و سلم: من فعل مثل ما فعل خليلي فقد حلت عليه شفاعتي

ترجمہ: مؤذن سے ”اشهد ان محمداً رسول اللہ“ سُن کر انگشتانِ شہادت کے پورے، اندورنی جانب سے چوم کر آنکھوں پر لگانا اور یہ دُعا پڑھنا ”أشهد أن محمدا عبده و رسوله، رضيت بالله ربا، و بالاسلام دينا، و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا“، اس حدیث کو امام دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالےسے بیان کیا کہ جب انہوں نے مؤذن کو "اشهد ان محمداً رسول اللہ" کہتے ہوئے سنا، تو یہ دُعا پڑھی اور اپنی شہادت کی انگلیوں کے پورے اندرونی جانب سے چوم کر اپنی آنکھوں پر لگائے، اس پر نبی کریمصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو میرے پیارے کی طرح عمل کرے، تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔ (المقاصد الحسنۃ، صفحہ 604، 605،دار الكتاب العربي، بيروت)

اسی روایت کو امام اسماعیل بن محمدعجلونی شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1162ھ) نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب کشف الخفاء میں نقل کیا۔ (کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 243، مطبوعہ المکتبة العصریہ)

اوپر ذکر کردہ حدیث پاک پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) نے جو فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہےکہ جب یہ عمل خلیفۂ اوّل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، تو اس پر عمل کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت کے ساتھ ساتھ اپنے خلفائے راشدین کی سنت کو بھی مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا اس عمل کے جائز و مستحب ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ طریقہ صدیقی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: و إذا ثبت رفعه على الصديق فيكفي العمل به لقوله عليه الصلاة و السلام عليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين“ ترجمہ: مفہوم واضح ہے۔ (الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ، ص 316، مؤسسة الرسالة، بيروت)

اور اسی روایت کو ذکر کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: تو صدیق سے کسی شَے کا ثبوت بعینہٖ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے ثبوت ہے، اگرچہ بالخصوص حدیث مرفوع درجہ صحت تک مرفوع نہ ہو۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 432، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

علامہ محمد بن عبدالرحمن سخاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 902ھ / 1497ء) المقاصد الحسنہ میں امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق، فقہ مالکی کےعالم و فقیہ، ابو عبد الله محمد بن محمد طرابلسی، المعروف امام حطاب مالکی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات: 954ھ) اپنی کتاب مواهب الجليل فی شرح مختصر خلیل میں حضرت خضر علیہ السلام کے حوالےسے، محدّث وقت، علامہ محمد طاہر حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 984ھ) مجمع بحار الانوارمیں، علامہ اسماعیل حقی حنفی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات 1127ھ) تفسیر روح البیان میں اور امام عجلونی شافعی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ (سال وفات: 1162ھ) کشف الخفاء میں نقل کرتے ہیں،و اللفظ للاول: قال وروي عن الفقيه محمد بن سعيد الخولاني قال: أخبرني الفقيه العالم أبو الحسن علي ابن محمد بن حديد الحسيني أخبرني الفقيه الزاهد البلالي عن الحسن أنه قال: من قال حين يسمع المؤذن يقول أشهد أن محمدا رسول اللہ: مرحبا بحبيبي و قرة عيني محمد بن عبد اللہ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ و يقبل إبهاميه و يجعلهما على عينيه لم يعم و لم يرمد۔ ترجمہ: یعنی شمس الدین محمد بن صالح مدنی فرماتے ہیں کہ فقیہ محمد سعید خولانی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے فقیہ عالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید حسینی نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ مجھے فقیہ زاہد بلالی نے حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ حضرت امام نے فرمایا کہ جو شخص مؤذن کو اشھد ان محمداً رسول اللہ کہتا ہوا سنے اور یہ دعا پڑھے:مرحبا بحبيبي و قرة عيني محمد بن عبد اللہ“ اور اپنے انگوٹھے چُوم کر آنکھوں پر رکھے، وہ نہ توکبھی اندھا ہو گا، نہ اس کی آنکھیں دُکھیں گی۔ (المقاصد الحسنۃ، صفحہ 606، دار الكتاب العربي، بيروت)

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: علامہ محدث محمد طاہر فتنی رَحِمہ اللہ تعالی تکملہ مجمع بحار الانوار میں حدیث کو صرف ”لایصح“ فرماکر لکھتے ہیں: و روی تجربۃ ذلک عن کثیرین“ یعنی اس کے تجربہ کی روایات بکثرت آئیں۔ (مجمع بحار الانوار، جلد 5، صفحہ 216، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ) (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 436، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

عالمِ شہیر، مفتیِ اسلام، مولانا مفتی محمد یار خلیق فاروقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 1356ھ) اپنی کتاب صلوٰۃِ مسعودی میں روایت نقل کرتے ہیں: روی عن النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم انہ قال من سمع اسمی فی الاذان و وضع ابھامیہ علی عینیہ فانا طالبہ فی صفوف القیامۃ و قائدہ الی الجنۃ“ یعنی: حضور نبی کریمصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اذان میں میرا نام سنا اور انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا، تو میں قیامت میں صفوں سے تلاش کر کے اسے جنت لے جاؤں گا۔ (صلوۃ مسعودی، جلد 2، باب نوزدہم دربیان بانک نماز، صفحہ 94، مطبوعہ پشاور)

دوسری دلیل:
زمانۂ قدیم سے سلف و صالحین، مستند و معتبر اَئمۂ دین، علماء، صلحاء، محدثین اور بزرگانِ دین کا آج تک یہ معمول رہا ہے کہ نام مبارک سن کر انگوٹھے چومتے اور آنکھوں سے لگاتے اور اس عمل کو اپنے لیے دنیا و آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ جانتے رہے اور اس کی دینی و دنیوی فضیلتیں بیان کرتے رہے،بلکہ آنکھوں کی حفاظت،وغیرہ کے لیے اس عمل کو مجرب قرار دیتے رہے ہیں، لہٰذا ایسا عمل جو مسلمانوں میں صدیوں سے رائج ہے جسے مسلمانوں کی اکثریت اچھا جانتی ہےاور ان میں معمول بہا بھی ہے،تو حدیث پاک کے مطابق وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا عمل ہے۔

چنانچہ المستدرک للحاکم، مسند امام احمد، مسند بزار، المعجم الکبیر للطبرانی اور دیگر کتب احادیث میں ہے، و اللفظ للاول: ما رای المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن‘‘ ترجمہ: جس کام کو مسلمان اچھا سمجھیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین، جلد 3،صفحہ 83، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) نے اس بات کو بہت خوبصورت انداز میں سمجھایا، فرماتے ہیں کہ نیک مسلمانوں کے نزدیک اچھا عمل،اللہ کریم کے نزدیک بھی اچھا اس لیے ہے، کیونکہ مرفوع حدیث پاک کے مطابق یہ امت مجموعی طورپر گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی، لہٰذا جس عمل پر مسلمانوں کی بڑی جماعت کاربند ہے، وہ کام بھی گمراہی والا نہیں ہوسکتا، چنانچہ عبارت ملاحظہ کیجیے:عن ابن مسعود ما رأہ المؤمنون حسنا فھو عند اللہ حسن و فی حدیث مرفوع ولا تجتمع أمتی علی الضلالۃ“ ترجمہ: مفہوم واضح۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 224، مطبوعہ بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت اس بات کو ایک اور انداز میں بیان فرماتے ہیں: ادب و اجلال جہاں تک ممکن ہو، بہتر ہے۔ فتح القدیر میں ہے: کل ما کان فی الأدب و الاجلال کان حسناً“ ہر وہ کام جو ادب و احترام میں داخل ہو وہ اچھا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23 صفحہ 405، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ نام مبارک محمد پڑھ یا سن کر سر جھکانا، انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگانا ادب ہی ادب ہے اور حسن یعنی اچھا کام ہے۔

کچھ ائمہ کے نام اوپر ذکرکردہ دلائل میں بیان ہوئے، مزید اس مسئلہ میں سلف، صالحین اور فقہائے اسلام کی تصریحات ملاحظہ کیجیے، چنانچہ شرحِ نقایہ، کنز العباد، جامع الرموز، رد المحتار، طحطاوی علی المراقی اور اردو کتب فقہ، جیساکہ فتاوی رضویہ، فتاوی امجدیہ، فتاوی نوریہ ا ور دیگر بہت سی کتب فقہ میں ہے، و اللفظ للطحطاوی: ذكر القهستاني عن كنز العباد أنه يستحب أن يقول عند سماع الأولى من الشهادتين للنبي صلى اللہ عليه و سلم صلى اللہ عليك يا رسول اللہ و عند سماع الثانية قرت عيني بك يا رسول اللہ اللّٰهم متعني بالسمع و البصر بعد وضع إبهاميه على عينيه فإنه صلى اللہ عليه و سلم يكون قائدا له في الجنة و ذكر الديلمي في الفردوس من حديث أبي بكر الصديق رضي اللہ عنه مرفوعا من مسح العين بباطن أنملة السبابتين بعد تقبيلهما عند قول المؤذن أشهد أن محمدا رسول اللہ و قال: أشهد أن محمدا عبده و رسوله رضيت بالله ربا و بالاسلام دينا و بمحمد صلى اللہ عليه و سلم نبيا حلت له شفاعتي

اس پوری عبارت کا مفہوم شامی کی عبارت میں گزر چکا ہے۔

مزید احادیث اور سلف صالحین کا عمل بیان کرنے کے بعد علامہ طحطاوی حنفی عَلَیْہِ الرَحْمَۃ لکھتے ہیں: و كذا روي عن الخضر عليه السلام و بمثله يعمل في الفضائل“ یعنی ایسی ہی روایت حضرت خضر علیہ السلام سے بھی مروی ہے اور فضائل کے باب میں ایسی روایات پر عمل کیا جاتا ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 205، 206، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

ہمارے زمانہ میں بعض لوگوں نے ابو الحسنات علامہ عبد الحی لکھنوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1304ھ / 1886ء)کی طرف غلط پیراے میں نسبت کر کے اپنا باطل موقف ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ علامہ لکھنوی نے خود استحباب بیان کیا ہے، چنانچہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: بعض فقہا مستحب نوشۃ اند،و حدیث هم دریں باب نقل میسازند، مگر صحیح نیست ودر امر مستحب فاعل وتارك هر دو قابل ملامت و تشنیع نیستند، در جامع الرموز می آرد۔ ۔ ۔ الخ“ یعنی بعض فقہا ء نے اس کو مستحب لکھا ہے اور اس کے بارے میں حدیثیں بھی نقل کی ہیں، مگر وہ درجہ صحت پر فائز نہیں ہیں اور مستحب کام کرنے اور نہ کرنے والا،دونوں پر ملامت اور طعن و تشنیع نہیں ہےاور جامع الرموز میں ہے (اور آگے وہی عبارت ذکر کی جو اوپر شامی کے جزئیہ میں موجودہے)۔ (مجموعه فتاوی، باب ما يتعلق بالاذان، جلد 3، صفحه 47، مطبوعہ لکھنؤ)

فتاوی رضویہ میں امامِ اہل سنت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃنے شاندار رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین تحریر فرمایا، جس میں دیگر بہت سے شاندار دلائل کے ساتھ ساتھ سلف و صالحین کا عمل بھی بیان کیا ہے، جلد 5، صفحہ 430 پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

علامہ فیض احمد اویسی صاحب رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس مسئلہ کے متعلق رسالہ تحریر فرمایا جس میں دیگر دلائل بیان کرنے کے بعد اس مسئلہ کے جواز و استحباب پر تصریحات کرنے والے محدثین، علماء و فقہاء اور ان کی کتب کے نام لکھے، چنانچہ لکھتے ہیں: انگوٹھے چومنے کا مسئلہ جس طرح احادیث سے ثابت ہے، اس طرح فقہائے کرام کی عبارات سے بھی ثابت ہے خواہ وہ فقہائےحنفی ہوں یا شافعی یا مالکی چنانچہ مذکورہ عبارات میں ہر سہ مذاہب کے علماء تھے اور جن کتب میں یہ مسئلہ موجود ہے، ان کے اسماء درج ذیل ہیں۔

(۱) قوت القلوب، از امام ابو طالب مکی (۲) روح البیان (۳) حاشیۂ جلالین (۴) رد المحتار، شامی، (۵) انجیل بربناس (۶) فتاوى جواهر (۷) فتاوى سراج المنیر(۸) فتاوى صوفیہ(۹) فتاوی مفتاح الجنان (١٠) نعم الانتباه (۱۱) صلوة مسعودی (۱۲) مثنوی مولانا روم (۱۳) جامع الرموز (۱۴) شرح نقایہ(۱۵) کنز العباد (۱۶) موضوعات كبير، ملا على قارى (۱۷) المقاصد الحسنة (۱۸) ديلمى، فى الفردوس (۱۹) موجبات الرحمة وعزائم المغفرت (۲۰) تاریخ محمد بن صالح المدنى (۲۱) فتاوى جمال مكى (۲۲) تکملہ مجمع بحار الانوار ملا طاهر محدث فتنی (۲۳) قہستانی ،حواشی رملى على بحر الرائق (۲۴) المضمرات (۲۵) اعانۃ الطالبين ،فقہ شافعی (۲۶) شرح کفایہ الطالب الربانی (فقہ مالکی) (۲۷) طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح على نور الايضاح (۲۸) تذكرة الموضاعات(۲۹) فتاوی عبد الحی (۳۰) محيط (۳۱) خزانۃ الروايات (۳۲) مقدمۃ الصلوة (۳۳) تہذيب الصلوة (۳۴)جواهر محددیہ (۳۵) خُطب، مولانا عبدالقدوس (۳۶) بستان المحدثين (۳۷) موضوعات كبير (۳۸) مرقات شرح مشكوة، وغيره وغيره۔ (رسالہ: انگوٹھے چومنے کا ثبوت، صفحہ 20، 21، مطبوعہ بزم فیضان اویسیہ)

تیسری دلیل:
نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر لگانامحبت و تعظیم کا ایک انداز ہے، اور اس انداز کو اپنانے سے کوئی سنت بھی نہیں مٹ رہی، نہ کسی آیت و حدیث کی مخالفت لازم آرہی ہے، بلکہ اس کی اصل قرآن کریم سے ثابت ہےکہ حضور پُر نور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم کثیر آیاتِ قرآنیہ، احادیث طیبہ سے یقیناً ثابت ہے اور انگوٹھے چومنے کا عمل بھی تعظیم کا عمل ہے، لہٰذا انگوٹھے چومنے کا عمل بھی ثابت ہوا، تو پھر تعظیماً اس عمل کو بجا لانے سے بنا کسی شرعی دلیل کے کیوں منع کیا جاتا ہے؟ حالانکہ علمائے اسلام نے واضح طور پر فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی تعظیم کا ہر وہ انداز اپنایا جا سکتا ہے، جس میں حد سے غلو نہ ہو اور حد سے غلو یہ ہے کہ انہیں اُلوہیت کے مرتبہ پر فائز نہ مانا جائے، اس کے علاوہ ہر اس انداز اور طریقہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم جائز و درست ہے کہ جس سے عظمت بلند ہو اور وہ شریعت سے ٹکراتا نہ ہو۔

انگوٹھے چومنا ادب و تعظیمِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر مشتمل عمل ہے اور قرآن کریم میں تعظیمِ حبیب صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا حکم دیتے ہوئے رب تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔ (پارہ 26، سورۃ الفتح، الایۃ: 9)

اس آیتِ مقدسہ میں تعلیم دی گئی ہے کہ سرکارِدو عالَم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی ہروہ تعظیم جوخلاف شرع نہ ہو،کی جائے گی، کیونکہ یہاں تعظیم و توقیر کے لئے کسی قسم کی کوئی قید بیان نہیں کی گئی، اب وہ چاہے کھڑے ہوکرصلوٰۃ و سلام پڑھناہو، (انگوٹھے چومنا ہو) یا کوئی دوسرا طریقہ۔ (از صراط الجنان)

چنانچہ اس ضمن میں چند عبارات ملاحظہ کیجیے، قاضی عیاض مالکی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ِلکھتے ہیں: فأوجب تعالى تعزيره و توقيره و ألزم إكرامه و تعظيمه، و قال ابن عباس تعزروه تجلوه و قال المبرد تعزروه تبالغوا في تعظيمه“ ترجمہ: پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم و توقیر واجب قرار دی اور ان کو لازم قرار دیا۔ (الشفا بتعريف حقوق المصطفى، جلد 2، صفحہ 35، مطبوعہ دار الفکر)

امام بوصیری نے قصیدہ بردہ میں اورعلامہ زرقانی نے انہی کے اشعار کے تحت شرح الزرقانی علی المواہب میں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے مقدمہ فتح الباری میں، حافظ ابن حجر ہیتمی نے الجوہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبوی المکرم میں، شیخ عبد الوہاب بن احمد بن برکات نے عقد الزبرجد من حروف سیدنا محمد میں اور شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری علیہم الرحمۃ نے اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ میں لکھا، و اللفظ للآخر: (فارسی سے ترجمہ) جو كمالات و تعریفات آپ کے لیے کی جائیں گی، وہ آپ کے مرتبہ کے شایانِ شان بھی نہیں ہوں گی، شعر کا ترجمہ: ”یعنی شریعت کے حکم کے مطابق انہیں خدانہ کہو۔ اس کے علاوہ ان کی مدح و تعریف میں جو کہنا چاہتا ہے کہہ دے۔ (اشعۃ اللمعات، مترجم، جلد 6، صفحہ 103، مطبوعہ فرید بک سٹال)

الجوہرالمنظم اور عقد الزبرجد کی دلنشین عبارت ملاحظہ کیجیے: و من بالغ في تعظيمه صلى اللہ عليه وسلم بانواع التعظيم و لم يبلغ به ما يختص بالبارى سبحانه وتعالى فقد اصاب الحق و حافظ على جانب الربوبية و الرسالة جمیعا و ذلك هو القول الذى لا افراط فيه ولا تفريط۔ مفہوم واضح۔ (عقد الزبرجد من حروف سیدنا محمدصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم، صفحہ 49، مطبوعہ بیروت)

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فتاوی رضویہ میں لکھا: ظاہر ہے کہ نامِ اقدس سُن کر انگوٹھے چُومنا آنکھوں سے لگانا عرفاً دلیلِ تعظیم و محبّت ہے اور امورِ ادب میں قطعاً عرف کا اعتبار۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں: فیحال علی المعھود حال قصد التعظیم“ یعنی: تعظیم مقصود ہونے کے وقت اسے عرف پر محمول کیا جائےگا۔(فتح القدیر باب صفۃ الصّلٰوۃ، 1 / 249 مطبوعہ نوریہ رضویہ، سکھر) اور تعظیم حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم مطلقاً ماموربہ۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-﴾۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے: تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ہمیشہ ان کی تعظیم و توقیر بجالاؤ۔ (القرآن 48 / 9) اور مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر جاری رہے گا جب تک کسی خاص فرد سے منع شرعی نہ ثابت ہو، جیسے سجدہ، زیادات امام عتابی پھر جامع الرموز پھر ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹ میں ہے: ”ان المطلق یجری علیٰ اطلاقہ الا اذاقام دلیل التقیید نصا اودلالۃ فاحفظہ فانہ للفقیہ ضروری۔“ مطلق اپنے اطلاق پر ہی رہتا ہے مگر اس صورت میں کہ جب تقیید پر کوئی صراحۃً یا دلالۃً دلیل قائم ہو، اسے اچھی طرح محفوظ کرلو کیونکہ یہ فقیہ کے لئے ضروری قاعدہ ہے۔ (ردالمحتار فصل فی البیع من کتاب الحظر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/ ۲۷۲)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05 صفحہ 650، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1403ھ / 1982ء) فتاوی نوریہ میں لکھتے ہیں: تقبیل الابہامین بھی جائز و مستحسن کہ یہ عرفاً محبوب اعظم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم ہے اور حضور پُر نور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم آیاتِ متوافرہ، احادیث متظاہرہ سے یقیناً ثابت،تو تقبیل الابہامین بھی ضرور ثابت ہوئی۔ (فتاویٰ نوریہ، جلد 1، صفحہ 285، مطبوعہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)

اشکال: بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ نامِ محمد صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سن کر انگوٹھے چومنے میں تعظیم کیسے ہے؟

جواب: جواباًگزارش یہ ہے کہ تعظیم صرف کسی ایک خاص عمل کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ قول،فعل یا طریقہ جو عرفاً ادب، محبت اور تعظیم و توقیر کے اظہار کے لیے اختیار کیا جائے، وہ تعظیم کے دائرے میں داخل ہے۔ اور اس چیز کی پہچان عرف سے ہوتی ہے، مثال کے طور پر: قرآن کریم کو اونچی جگہ رکھنا۔ اس کو بوسہ دینا۔ اس پر کوئی چیز نہ رکھنا۔ استاد، والدین اور مشائخ کے سامنے ادب سے بیٹھنا، ان کے سامنے ہا تھ باندھ کر کھڑے ہونا۔ یہ سب کام تعظیماًکیے جارہے ہوتے ہیں، کیونکہ عرف میں انہیں ادب اور احترام کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ یونہی سلف و خلف سے صحابہ کرام، تابعین عظام علیہم الرضوان سے لے کر آج تک اکابر علما ئے دین، محدثین، علماء، صلحاء کے تعظیمِ مصطفیٰ اور ادب و احترام والے عمل کی ہزاروں مثالیں ایسی ہیں کہ نہ وہ طریقے کسی آیتِ قرآنی میں آئے، نہ کسی حدیث میں بیان ہوئے، مگر یہ اکابرین اپناتے رہے، لہٰذا جب وہ سابقہ طریقے اپنانا ان بزرگوں پر طعن کا سبب نہ بنے اور نہ ان پر بدعت کے فتوے لگے، تو اگر کوئی مسلمان عشقِ نبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم میں ڈوب کر نام ”محمد“ سن کر محبت کے اظہار کے لیے انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگا لے، تو اس کو غلط و ناجائز کیسے قرار دیا جا سکتا ہے، لہٰذا یہ بھی عرفاً اظہارِ محبت و تعظیم کا ایک انداز ہے۔

چوتھی دلیل:
فقہ اسلامی کا مسلّمہ اُصول ہے کہ جس کام کے بارے میں شارع علیہ السلام نے سکوت فرمایا اور کسی بھی مقام پر اس سے منع نہیں فرمایا، تو اس عمل کے جائز اور درست ہونے کے لیے اتناہی کافی ہے، کیونکہ شریعت میں کسی عمل سے منع نہ کرنا خود اس عمل کے جواز کی بہت بڑی دلیل ہوا کرتا ہے، جیساکہ اُصول و قوانینِ شریعت سے واقف شخص پر مخفی نہیں، لہٰذا اگر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانے کے معاملے میں غورکیا جائے، تو کسی بھی آیت و حدیث میں اس پر ممانعت وارد نہیں ہوئی، نہ مستند علماء میں سے کسی نے منع کیا، لہٰذا شریعت کی جانب سے منع ہونے پر کوئی دلیل نہ ہونا ہی خود اس عمل کے جائز ہونے کے لیے کافی ہے۔

چنانچہ علامہ زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ / 1562ء)لکھتے ہیں: الأصل في الأشياء الاباحة حتى يدل الدليل على عدم الاباحة“ ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل مباح و جائز ہونا ہے، یہاں تک کہ (کسی چیز کے متعلق) مباح نہ ہونے کی دلیل قائم ہو جائے۔ (الأشباه و النظائر، الفن الأول القواعد الكلية، صفحہ 56، دار الكتب العلمية، بيروت)

اوپر ذکر کردہ تمام دلائل کو امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک پیرے میں یوں بیان فرمایا، چنانچہ لکھتے ہیں: حضور پُرنور شفیع یوم النشور صاحبِ لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا نام پاک اذان میں سنتے وقت انگوٹھے یا انگشتانِ شہادت چوم کر آنکھوں سے لگانا قطعاً جائز، جس کے جواز پر مقام تبرع میں دلائل کثیرہ قائم، اور خود اگر کوئی دلیل خاص نہ ہوتی ،تو منع پر شرع سے دلیل نہ ہونا ہی جواز کے لئے دلیل کافی تھا، جو ناجائز بتائے ثبوت دینا اُس کے ذمّہ ہے کہ قائل جواز متمسک باصل ہے اورمتمسک باصل محتاجِ دلیل نہیں، پھر یہاں تو حدیث وفقہ و ارشاد علما وعمل قدیم سلف ،صلحا سب کچھ موجود۔علمائے محدثین نے اس باب میں حضرت خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سیدنا صدیق اکبر و حضرت ریحانہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سیدنا امام حسن و حسین و حضرت نقیب اولیائے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم، سیدنا ابوالعباس خضر علی الحبیب الکریم وعلیہم جمیعا الصلاۃ و التسلیم وغیرہم اکابرِ دین سے حدیثیں روایت فرمائیں،جس کی قدرے تفصیل امام علّامہ شمس الدین سخاوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب مستطاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمائی اور جامع الرموز، شرح نقایہ، مختصر الوقایۃ وفتاوٰی صوفیہ و کنز العباد و رد المحتار حاشیہ در مختار،وغیرہا کتبِ فقہ میں اس فعل کے استحباب واستحسان کے صاف تصریح آئی،ان میں اکثر کتابیں خود مانعین اور ان کے اکابر وعمائد مثل متکلم قنوجی وغیرہ کے مستندات سے ہیں۔ ۔ ۔ اور اس سے بھی گزریے تو بلا شبہ یہ فعل اکابرِ دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحتِ بصر و روشنائی چشم کے لئے مجرب اور معمول، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہوتو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلاً نقل بھی نہ ہوتو صرف تجربہ وافی کہ آخر اُس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں، نہ کسی سنّتِ ثابتہ کا خَلاف، اور نفع حاصل تو منع باطل، بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ سے خاص کرناصاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیثِ موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05 صفحہ 430، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اشکال: معترضین کی طرف سے اعتراض ہوتاہے کہ یہ عمل آنکھوں کی حفاظت کے لیے صرف ایک منتر اور ٹوٹکے کی حیثیت رکھتا ہے جس کا دین و عبادت سے کوئی تعلق نہیں،لہٰذا اس کو عبادت اور ثواب کا کام سمجھنا بدعت ہےجو کہ جائز نہیں؟

جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ نام پاک کی یہ ایک برکت بیان ہوئی، ورنہ روایات میں تو یہ بھی موجود ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم اس کی شفاعت فرمائیں گے، اسے اپنے ساتھ جنت میں لے کر جائیں گے۔ کیا کوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ جس عمل پر اتنے عظیم و جلیل ثواب کا وعدہ ہو، وہ سرے سے عبادت ہی نہیں، بلکہ منتر ہے، معاذ اللہ، نیز اس عمل کی یہ برکت بیان ہونا کہ آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی، اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ یہ عمل عبادت سے ہی خارج ہو جائے؟ حالانکہ سینکڑوں احادیث ایسی ہیں جن میں تلاوتِ قرآن عظیم وتسبیح وتہلیل وحمد وتکبیر ولاحول شریف وغیرہا اذکارِ جلیلہ پر جسمانی اور دُنیاوی فوائد حاصل ہونا بیان ہوئے ہیں، جسے شوق ہو،وہ صحاح ستہ، امام منذری کی ترغیب وترہیب، امامِ جلیل سیوطی کی جوامع اور امام جزری کی حصن حصین وغیرہا کتبِ حدیث کا مطالعہ کر لے، کیا ان سے دنیوی منافع حاصل ہونے سے یہ آیات و احادیث معا ذ اللہ! سب ایسے منتر بن جائیں گے کہ جن کا عبادت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ (ملخص از فتاوی رضویہ، 5 /644، رضا فاؤنڈیشن)

تنبیہ: یہاں دو باتیں ذہن نشین رہیں:

(1) اس عمل کو فرض، واجب، یا تاکیدی سنت نہیں قرار دیا گیا، بلکہ مستحب ہونا بیان ہوا، لہٰذا اگر کوئی شخص اس عمل کودرست جانتے ہوئے نہیں بھی کرتا، تو شرعاً کوئی حرج نہیں، نہ ہی اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی شرعاً اجازت ہے، البتہ اگر کوئی اسے بدعتِ سیئہ اور ناجائز و گناہ قرار دے، تو شرعی دلائل کے ساتھ اس کا ضرور مؤاخذہ کیا جائے گا کہ جس کام کو اللہ و رسول نے منع نہیں فرمایا، وہ اسے کس بنیاد پر منع کر رہا ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ضرور بمعنی فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ تو اصلا نہیں۔ ہاں اذان سننے میں علمائے فقہ نے مستحب رکھا ہے۔ اور اس خاص موقع پر کچھ احادیث بھی وارد جو ایسی جگہ قابل تمسک ہیں کما حققناہ فی رسالتنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین، مگر نماز میں یا خطبہ یا قرآن مجید سنتے وقت نہ چاہئے، نماز میں اس کی ممانعت تو ظاہر، اور استماع خطبہ وقرآن کے وقت یوں کہ اس وقت ہمہ تن گوش ہو کر تمام حرکات سے بازرہنا چاہئے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 316، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

(2) کچھ مواقع ایسے ہیں کہ جہاں انگوٹھے چومنے سے بچنے کا حکم ہے، جیساکہ نماز میں، یونہی تلاوت اور خطبے کے دوران کہ ان حالتوں میں نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنے سے بچا جائے کہ یہی اَولیٰ و انسب ہے، نماز میں تو واضح ہے،دورانِ تلاوت و خطبہ اس لیے کہ اس وقت تمام افعال و حرکات سے باز رہنے کا حکم ہے، البتہ اگر کسی نے کرلیا، تو اس کو ناجائزو گناہ نہیں کہیں گے، سوائے یہ کہ ایسا طریقہ ہو جو سننے میں خلل کا باعث بن جائے۔ چنانچہ رد المحتار میں خطبے کے احکام کے بارےمیں فرمایا: الأصح انہ لا بأس بأن یشیر برأسہ۔ تو اس کے تحت جدالممتار میں کلام کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: أفاد أن ھذا القدر لایخل بالاستماع و الا لحرم، فیمکن علی ھذا تخریج ما اعتادہ الناس فی زماننا من تقبیل الابھامین و وضعھما علی العینین حین بلوغ القاری الی اسم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی قولہ تعالٰی: ﴿مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ﴾ فلعلہ لایحکم بالتحریم، و ان کان الاولی الترک۔ ترجمہ: رد المحتار کے کلام نے اس بات کا فائدہ دیا کہ صرف سرکے اشارے کی مقدار،سننے میں خلل نہیں ڈالتی، ورنہ سر کا اشارہ بھی حرام ہوتا، اس پر یہ مسئلہ اخذکیا جاسکتا ہے جو ہمارے زمانے میں لوگوں کی عادت ہوچکی ہے کہ جب تلاوت کرنے والا قرآن پاک کی آیت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے نام پرپہنچتا ہے تو وہ انگوٹھوں کو چوم کرآنکھوں پر لگاتے ہیں، تو اس عمل پر بھی حرام ہونے کا حکم نہ لگایا جائے، اگرچہ اولی یہی ہے کہ اسے ترک کیا جائے۔ (جد الممتار، جلد 3، صفحہ 241، مطبوعہ مكتبة المدينه، كراچی)

فاتحہ خوانی میں پنج آیت کی تلاوت کے وقت انگوٹھے چومنے کے بارے میں امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا،تو جواباً فرمایا: پنجآیت (یعنی پنج آیت) کے وقت اس فعل کا ذکر کسی کتاب میں نہ دیکھا گیا اورفقیر کے نزدیک یہاں پربنائے مذہبِ ارجح واصح، غالبا ترک زیادہ انسب والیق ہونا چاہیے۔ (فتاوی رضویہ جلد 22، صفحہ 355، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
15
معملات ِاہلسنت
گیارہویں شریف کیوں مناتے ہیں؟ گیارہویں کی حقیقت
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گیارہویں شریف کی حقیقت کیا ہے اور اس کے لیے کوئی خاص جگہ معین ہے یا جہاں بھی دلوائیں ، ہو سکتی ہے؟ نیز کیا کسی دوسرے بزرگ کے مزار پر غوث پاک کی گیارہویں ہو سکتی ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
گیارہویں شریف حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کے لیے منعقد کی جانے والی محفل کو کہا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا یومِ وفات11ربیع الثانی ہے ، تواس مناسبت سے آپ کے ایصال ثواب کے لیے گیارہویں شریف کے نام سے محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ان محافل میں قرآن خوانی،نعت خوانی و بیان وذکر و اذکار اور ذکرِ صالحین کے ساتھ ساتھ طعام و فاتحہ وغیرہ امور خیر کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ایصال ِثواب کی صورت میں سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ اقدس میں نذرانہ پیش کیا جاتا ہے اور ایصال ثواب کرنا قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور اقوال ِفقہاء و افعال سلف صالحین سے ثابت ہے۔

نیز گیارہویں شریف کی محفل اور دعا کے لیے کسی خاص جگہ یا وقت کی تعیین نہیں ہے ، بلکہ یہ کسی بھی وقت اور جگہ مثلاً مسجد، مدرسے، کسی کے گھر اور کسی بزرگ کے مزار پر بھی ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اپنے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا ان کے بارے میں ارشاد پاک ہے :

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ

ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو ان کے بعد آئے ، عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو ، جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ (پارہ 28،سورۃ الحشر ،آیت 10)

اس آیت کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ صرف اپنے لیے دعا نہ کرے، سلف کے لیے بھی کرے، دوسرے یہ کہ بزرگان دین خصوصاً صحابہ کرام و اہل بیت کے عرس، ختم، نیاز، فاتحہ اعلیٰ چیزیں ہیں کہ ان میں ان بزرگوں کے لیے دعا ہے۔ (تحت ھذہ الآیۃ،تفسیر نور العرفان)

بخاری شریف میں ہے:

ان رجلا قال للنبی صلی اللہ علیہ وسلم ان أمی افتلتت نفسھا و أظنھا لو تکلمت تصدقت فھل لھا أجر ان تصدقت عنھا قال نعم

ایک شخص نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں اچانک فوت ہو گئی ہے اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ کچھ بات کر سکتی، تو صدقہ کرتی۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں، تو کیا انہیں اجر ملے گا ؟ توآپ نے فرمایا :ہاں ملے گا۔(صحیح البخاری ، جلد1 ، صفحہ 186 ،مطبوعہ کراچی)

ردالمحتار میں ہے:

صرح علماء نا فی باب الحج عن الغیر بأن للانسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ أوصوما أو صدقۃ أو غیرھا کذا فی الھدایۃ

یعنی ہمارے علما نے باب الحج عن الغیر میں صراحت فرمائی ہے کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کر سکتا ہے ،نماز ہو ،روزہ ہو ، صدقہ ہو یا کچھ اور ۔ ایسا ہی ہدایہ میں ہے۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ، جلد 3 ، صفحہ 180 ، مطبوعہ پشاور )

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :” گیارہویں شریف اپنے مرتبہ فردیت میں مستحب ہے اور مرتبہ اطلاق میں کہ ایصال ثواب ہے ، سنت ہے اورسنت سے مراد سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور یہ سنت قولیہ مستحبہ ہے ، سنیوں میں کوئی اسے خاص گیارہویں تاریخ ہو نا شرعاً واجب نہیں جانتا اور جو جانے محض غلطی پر ہے ۔ ایصال ثواب ہر دن ممکن ہے اور کسی خصوصیت کے سبب ایک تاریخ کا التزام ، جبکہ اسے شرعاً واجب نہ جانے ، مضائقہ نہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر پیر کو نفلی روزہ رکھتے، کیا اتوار یا منگل کو رکھتے ، تو نہ ہوتا ؟ یا اس سے یہ سمجھا گیا کہ معاذاللہ ! حضور نے پیر کا روزہ واجب سمجھا ؟ یہی حکم تیجے اور چہلم کا ہے۔ (فتاوی رضویہ ، جلد9 ، صفحہ 605 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)

علامہ فاضل عبد القادر قادری بن محی الدین الصدیقی الاربلی رحمۃ اللہ علیہ(المتوفی 1315ھ) سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی تاریخِ وصال سے متعلق فرماتے ہیں :

و توفی فی لیلۃ الإثنین بعد صلاۃ العشاء احدی عشرۃ من ربیع الثانی سنۃ ۵۶۱ خمس مائۃ احدی و ستین و دفن بباب الأزج

سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا وصال پیر کی رات بعد نماز عشاء 11ربیع الثانی 561ھ کو ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی تدفین باب ازج میں ہوئی۔ (تفریح الخاطرفی مناقب الشیخ عبدالقادر،المنقبۃ التاسعۃ والستون فی وفاتہ، صفحہ 71)

حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے عرس سے متعلق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1052ھ) فرماتے ہیں : ہمارے ہندوستان میں حضور غوث پاک کایوم عرس 11ربیع الآخر مشہور ہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولاد و مشائخ میں متعارف ہے۔(ما ثبت من السنۃمترجم اردو ، صفحہ 167، اعتقاد پبلشنگ ھاؤس، دھلی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
16
قسم اور منت کے متعلق مسائل
نوکری ملنے پر درودِ پاک کی منت پوری کرنا ضروری ہے
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے منت مانتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اگر مجھے نوکری مل گئی، تو میں ایک ہزار مرتبہ درود پاک پڑھوں گا اور کچھ دن پہلے مجھے نوکری ملی ہے، تو کیا مجھ پر اس منت کو پورا کرنا لازم ہے یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ پر ایک ہزارمرتبہ درود پاک پڑھنے کی منت کو پورا کرنا لازم ہے۔

مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے شرعی منت کہ جس کا پورا کرنا شرعاً واجب ہوتا ہے، اس کی کچھ شرائط بیان کی ہیں کہ اگر وہ شرائط پائی جائیں، تو اس منت کو پورا کرنا لازم ہوتا ہے، ورنہ نہیں، ان شرائط کی تفصیل یہ ہے: (1) جس چیز کی منت مانی جائے وہ خود فی الحال یا فی المآل (آئندہ) شریعت کی طرف سے پہلے سے لازم نہ ہو۔ (2) جس چیز کی منت مانی جائے ،وہ خود بالذات عبادتِ مقصودہ ہو، یعنی کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔ (3) ایسی چیز کی منت مانی جائے کہ جس کی جنس سے کوئی واجب ضرور ہو۔

ان شرائط پرغورکیا جائے، تو درودِ پاک میں یہ تمام شرائط موجود ہیں کہ درود پاک عبادت مقصودہ بھی ہے، وہ خود فرض یا واجب بھی نہیں، بلکہ ایک مستحب کام ہے اور اس کی جنس سے فرض و واجب بھی موجود ہےکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پر عمر بھر میں کم از کم ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھنا فرض ہے۔ اسی بنا پر فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص درودِ پاک پڑھنے کی منت مانے تو یہ منت شرعاً لازم ہو جاتی ہے۔ نیز صورت مسئولہ میں آپ کی منت معلق تھی یعنی آپ نے اس منت کو نوکری ملنے کی شرط پر معلق کیا تھااور ایسی منت کا حکم یہ ہے کہ شرط پائے جانے پر اس کا پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ چونکہ آپ کو نوکری مل بھی گئی ہے، لہذا اب آپ پر ایک ہزار بار دورد پاک پڑھنا لازم ہے۔

نذرِ شرعی کو پورا کرنے کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: (وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ) ترجمۂ کنزا لعرفان: اور اپنی منتیں پوری کریں۔ (القرآن الکریم، پ 17، سورۃ الحج، آیۃ 29)

منت لازم ہونے کی شرائط کے متعلق فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: اعلم ان النذر لا یصح الا بشروط ثلاثۃ:احدھا:ان یکون الواجب من جنسہ شرعا والثانی : ان یکون مقصوداً لا وسیلۃ والثالث: ان لا یکون واجبا علیہ فی الحال او ثانی الحال“ ترجمہ: تُو جان لے! منت شرعی تین شرائط سے درست ہوتی ہے، ان میں سے ایک یہ کہ اس کی جنس سے کوئی شرعی واجب ہو۔ دوسری یہ کہ وہ عبادت، عبادت مقصودہ ہو، عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔ تیسری یہ کہ وہ فی الحال یا آئندہ خود واجب نہ ہو۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، کتاب الصوم، جلد3، صفحہ 431، مطبوعہ کوئٹہ)

ان شرائط کی روشنی میں درود پاک کی منت، شرعی منت ہے، جسے پورا کرنا لازم ہے، جیساکہ اس کی صراحت کے متعلق بحر الرائق میں ہے: و لو قال: لله عليّ أن أصلي على النبي عليه الصلاة و السلام في كل يوم كذا يلزمه“ ترجمہ: اور اگر کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مجھ پر روزانہ اتنی تعداد میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی ذات مبارکہ پر درود پاک پڑھنا لازم ہے تو اتنی تعداد میں درود پڑھنا اس پر لازم ہوگا۔ (البحر الرائق، جلد 4، صفحہ 322، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

دُرود پاک کی جنس سے فرض ہونے اور منت لازم ہونے کی علت کے متعلق رد المحتار میں ہے: لان من جنسہ فرضاً و ھو الصلاۃ علیہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مرۃ واحدۃ فی العمر“ ترجمہ:دُرود پاک کی منت اس لیے لازم ہو جاتی ہے ، کیونکہ اس کی جنس سے فرض موجود ہے اور وہ یہ کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات پر عمر بھر میں ایک بار درود پاک پڑھنا فرض ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الایمان، جلد 5، صفحہ 542، مطبوعہ کوئٹہ)

درود پاک کے عبادت ہونے کے متعلق القول البدیع میں ہے:عن وهب بن منبه، قال: الصلاة على النبي صلى اللہ عليه وسلم عبادة“ ترجمہ: حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایاکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پردرود بھیجنا عبادت ہے۔ (القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع، صفحہ 134، مطبوعہ دار الریان للتراث)

درود پاک کی منت کے متعلق الفقہ علی المذاہب الاربعۃ میں احناف کا یوں بیان ہوا کے موقف کے متعلق ہے: و كذا إذا نذر الصلاة على النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم فإنه يجب الوفاء به على الصحيح، لأنه من جنسها فرضًا وهو الصلاة عليه في العمر مرة ۔ ۔ ۔ ۔ فالضابط الكلي في صحة النذر: أن يكون المنذور عبادة مقصودة من جنسها فرض“ ترجمہ: اور اسی طرح اگر کسی نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پر درود پڑھنے کی منت مانی تو صحیح قول کے مطابق اس منت کو پورا کرنا بھی لازم ہے، کیونکہ اس کی جنس سے فرض موجود ہے اور وہ ایک مرتبہ پوری عمر میں حضور علیہ السلام پر درود پڑھنا ہے، تو منت کے صحیح ہونے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کی منت مانی وہ خود ایسی عبادت مقصودہ ہو جس کی جنس سے فرض ہو۔ (الفقہ علی المذاھب الاربعۃ، جلد 2، صفحہ 132، مطبوعہ دار الكتب العلمية)

معلق منت میں شرط پائی جانے کی صورت میں منت کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے،جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے: و ان كان معلقا بشرط نحو ان يقول: إن شفى اللہ مريضي، او ان قدم فلان الغائب فلله علي ان اصوم شهرا، او اصلي ركعتين، او اتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع“ ترجمہ: اگرکوئی شخص نذر کو کسی شرط پر معلق کردے مثلا یوں کہے: اگراللہ تعالیٰ میرے مریض کو شفا دے دے یا میرے غائب کو واپس لوٹا دےتو مجھ پر اللہ کے لیے ایک ماہ کے روزے رکھنا یا دو رکعتیں پڑھنا ، یا درہم کو صدقہ کرنا وغیرہ لازم ہےتو اس منت کو پورا کرنے کا وقت، شرط پائے جانے کا وقت ہے، شرط نہ پائی گئی تو منت کو پورا کرنا بالاجماع واجب نہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 93، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
17
حلال و حرام کے مسائل
بازو کے بال صاف کرنا کیسا ؟
سوال
اگر بازو پر بہت زیادہ بال آ جائیں تو کیا کوئی شخص وہ بال اتار سکتا ہے ؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جی ہاں! بازو پربہت زیادہ بال ہوں تو انہیں اتارنا جائز ہے، بلکہ بہت گھنے بال ہونے کی صورت میں انہیں اتارنابہتر ہے تاکہ وضو میں پانی کم خرچ ہو اور اچھی طرح جسم کو پانی پہنچ جائے۔اوراتارنے میں مونڈنے کے مقابلے میں مشین سے تراشنابہترہے کہ مونڈنے سے سخت ہوجاتے ہیں اورسب سے بہتروافضل نورہ( بال صفاپاوڈر) سے صاف کرناہے ۔
بہار شریعت میں ہے :" ہاتھ، پاؤں، پیٹ پر سے بال دور کرسکتے ہیں۔"(بہار شریعت ، ج 3، حصہ16، ص 585، مکتبۃ المدینہ)
فتاوی رضویہ میں ہے:" کلائیوں پر بال ہوں تو ترشوادیں کہ اُن کا ہونا پانی زیادہ چاہتا ہے اور مونڈنے سے سخت ہوجاتے ہیں اور تراشنا مشین سے بہتر کہ خوب صاف کردیتی ہے اور سب سے احسن وافضل نورہ ہے کہ ان اعضا میں یہی سنت سے ثابت۔"(فتاوی رضویہ، ج 1،حصہ 2،ص 1041،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
18
عقائد کے مسائل
نبی کریم ﷺ کو شاہِ مدینہ کہنا کیسا؟
سوال
کیا نبی پاک، حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم کو "شاہِ مدینہ" کہنا یا پکارنا جائز ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو "شاہِ مدینہ" کہہ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ سنی صحیح العقیدہ علمائے کرام ومشائخ عظام نے بھی اس لفظ کو اپنے اشعار وغیرہ میں استعمال کیا ہے۔ شاہ کا معنی ہے: "آقا، مالک۔" یوں شاہِ مدینہ کا معنی ہو گا: "مدینے کے آقا، مدینے کے مالک۔" اور یہ معنی بلا شبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر صادق آتا ہے۔
فیروز اللغات میں ہے ”شاہ: آقا۔ مالک“ (فیروز اللغات، صفحہ 882، فیروز سننز، لاہور)
(1) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ دیوان سالک میں لکھتے ہیں:
ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم
تو ہی کرم کردے تجھے شاہِ مدینہ کی قسم
(2) مولانا جمیل الرحمٰن رضوی علیہ الرحمہ قبالہ بخشش میں لکھتے ہیں:
شاہِ مدینہ طیبہ میں مجھ کو بلا تو لیں
لوٹوں گا خاکِ پاک پہ میں دَر کے سامنے
(3) امیر اہل سنت مولانا الیاس عطار قادری رضوی دام ظلہ العالی وسائل فردوس میں لکھتے ہیں:
واسطہ شاہِ مدینہ کا اے پیارے اللہ
دور عطارؔ سے دنیا کی محبت فرما
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
19
معملات ِاہلسنت
کیا غوث اعظم کہنا شرک ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جب ہم حضرت عبد القادر جیلانی کو غوث اعظم کہتے ہیں تو بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ شرک ہے، کیا یہ درست ہے؟
جواب
غوث کے معنی ”فریاد رس اور حاجت روا“ کے ہیں اور غوث اعظم کا معنی ”بڑا فریاد رس“ ہے۔ چونکہ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات ولایت کے اعلی مقام و مرتبے پر فائز ہے اور آپ سے دیگر اولیائے امت فیض پاتے ہیں، نیز آپ اپنے حلقے میں سب سے بڑھ کر فریاد رسی اور مدد کرنے والے ہیں، اس لیے آپ کو غوث اعظم کہا جاتا ہے، اور اس میں کوئی شرک کا پہلو نہیں؛ کیونکہ بلا شبہ محبوبانِ خدا رب تعالیٰ کی عطا سے مخلوق کی فریاد رسی اور حاجت روائی کرتے ہیں، یہی عقیدۂ اہل سنت ہے جو کہ قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے، لہٰذا سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو غوث اعظم کہنا ہرگز شرک نہیں، بلکہ یہ صدیوں سے علما و صلحا، مفسرین و محدثین اور عامۂ مسلمین میں رائج ہے۔ اسے شرک کہنا بالکل غلط، بلکہ اکابر علمائے دین اور عامۂ مسلمین کو کافر قرار دینے کے مترادف ہے جو کہ سراسر باطل و ناجائز اور گمراہی و بد دینی ہے۔

کسی شخص یا چیز کو فریاد رس و حاجت روا جاننا اس وقت شرک ہوگا جب اسے ذاتی طور پر بغیر عطائے الہی ایسا مانا جائے؛ کیونکہ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اور کوئی بھی مسلمان کسی غیر کے بارے میں ہرگز ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔ مسلمان اسی اعتقاد کے ساتھ اولیائے کرام کو غوث، دستگیر، داتا، مشکل کشا اور حاجت روا کہتے ہیں کہ وہ اللہ کریم کی عطا اور اس کی توفیق سے مدد گار ہیں اور وہ بارگاہِ ایزدی میں بہتر وسیلہ و واسطہ ہیں۔ حقیقی حاجت روائی و مدد صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، وہی قادر بالذات و فاعل حقیقی ہے، اور امداد و حاجت روائی کی نسبت ان اللہ والوں کی طرف محض مجازی ہوتی ہے، جس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ- وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ(4)﴾ ترجمہ کنز العرفان: تو بے شک اللہ خود ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں۔ (پارہ 28، سورۃ التحریم 66، آیت 4)

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ) لکھتے ہیں: ”اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے مددگار ہیں؛ کیونکہ اس آیت میں حضرت جبرئیل اور صالح مسلمانوں کو مولیٰ یعنی مددگار فرمایا گیا اور فرشتوں کو ظہیر یعنی معاون قرار دیا گیا، جہاں (قرآن پاک میں) غیر اللہ کی مدد کی نفی ہے وہاں حقیقی مدد مراد ہے، لہذا آیت میں تعارض نہیں۔“ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 895، فرید بکڈپو، دہلی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ) لکھتے ہیں: ”(ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ﴾ یعنی اے مسلمانو! تمہارا مددگار نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور وہ ایمان والے جو نماز قائم رکھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ رکوع کرنے والے ہیں۔(سورۃ المائدۃ، آیت 55) أقول (میں کہتا ہوں): یہاں اللہ اور رسول اور نیک بندوں میں مدد کو منحصر فرما دیا کہ بس یہی مددگار ہیں تو ضرور یہ مدد خاص ہے، جس پر نیک بندوں کے سوا اور لوگ قادر نہیں، عام مددگاری کا علاقہ تو ہر مسلمان کے ساتھ ہے۔ قال تعالٰی:﴿وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ﴾ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ (سورۃ التوبہ، آیت 71)حالانکہ خود ہی دوسری جگہ فرماتا ہے: ﴿مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ﴾ اللہ کے سوا کسی کا کوئی مددگار نہیں۔ (سورۃ الکہف، آیت 26) معالم میں ہے: (مَا لَهُمْ) أي: ما لأهل السموات والأرض (مِنْ دُوْنِهٖ) أي: من دون اللہ (مِنْ وَّلِیٍّ) ناصر (یعنی نہیں ہے ان کے لیے یعنی آسمان اور زمین والوں کے لیے سوا اُس کے یعنی سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی ولی یعنی مددگار۔) مخالف صاحبو! تمہارے طور پر معاذ اللہ کیسا کھلا شرک ہوا کہ قرآن نے خدا کی خاص صفت امداد کو رسول و صلحا کے لیے ثابت کیا، جسے قرآن ہی جا بجا فرما چکا تھا کہ یہ اللہ کے سوا دوسرے کی صفت نہیں مگر بحمد اللہ اہل سنت دونوں آیتوں پر ایمان لاتے، اور ذاتی اور عطائی کا فرق سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ بالذات مددگار ہے، یہ صفت دوسرے کی نہیں اور رسول و اولیا اللہ کے قدرت دینے سے مددگار ہیں، وللہ الحمد۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 30،صفحہ 420-421 بتغیر، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

المعجم الکبیر، الترغیب و الترہیب اور کنز العمال وغیرہ کی حدیث پاک ہے: عن ابن عمر، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن لله عز وجل خلقا خلقهم لحوائج الناس يفزع الناس إليهم في حوائجهم أولئك الآمنون من عذاب اللہ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ عزوجل کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں اس نے لوگوں کی حاجت روائی کے لیے پیدا کیا ہے، لوگ اپنی حاجتوں کے معاملے میں ان سے فریاد کرتے ہیں، وہی بندے اللہ کے عذاب سے امان میں ہیں۔ (المعجم الكبير للطبراني، جلد 12، صفحہ 358، حدیث 13334، مطبوعہ القاهرة)

جمع الجوامع للسیوطی اور کنز العمال وغیرہ میں مروی حدیث پاک میں ہے: يا موسى كن للفقير كنزا و للضعيف حصنا و للمستجير غيثا ترجمہ: اے موسیٰ! فقیر کے لیے خزانہ بن جاؤ، کمزور کے لیے قلعہ بن جاؤ اور پناہ مانگنے والے کے لیے غوث (یعنی فریاد رس و مددگار) بن جاؤ۔ (جمع الجوامع، جلد 3، صفحہ 233، حدیث 8714، مطبوعہ القاهرة)

علامہ ابو قاسم حسین بن محمد راغب اصفہانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 502ھ) لکھتے ہیں: ”‌الغوث يقال في النصرة“ ترجمہ: غوث امداد و حمایت (کے معنی) میں کہا جاتا ہے۔ (المفردات في غريب القرآن، صفحہ 617، دار القلم، بيروت)

اردو لغت میں ہے: ”غوث: فریاد کو پہنچنے والا، فریاد رس، حاجت روا، ولایت الہی کا ایک درجہ، ولیِ کامل۔ غوث اعظم: بڑا فریاد رس، ولیوں کا سردار، مراد: شیخ عبد القادر جیلانی۔“ (اردو لغت تاریخی اصول پر، جلد 13، صفحہ 762-763 ملتقطاً، اردو لغت بورڈ، کراچی)

محدث کبیر علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ) لکھتے ہیں:

القطب و يقال له الغوث هو الواحد الذي هو محل نظر اللہ تعالى من العالم في كل زمان، أي: نظرا خاصا يترتب عليه إفاضة الفيض و استفاضته، فهو الواسطة في ذلك بين اللہ تعالى وبين عباده، فيقسم الفيض المعنوي على أهل بلاده بحسب تقديره و مراده... قلت: فهم الأقطاب في الأقطار، يأخذون الفيض من قطب الأقطاب المسمى بالغوث الأعظم، فهم بمنزلة الوزراء تحت حكم الوزير الأعظم

ترجمہ: قطب جسے غوث بھی کہا جاتا ہے، وہ واحد ہستی ہوتی ہے جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت کا مرکز ہوتی ہے، یعنی ایسی خاص نظر کا جس پر فیض جاری ہونے اور پھیلنے کا دار و مدار ہوتا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان اس فیض کے پہنچنے میں واسطہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے اندازے اور چاہت کے مطابق اپنے بلاد والوں پر معنوی فیض تقسیم کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں: پس وہ تمام اقطاب جو اطراف عالم میں ہیں، وہ قطب الأقطاب سے فیض حاصل کرتے ہیں، جسے غوث اعظم کہا جاتا ہے، اور وہ سب بحیثیت ان وزرا کے ہوتے ہیں جو وزیرِ اعظم کے زیرِ حکم ہیں۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الفتن، باب أشراط الساعة، جلد 8، صفحہ 3442، دار الفكر، بيروت)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی لکھتے ہیں:

مولانا و سیدنا تاج المفاخر الذي خضع له رقاب الاكابر القطب الربانی و الغوث الاعظم الصمداني سلطان الاولياء و العارفين الباز الاشهب و السيف الاشطب و الطراز المذهب السيد الشريف شيخ الاسلام محي الملة و الدين عبد القادر الحسني و الحسيني الجيلاني قدس اللہ روحه و فتح علينا فتوحه ترجمہ واضح ہے۔ (نزهة الخاطر الفاتر، صفحہ 9، موسسة الشرف، لاھور)

شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1052ھ) لکھتے ہیں: سيدنا و مولانا الغوث الأعظم محيي الدين أبو محمد عبد القادر الجيلاني رحمه اللہ ترجمہ واضح ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، كتاب الجنائز،جلد4،صفحہ 43، دار النوادر، دمشق)

اسی طرح علامہ ابو الفداء اسماعیل حقی (سال وفات: 1127ھ)،

علامہ ابو الحسن محمد بن عبد الہادی ٹھٹھوی (سال وفات: 1138ھ)،
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی مظہری (سال وفات: 1225ھ)،

علامہ سید محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (سال وفات: 1252ھ)،

علامہ شہاب الدین محمود بن عبد اللہ آلوسی (سال وفات: 1270ھ)،

علامہ ابو حسنات محمد عبد الحی لکھنوی (سال وفات: 1304)،

علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی (سال وفات: 1350ھ) وغیرہم کثیر علمائے دین نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو غوث اعظم، غوث الثقلین اور غوث اکبر جیسے القابات سے ذکر کیا ہے، حتی کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لیے ان الفاظ کا استعمال ان حضرات نے بھی کیا جنہیں مخالفین اپنا پیشوا و مقتدا مانتے ہیں۔

چنانچہ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ) لکھتے ہیں:” حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ضرور دستگیر ہیں...تمام مسلمانوں کی زبانوں پر حضور کا لقب "غوث اعظم" ہے، یعنی سب سے بڑے فریاد رس۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور شاہ عبد العزیز صاحب درکنار خود پیشوائے مخالفین نے جا بجا حضور کو غوث اعظم یاد کیا ہے، یہ فریاد رسی و دستگیری نہیں تو کیا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 105- 106بتغیر قلیل، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”استعانت حقیقیہ یہ کہ اسے قادر بالذات و مالک مستقل و غنی بے نیاز جانے کہ بے عطائے الٰہی وہ خود اپنی ذات سے اس کام کی قدرت رکھتا ہے، اس معنی کا غیر خدا کے ساتھ اعتقاد ہر مسلمان کے نزدیک شرک ہے۔ نہ ہر گز کوئی مسلمان غیر کے ساتھ اس معنی کا قصد کرتا ہے، بلکہ واسطۂ وصول و فیض و ذریعہ و وسیلۂ قضائے حاجات جانتے ہیں اور یہ قطعاً حق ہے۔ خود رب العزت تبارک وتعالیٰ نے قرآن عظیم میں حکم فرمایا: ﴿وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ﴾ اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 303، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

نیز مزید فرماتے ہیں: ”استعانت بالغیر وہی ناجائز ہے کہ اس غیر کو مظہر عونِ الٰہی نہ جانے، بلکہ اپنی ذات سے اعانت کا مالک جان کر اس پر بھروسا کرے، اور اگر مظہر عونِ الٰہی سمجھ کر استعانت بالغیر کرتا ہے تو شرک و حرمت بالائے طاق، مقامِ معرفت کے بھی خلاف نہیں، خود حضرات انبیا و اولیا علیہم الصلوۃ و السلام نے ایسی استعانت بالغیر کی ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 325، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ) لکھتے ہیں: ”معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے، جبکہ اسناد (نسبت) کرنے والا غیر خدا کو مستقل فی التصرف اعتقاد نہ کرتا ہو۔ اسی لیے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ دوا نافع ہے، یہ مضر ہے، یہ در دکی دافع ہے، ماں باپ نے پالا، عالم نے گمراہی سے بچایا، بزرگوں نے حاجت روائی کی وغیرہ، سب میں اسناد مجازی ہے، اور مسلمان کے اعتقاد میں فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب وسائل (ہیں)۔“ (تفسیر خزائن العرفان، صفحہ 92، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: اس بارے میں مزید تفصیلی دلائل اور معلومات کے لیے علمائے اہل سنت کی کتب، خصوصاً سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رسالے "برکات الامداد لاھل الاستمداد " کا مطالعہ فرمائیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
20
ان شاء اللہ اور انشاء اللہ ان دونوں میں کون سا درست ہے؟
سوال
ان شاء اللہ اور انشاء اللہ ان دونوں میں کون سا درست ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

لفظ ان اورلفظِ شاء کوملاکرلکھنا یعنی یوں انشاء اللہ یہ بھی درست ہے اورانہیں جدا جداکرکے لکھنایعنی یوں ان شاء اللہ یہ بھی درست ہے، ہاں بہتریہی ہے کہ جداجدا کرکے لکھاجائے، کہ اصل طریقہ یہی ہے، بقیہ سوال میں جو معنی بیان کیا ہے، وہ ہرگز درست نہیں اور نہ ہی ایسے کھینچ تان کر معنی بنانا درست ہے ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
21
کیا شرعی مسائل کے حل کے لیے ChatGPT ایپ کا استعمال کرنا صحیح ہے؟
سوال
کیا شرعی مسائل کے حل کے لیے ChatGPT ایپ کا استعمال کرنا صحیح ہے؟
جواب
قرآن و حدیث کی تفہیم و تشریح، دینی احکام اور شرعی مسائل کے حل کے لیے مستند علمائے کرام و مفتیان کرام سے رجوع کرنا ہی ضروری ہے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام پراعتمادکرنے کی اجازت نہیں ہے کہ یہ غیرمعتبرذرائع ہیں۔ اور ان کے غیرمعتبر ہونےکاخود ان کوبھی اعتراف ہے،اسی لیے ChatGPT اور دیگر AI پلیٹ فارمز خود یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم شرعی فتویٰ دینے کے اہل نہیں، ہمارے جوابات حتمی یا معتبر دینی حکم کے طور پر نہ لیے جائیں۔ حتمی فیصلہ اور فتوی کے لیے ماہر مفتی صاحب سے رابطہ کریں۔

نیز تجربات اور مشاہدات سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ چیٹ جی پی ٹی(ChatGPT) اور اس جیسے دیگر اے آئی ماڈلز میں ہر طرح کا مواد (رطب و یابس) ایک ہی پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا ہے، جہاں حق و باطل، صحیح و غلط، معتبر و غیر معتبر کے درمیان کوئی امتیازنہیں ۔ ان کے ڈیٹا میں گمراہ فرقوں مثلاً قادیانی، جبریہ ،قدریہ اور باطنیہ وغیرہ اور اسلام دشمن قوتوں (یہود و نصاریٰ، ملحدین وغیرہ) کا تیار کردہ مواد بھی شامل ہے، جو اپنی باطل اور مسموم تفاسیر و تاویلات کو علمی لبادہ پہنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلاتے ہیں۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ جب کوئی شخص ان ایپس سے قرآنِ کریم کی تفسیر یا حدیثِ مبارکہ کی شرح وغیرہ پوچھے تو یہ ان گمراہوں کی غلط اور تحریف شدہ آرا کو اصل تفسیروغیرہ کے طور پر پیش کر دیں، اور یوں سادہ لوح افراد گمراہی وغیرہ کے گڑھے میں جا گریں۔

نیز شرعی مسائل کے صحیح حل کاانحصار مسئلے کی مکمل نوعیت وتفصیل، حالاتِ حاضرہ، زمان و مکان، فقہی مسالک (حنفی، شافعی، حنبلی، مالکی) کے فرق اور معتبر دینی ماخذ سے رجوع پر ہوتا ہے، جو ایک مستند عالمِ دین یا مفتی ہی کرسکتا ہے،جبکہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر AI ایپس صرف پہلے سے موجود ڈیٹا پر مبنی جوابات دے سکتے ہیں، شرعی مسائل کی گہرائی، تفصیلات، اور معتبر دینی حوالے سمیت تمام پہلو سمجھ کر شرعی مسائل کا حل دینے سے قاصر ہیں۔ لہذا شرعی مسائل کے حل کے لیے چیٹ جی پی ٹی یا اس جیسے دیگر اے آئی پلیٹ فارمز پر اعتماد کرنے کی ہرگزاجازت نہیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ دین سیکھنا انتہائی نازک معاملہ ہے، اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ علم ،دین ہے، غور سے دیکھو تم کس سے حاصل کر رہے ہو؟

قرآن پاک میں ہے

﴿فَسْــٴَلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾

ترجمہ کنز العرفان: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔ (القرآن، سورة النحل، پارہ 14، آیت: 43)

صراط الجنان میں ہے ”اس آیت کے الفاظ کے عموم سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس مسئلے کا علم نہ ہو اس کے بارے میں علماء کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔ (صراط الجنان، جلد 05، صفحہ 320، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

صحیح مسلم میں امام محمد ابن سیرین علیہ الرحمہ کا فرمان ہے:

ان ھذا العلم دین،فانظروا عمن تاخذون دینکم

یعنی: بے شک یہ علم تمہارا دین ہے، تو غور سے دیکھو تم کس سے اپنا دین حاصل کررہے ہو۔ (صحیح مسلم، جلد 01، صفحہ 14، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس کے تحت فرماتے ہیں: ”علم شریعت علم دین جب بنے گا جب سکھانے والا استاد عالم دین ہوگا، بے دین عالم سے حاصل کیا ہوا علم بےدینی ہی دے گا، آج لوگ بے دینوں سے تفسیروحدیث پڑھ کربے دین ہورہے ہیں، فرمان کے ساتھ فیضان ضروری ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 01، صفحہ 228، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

سنن ابی داؤد میں ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: من أفتي بغير علم كان إثمه على من أفتاه

یعنی: حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا :جس نے بِغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 03، صفحہ 321، حدیث: 3657، المكتبة العصرية، بيروت)

حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جو شخص عُلَماء کو چھوڑ کر جاہِلوں سے مسئلہ پوچھے اور وہ غَلَط مسئلہ بتائیں تو (بتانے والا تو گنہگار ہے ہی) پوچھنے والا بھی گناہ گار ہوگا کہ یہ عالِم کو چھوڑ کر اس کے پاس کیوں گیا، نہ یہ پوچھتا نہ وہ غَلَط بتاتا۔۔۔ دوسرے یہ کہ جس شخص کو غَلَط فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔۔۔ خلاصہ یہ ہے کہ بے علم کو مسئلۂ شرعی بیان کرنا سخت جُرم ہے۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد 01، صفحہ 212، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
22
بے جان چیزوں پر لعنت کرنا کیسا ہے؟
سوال
بے جان چیزوں پر لعنت کرنا کیسا ہے؟
جواب
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بے جان چیزوں کو بھی لعنت کرنا، جائز نہیں ، ہوا کو لعنت کرنے کی ممانعت، تو حدیث کی کئی کتب میں موجود ہے ۔

مشکوۃ شریف میں ترمذی شریف کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: ”أن رجلا لعن الريح عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال: لا تلعنوا الريح فإنها مأمورة وإنه من لعن شيئا ليس له بأهل رجعت اللعنة عليه “یعنی ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوا پر لعنت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہوا پر لعنت نہ کرو ، یہ تو زیر فرمان ہے اور جو کسی ایسی چیز کو لعنت کرے ، جو اس کے لائق نہ ہوتو لعنت خود کرنے والے پر لوٹتی ہے ۔(مشکوۃ المصابیح مع مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 565۔566، مطبوعہ:بیروت)

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں زبان کی آفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” الآفة الثامنة اللعن إما لحيوان أو جماد أو إنسان وكل ذلك مذموم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم المؤمن ليس بلعان“ یعنی آٹھویں آفت:لعنت کرنا ہے حیوان، جمادات یا انسان پر اور یہ سب مذموم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مومن لعنت نہیں کرتا۔(احیاء علوم الدین ، جلد3، صفحہ 151، مطبوعہ:بیروت)

تکملہ رد المحتار میں ہے : ”وكثيرا ما يلعنون الدابة وبائعها فلا يجوز لعن الدابة وغيرها من الجماد، وقد ورد التصريح بالنهي عن اللعن“یعنی کئی لوگ جانوروں اور ان کے بیچنے والوں پر لعنت کرتے ہیں ، پس چوپائے اور دیگر جمادات پر لعنت کرنا جائز نہیں اور لعنت سے ممانعت پر صراحت بھی وارد ہے۔(قره عيون الأخيار لتكملة رد المحتار، جلد11، صفحہ 188، مطبوعہ:پشاور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کل مسائل: 22